اصلاحِ سخن میں اتنی رونق لگانا بھی اتنا آسان کام نہیں ، جتنی اس غزل نے لگائی ہے۔
حالانکہ وہ اپنا موقف واضح الفاظ میں دے چکے۔
اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا دوسرے کی آنکھ کا تنکا دیکھ لیتے ہیں۔جى حضرت ! ان شاءاللہ الرحمٰن !
کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ مکھی صرف گند پر ہی بیٹھ سکتی ہے۔
یہ بھی کسی نے بہت خوب کہا ہے کہ
ڈاکٹر صاحب آپ سے تو ایسے الفاظ کی توقع نہیں تھی

exactly
اور بھی کچھ کہنا ہو تو شوق سے کہیں ! شیرہ میں نے نہیں کسی اور نے لگایا ہے ۔ آپ شیرہ لگانے والے کو کچھ کیوں نہیں کہتے ؟
زبان درازی اگر غلطی سے ہو جائے تو گوارا کی جاسکتی ہے۔ بار بار کی جائے اور ڈنکے کی چوٹ پر کی جائے تو آئینہ دکھانا ضروری ہو جاتا ہے۔
واہ صاحب! کیا شانِ بے نیازی ہے ۔۔۔!
.....
ٹھیک ہے۔