سکوتِ ناشناس قدرِ شعر را می فزاید۔
عروضی اعتبار سے تو مصرع درست ہے مگر چونکہ بحر دو ٹکڑوں میں ہے۔
اس لیے ایک ٹکڑا آجاؤ ذرا بہرے اچھا نہیں لگتا۔
عام طور پر اس بحر میں ایک مصرعے میں دو مختصر جملے رکھے جاتے ہیں جیسے
اب جی میں ہے کچھ ایسا ، خود ہی سے مکر جائیں
یا پھر میں یا کو جیسے الفاظ بحر کے دو ٹکڑوں کے درمیان رکھے جاتے ہیں جیسےیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے