اصلاح درکار ہے

محمد ریحان قریشی — مارچ 8، 2017 8:52 صبح
ریحان، واللہ اس تبصرے میں تم مراد نہ تھے۔ بلکہ کوئی بھی خصوصاً مراد نہ تھا۔ ایک عمومی بات تھی جس کی صداقت سے تم خود بھی اچھی طرح واقف ہو۔ تم جانتے ہو میرے دل میں تمھاری کتنی قدر ہے۔ ہاں، مجھے شرمندہ کرنے کی ٹھان لو تو الگ بات ہے۔ :sneaky::sneaky::sneaky:
امان اللہ بھائی کی شاعری میں کچھ زیادہ ہی تبدیلی آ گئی ہے اس لیے ایسا کہنا ضروری سمجھا۔
امان زرگر — مارچ 8، 2017 10:00 صبح
اف اللہ! یہ تبدیلی مثبت ہے یا منفی؟
امان اللہ بھائی کی شاعری میں کچھ زیادہ ہی تبدیلی آ گئی ہے اس لیے ایسا کہنا ضروری سمجھا۔
امان زرگر — مارچ 8، 2017 10:08 صبح
شاید کہ ہماری پرواز تخیل بھی کبھی اس منزل پہ پہنچے کہ سر راحیل فاروق صاحب بھی اسے فابل توجہ سمجھیں
محمد ریحان قریشی — مارچ 8، 2017 10:27 صبح
اف اللہ! یہ تبدیلی مثبت ہے یا منفی؟
ہنگامۂ زبوبیء ہمت ہے انفعال
مثبت ہے مگر اس سے آپ کا اصل جوہر کھو گیا ہے۔
امان زرگر — مارچ 8، 2017 10:44 صبح
ہنگامۂ زبوبیء ہمت ہے انفعال
مثبت ہے مگر اس سے آپ کا اصل جوہر کھو گیا ہے۔
ارے جناب تو کیا ہوا آپ نے مرض تشخیص کر لی۔۔۔۔ امید ہے علاج بھی تجویز ہو سکے گا. پرہیز جو بتائیں گے اس پہ بھی شوگر کے مریض کی طرح عمل کر لیں گے.
محمد ریحان قریشی — مارچ 8، 2017 11:10 صبح
ارے جناب تو کیا ہوا آپ نے مرض تشخیص کر لی۔۔۔۔ امید ہے علاج بھی تجویز ہو سکے گا. پرہیز جو بتائیں گے اس پہ بھی شوگر کے مریض کی طرح عمل کر لیں گے.
تشخیص کہاں جناب، اسے بس میری رائے سمجھیے۔
امان زرگر — مارچ 8، 2017 11:27 صبح
تشخیص کہاں جناب، اسے بس میری رائے سمجھیے۔
اگلی غزل میں آپ کی رائے پہ عمل کروں گا جناب
امان زرگر — مارچ 8، 2017 2:44 شام
مگر اب اس غزل کو تو درست کروا دیں سر محمد ریحان قریشی
امان زرگر — مارچ 9، 2017 4:13 صبح
جادہ پیما ہے کاروان بہار
غمزۂ گل جنوں سے ہے دوچار
سر راحیل فاروق آپ کی آرا درکار ہے اس شعر پہ. شاید کہ شعر اتنا اعلی نہیں مگر امید ہے آپ شفقت فرمائیں گے
محمد وارث — مارچ 9، 2017 4:34 صبح
جادہ پیما ہے کاروان بہار
غمزۂ گل جنوں سے ہے دوچار
کاروانِ بہار اگر کوچ کر رہا ہے تو پھر دوسرے مصرعے میں اس کا تلازمہ ضروری ہے، "غمزۂ گُل" کو بدل کر دیکھیں، شاید "نکہتِ گُل" سے کچھ واضح ہو
جادہ پیما ہے کاروان بہار
نکہتِ گل جنوں سے ہے دوچار
برگِ گُل کو بھی لایا جا سکتا ہے
جادہ پیما ہے کاروان بہار
برگِ گل اب جنوں سے ہے دوچار
گو برگِ گُل میں تنافر بھی ہے اور معروف بھی شاید گل برگ ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔خیر :)
امان زرگر — مارچ 9، 2017 5:08 صبح
کاروانِ بہار اگر کوچ کر رہا ہے تو پھر دوسرے مصرعے میں اس کا تلازمہ ضروری ہے، "غمزۂ گُل" کو بدل کر دیکھیں، شاید "نکہتِ گُل" سے کچھ واضح ہو
جادہ پیما ہے کاروان بہار
نکہتِ گل جنوں سے ہے دوچار
برگِ گُل کو بھی لایا جا سکتا ہے
جادہ پیما ہے کاروان بہار
برگِ گل اب جنوں سے ہے دوچار
گو برگِ گُل میں تنافر بھی ہے اور معروف بھی شاید گل برگ ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔خیر :)
نکہت گل مطلب پھولوں کی خوشبو
جادہ پیما ہے کاروان بہار
نکہتِ گل جنوں سے ہے دوچار
شکر گرار ہوں سر
امان زرگر — مارچ 9، 2017 8:14 صبح
سر راحیل فاروق کی بات میں کافی دم ہے کہ میری اصلاح سے شاعر کا اصلی جوہر ختم ہو جاتا ہے۔
