عباد اللہ — مئی 24، 2016 9:50 صبح
من — جولائی 17، 2016 5:58 شام
مجھے یہ پوچھنا تھا کہ کیا کھا گیے بھا گیے چھا گیے کے ساتھ کیا 'رلا' گیے'آ' گیے قافیہ ہو سکتے؟
من — جولائی 17، 2016 5:58 شام
اگر اپ میں سے کو جواب دیں تو بڑی مہربانی ہوگی
محمد ریحان قریشی — جولائی 17، 2016 6:05 شام
مجھے یہ پوچھنا تھا کہ کیا کھا گیے بھا گیے چھا گیے کے ساتھ کیا 'رلا' گیے'آ' گیے قافیہ ہو سکتے؟
بالکل ہو سکتے ہیں۔
من — جولائی 17، 2016 6:32 شام
فہیم ملک جوگی — اکتوبر 31، 2016 12:16 شام
اللہ سبحانہ تعالی آپکو فروغِ خیر پر جزا عطا فرمائے۔ آمین ۔
فہیم ملک جوگی — اکتوبر 31، 2016 12:49 شام
کبھی ۔۔۔۔۔۔۔۔کبھو
کسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسو؟
کوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سوں۔۔۔۔۔۔۔؟
‛‛کلیات غزلیات ولی دکنی‛‛ میں غزلیں پڑھ کے ہمیں تو ان لفظوں کی یہ سمجھ آئی ۔ملاحظہ کیجیئے:-
کوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کو
سوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔سے
کیتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔کرتا
نئیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔نہیں
باقی استاتذہ بہتر جانتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
عثمان ندیم — جون 11، 2019 7:56 صبح
کیا اردو غزل میں کسی اور زبان کے محاورے اور تراکیب شامل کی جا سکتی ہیں؟
Muhammad Ishfaq — فروری 10، 2020 1:52 صبح
بہت عمدہ معلومات حاصل ہوئیں۔
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 14، 2020 8:51 شام
مرزا غالب کے ایک خط سے اقتباس؛
"کیا ہنسی آتی ہے کہ تم مانند اور شاعروں کے مجھ کو بھی یہ سمجھے ہو کہ استاد کی غزل یا قصیدہ سامنے رکھ لیا، یا اس کے قوافی لکھ لیے اور ان قافیوں پر لفظ جوڑنے لگے۔ لا حول ولا قوۃ الا بالللہ! بچپن میں جب میں ریختہ لکھنے لگا ہوں، لعنت ہے مجھ پر اگر میں نے کوئی ریختہ یا اس کے قوافی پیشِ نظر رکھ لیے ہوں۔ صرف بحر اور ردیف قافیہ دیکھ لیا۔ اور اُس زمین میں غزل قصیدہ لکھنے کا تم کہتے ہو، نظیری کا دیوان وقت تحریر قصیدہ پیشِ نظر ہوگا۔ اور اس کے قافیے کا شعر دیکھا ہوگا، اس پر لکھا ہوگا واللہ اگر قصیدہ بھی ہے چہ جائے آں کہ وہ شعر: بھائی! شاعری، معنی آفرینی ہے! قافیہ پیمائی نہیں ہے۔۔۔"
(بنام منشی ہرگوپال تفتہ، 27 اگست، 1862)