اب جی میں ہے کچھ ایسا ، خود ہی سے مکر جائیں

محمد ریحان قریشی — جولائی 20، 2016 12:02 شام
آجاؤ ذرا بہرے : مفعول مفاعیلن
،،،آسودگی خاطر : مفعول مفاعیلن
ریحان بھیا ہم نے اس مصرع کو ایسے کہا ہے عین ممکن ہے کہ ہماری قرات غلط ہو آپ رہنمائی فرمائیں
اور ناشناس کے ساتھ تحسین تھا شاید
سکوتِ ناشناس قدرِ شعر را می فزاید۔
عروضی اعتبار سے تو مصرع درست ہے مگر چونکہ بحر دو ٹکڑوں میں ہے۔
اس لیے ایک ٹکڑا آجاؤ ذرا بہرے اچھا نہیں لگتا۔
عام طور پر اس بحر میں ایک مصرعے میں دو مختصر جملے رکھے جاتے ہیں جیسے
اب جی میں ہے کچھ ایسا ، خود ہی سے مکر جائیں​
یا پھر میں یا کو جیسے الفاظ بحر کے دو ٹکڑوں کے درمیان رکھے جاتے ہیں جیسے
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 12:06 شام
آجاؤ ذرا بہرِ آسودگیِ خاطر
دو پل کو سہی ابھریں پھر ڈوب کے مر جائیں
مصرع swap کر کے دیکھیں
مزید براں ، "مانند خس و خاشاک راہوں میں بکھر جائیں " ، اس میں خاشاک کی "ک " بحر میں نہیں آ رہی .
آداب المی صاحبہ آپ مصرع تجویز فرما دیجئے
اور خس و خاشاک کے ک پر آپ کو ایراد کا حق حاصل ہے لیکن ہم نے سنا تھا کہ آخری رکن میں ایک ہجائے کوتاہ بڑھایا جا سکتا ہے یہ بحر چونکہ دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے لہذا درمیان میں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے ایسا ہمارا خیال ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے
محمد ریحان قریشی — جولائی 20، 2016 12:07 شام
آجاؤ ذرا بہرِ آسودگیِ خاطر
دو پل کو سہی ابھریں پھر ڈوب کے مر جائیں
مصرع swap کر کے دیکھیں
مزید براں ، "مانند خس و خاشاک راہوں میں بکھر جائیں " ، اس میں خاشاک کی "ک " بحر میں نہیں آ رہی .
چونکہ بحر دو ٹکروں میں ہے اس لیے عملِ تسبیغ کے ذریعے دونوں مفاعیلن کو مفاعیلان کیا جا سکتا ہے۔
(متقارب سالم یا ہزج سالم میں عملِ تسبیغ روانی کو مجروح کرتا ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہے)
محمد تابش صدیقی — جولائی 20، 2016 12:08 شام
اس لیے ایک ٹکڑا آجاؤ ذرا بہرے اچھا نہیں لگتا۔
اتنا جملہ تو ویسے بھی کسی کو اچھا نہیں لگے گا۔ :p
آجاؤ ذرا بہرے
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 12:12 شام
اتنا جملہ تو ویسے بھی کسی کو اچھا نہیں لگے گا۔ :p
آجاؤ ذرا بہرے
اب تو واقعی کچھ سوچنا پڑے گا تابش بھیا :)
La Alma — جولائی 20، 2016 12:12 شام
آداب المی صاحبہ آپ مصرع تجویز فرما دیجئے
اور خس و خاشاک کے ک پر آپ کو ایراد کا حق حاصل ہے لیکن ہم نے سنا تھا کہ آخری رکن میں ایک ہجائے کوتاہ بڑھایا جا سکتا ہے یہ بحر چونکہ دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے لہذا درمیان میں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے ایسا ہمارا خیال ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے

آجاؤ ذرا بہرِ آسودگیِ خاطر
دو پل کو سہی ابھریں پھر ڈوب کے مر جائیں
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 12:14 شام
آجاؤ ذرا بہرِ آسودگیِ خاطر
دو پل کو سہی ابھریں پھر ڈوب کے مر جائیں
دو پل کے لئے ابھریں پھر ڈوب کے مر جائیں
دوسرے پر بعد میں سوچتے ہیں
نور وجدان — جولائی 20، 2016 1:21 شام
شکریہ استانی صاحبہ لیکن اپنی تکبندیاں اصلاحِ سخن میں پوسٹ کرنے کا مقصد داد سمیٹنا کبھی نہیں رہا نقد و نظر سے نوازیں

میرے پاس نقد و نظر کے لیے ایسا کچھ خاص نہیں ہے ! اگر کچھ ہوتا تو بیٹھی شاعری کر رہی ہوتی
نوید خان — جولائی 21، 2016 11:52 صبح
ماشاءاللہ بھائی۔ بہت عمدہ لکھا ہے آپ نے۔ ڈھیروں داد۔
محمدابوعبداللہ — جولائی 21، 2016 12:11 شام
دو پل کے لئے ابھریں پھر ڈوب کے مر جائیں

ہمارے ہاں اسے کہتے ہیں او کالی زبان والے منہ بند کر
عباد اللہ — جولائی 21، 2016 12:27 شام
ہمارے ہاں اسے کہتے ہیں او کالی زبان والے منہ بند کر
:)
عباد اللہ — جولائی 21، 2016 12:27 شام
ماشاءاللہ بھائی۔ بہت عمدہ لکھا ہے آپ نے۔ ڈھیروں داد۔
بہت شکریہ پیارے بھائی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8-%D8%AC%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%D8%8C-%D8%AE%D9%88%D8%AF-%DB%81%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%D9%85%DA%A9%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA.91042/page-2