اس بات کو تسلیم کرنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ شاعری کی بیشتر ظاہری خوبیاں جاننے کے باوجود جو چیز شعر کے عام یا خاص ہونے کا تعین کرتی ہے اس سے میں بے خبر ہوں۔ مجھے خیال پردازی اور ثقالت نے متاثر کیا اس لیے مجھے اسلوب کی سمجھ نہیں۔
اور سب سے بڑھ کر میرا مطالعہ نہایت قلیل ہے۔
اگر عروض، قوافی وغیرہ سے متعلق اگر کسی رہنمائی کی ضرورت ہے تو میں حاضر ہوں مگر اشعار پر میری رائے اور اصلاح آپ کے لیے شاید مفید ثابت نہ ہو۔
آپ کی بیان کردہ کچھ اصطلاحات وضاحت طلب ہیں مہربانی فرما کر کوئی ان کی وضاحت کر دےکہ مجھ کم علم کے علم میں اضافہ ہو سکے
1. شعر یا شاعری کی ظاہری خوبیاں
2. شعر کےعام یا خاص ہونے کا تعین کرنے والے عوامل
3. خیال پردازی
4. ثقالت
5.اسلوب
محمد ریحان قریشی — مارچ 9، 2017 8:43 صبح
آپ کی بیان کردہ کچھ اصطلاحات وضاحت طلب ہیں مہربانی فرما کر کوئی ان کی وضاحت کر دےکہ مجھ کم علم کے علم میں اضافہ ہو سکے
1. شعر یا شاعری کی ظاہری خوبیاں
2. شعر کےعام یا خاص ہونے کا تعین کرنے والے عوامل
3. خیال پردازی
4. ثقالت
5.اسلوب
ظاہری خوبیوں میں چستیء بندش، مناسبتِ الفاظ، بلندیء مضمون، خوبصورت طرزِ ادا وغیرہ شامل ہیں۔
ان عوامل کی مجھے خبر نہیں۔ اور کوئی معروضی پیمانہ بھی نہیں۔
خیال پردازی یعنی بلند خیالی۔ مرزا غالب کا شعر دیکھیں
؎
ذرہ ذرہ ساغرِ مے خانۂ نیرنگ ہے
گردشِ مجنوں بہ چشمک ہائے لیلیٰ آشنا
ثقالت یعنی بھاری ہونے کی صفت۔ اس سے مراد یہاں مشکل پسندی ہے۔
کسی شاعر کا منفرد طرزِ شاعری اسلوب کہلاتا ہے۔
الف عین — مارچ 9، 2017 9:03 صبح
ابتدا میں ضرورت ہی زہن میں تھا لیکن درست استعمال نہیں کر پا رہا تھا. ضرورت کے مترادفات متبادل کے طور پر استعمال کرنا زہن میں آیا مگر ضرورت کا ہم معنی لفظ یاد نہ آیا تو روا ہی مناسب لگا
.
داغِ لالہ کو کب طلب مرہم
دلِ عاشق کہاں بھلا بیمار
لیکن 'کب طلب' کچھ موزوں نہ لگیں شاید...‎
سر الف عین
یہ سوالیہ ہو جائے تو لطف نڑھ جائے۔ میرا ایسا خیال ہے،۔ جیسے
داغ لالہ کو حاجتِ مرہم؟
امان زرگر — مارچ 9، 2017 9:49 صبح
یہ سوالیہ ہو جائے تو لطف نڑھ جائے۔ میرا ایسا خیال ہے،۔ جیسے
داغ لالہ کو حاجتِ مرہم؟
آپ کا خیال بلکہ حکم بسر و چشم قبول سر۔۔۔۔
داغ لالہ کو حاجتِ مرہم؟
دلِ عاشق کہاں بھلا بیمار
دوسرے مصرے کے آخر میں بھی سوالیہ نشان ْ؟ ْ لگے گا کیا سر؟
الف عین — مارچ 9، 2017 9:53 صبح
دوسرا مصرع
دلِ عاشق کہاں بھلا بیمار!
استمراری بہترین ہو گا
امان زرگر — مارچ 9، 2017 10:01 صبح
جادہ پیما ہے کاروانِ بہار
نکہتِ گل جنوں سے ہے دوچار
باندھ ڈالا ہے دل نے رختِ سفر
غمِ جاناں سے ہو گیا بیزار
مشقِ تازہ ہے اک رواں دل میں
دھڑکنیں خوں زدہ لکھیں اشعار
عشقِ سوزاں کی پھر بحث کیجو
کچھ سنوارو اگر لبِ گفتار
داغ لالہ کو حاجتِ مرہم؟
دلِ عاشق کہاں بھلا بیمار!
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد وارث
سر راحیل فاروق
محترمہ La Alma
امان زرگر — مارچ 9، 2017 10:17 صبح
دوسرے اشعار میں بھی کہیں رموز اوقاف کی ضرورت ہے تو اساتذہ شفقت فرماتے ہوئے رہنمائی فرمائیں. نوازش ہو گی
الف عین — مارچ 9، 2017 4:10 شام
دلِ عاشق کہاں بھلا بیمار!
یا
دلِ عاشق بھلا کہاں بیمار!
کون سا بہتر ہو گا؟
امان زرگر — مارچ 9، 2017 4:26 شام
دلِ عاشق کہاں بھلا بیمار!
یا
دلِ عاشق بھلا کہاں بیمار!
کون سا بہتر ہو گا؟
سر بہت مشکل سوال ہے.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92.95193/page-2