استادِ محترم کے الفاظ میں
اور جب پوچھا گیا کہ
تابش بھائی، اقوال اساتذہ کی ضرورت تو تب ہوگی جب کوئی اصولی اختلاف ہو۔ میں نے تو اس اصول کا انکار کیا ہی نہیں بلکہ پہلے مراسلے میں ہی لکھا تھا کہ ایسا کرنا غیر مستحسن ہے۔
اردو کے لسانی و صوتی میں مزاج میں کبھی کبھار عربی و فارسی کے حروف کا اسقاط روانی کو مجروح نہیں کرتا۔ میری اس بات کی تائید مکرمی ظہیر بھائی کے اس مراسلے سے بھی ہوتی ہے۔
بھائی، یہ میرا مسلک قطعی نہیں ۔ میں بھی ہر اُس حرفِ علت کو گرانے کا قائل ہوں کہ جو روانی مجروح کئے بغیر گرایا جاسکے ۔ عروض کے تمام اختلافی مسائل پر میرا مسلک وہ ہے جو میں نے عملی طور پر اپنے شعر میں برتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی شعر پر تبصرے یا اصلاح کے ضمن میں جب بات ہوتی ہے تو لکھنا پڑتا ہے کہ عمومی اصول یہ ہے اور عمومًا ایسا کیا جاتاہے وغیرہ وغیرہ ۔
اسی لیے میں عموماً اپنے تبصروں میں اسقاط حروف پر اعتراض تبھی کرتا ہوں جہاں روانیٔ قرأت متاثر ہو رہی ہو۔ یہ میرا ذاتی رجحان ہے، کوئی اصول نہیں ۔۔۔ سو کسی پر واجب الاتباع بھی نہیں
