گزرا تیری گلی سے تو بیمار کی طرح
پلٹا تیری گلی سے تو بہار کی طرح
لوٹا نہ پهر کبھی میں آشیانے پر اپنے
لگی تیری صدا مجھے آزار کی طرح
اسے بھی پیار ہے جس سے انمول تو ہوگا
دکھتا نہیں مگر کوئی اپنے یار کی طرح
میں بھولتا نہیں کبھی روزگار کو اپنے
تمہاری یاد کو اپنایا ہے روزگار کی طرح
مجھے تو شوق تھا وہ جن کے وصل کا خٹک
کیوں گر گیا ہے ہم پہ وہ دیوار کی طرح
پلٹا تیری گلی سے تو بہار کی طرح
لوٹا نہ پهر کبھی میں آشیانے پر اپنے
لگی تیری صدا مجھے آزار کی طرح
اسے بھی پیار ہے جس سے انمول تو ہوگا
دکھتا نہیں مگر کوئی اپنے یار کی طرح
میں بھولتا نہیں کبھی روزگار کو اپنے
تمہاری یاد کو اپنایا ہے روزگار کی طرح
مجھے تو شوق تھا وہ جن کے وصل کا خٹک
کیوں گر گیا ہے ہم پہ وہ دیوار کی طرح