اب یہ کاپی کر لی ہے کہ کچھ تو پکی پکائی مل رہی ہے۔ خوشی ہو رہی ہے کہ بلال (احمد) اور طارق آج کل میری مدد کو موجود ہیں۔
دیوانہ ہوں پتھر سے وفا مانگ رہا ہوں
میں بندہِ دنیا ہوں، خدا مانگ رہا ہوں
//شعر یوں تو درست ہے، لیکن مفہوم کچھ سمجھ میں نہیں آیا
اُس شخص سے چاہت کا صلا مانگ رہا ہوں
حیرت ہے کہ میں آج کیا کیا مانگ رہا ہوں
// اُس شخص سے چاہت کا صلا مانگ رہا ہوں
حیرت ہے کہ میں آج یہ کیا مانگ رہا ہوں
الفاظ بھی سادہ ہیں مری بات بھی سادہ
ٹوٹے ہوئے تاروں سے ضیا مانگ رہا ہوں
//درست
بکھرے ہوئے پتوں کو جو پہنے ہوئے نکلا
ہر شخص سے میں سنگِ صبا مانگ رہا ہوں
// اس کا بھی مفہوم؟
گر مانگا نہیں میں نے تو کچھ بھی نہیں مانگا
گر مانگ رہا ہوں، بے بہا مانگ رہا ہوں
//بے بہا وزن میں کہاں آتا ہے؟ ایسی بڑی ے گرانا اچھا نہیں۔
پہلے مصرع میں بھی گر‘ کی جگہ ’جب‘ کر دو، اور اسی طرح دوسرے میں ’اب‘
اب مانگ رہا ہوں، تو یہ کیا مانگ رہا ہوں
یہ محض مثال کے لئے
بے نام اندھیروں کی سیاہی ہے مرے پاس
پھر بھی شبِ ظلمت کا پتا مانگ رہا ہوں
//درست۔ ویسے چاہو تو دوسرے مصرع میں ’بھی‘ کو ’کیوں‘ سے بدل دو
میں اپنے نصیبوں کا گِلہ کس سے کروں گا
بے نام ریاضت کی جزا مانگ رہا ہوں
//کیا کہنا چاہتے ہو، سمجھ میں نہیں آیا۔ ’ریاضت‘ کی جزا!!