کالج میں ہمارے اعزاز میں رکھی جانے والی الوداعی تقریب میں پڑھنے کے لیے یہ تُک بندی کی ہے، اصلاح فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔
سُرخ اشکوں کی سیاہی سے ہوئے ہیں تحریر
تختئ وقت پہ جاں سوز مناظر بن کر
پھر وہی صبح کہ لائی ہے پیامِ ہجرت
اب کے جینا ہے ہمیں تیرے مہاجر بن کر
تُجھ کو چھوڑا تو ترا شہر بھی ہم چھوڑ چلے
تیرے دامن کے سِوا اور یاں رکھا کیا ہے؟
تیرے دم سے ہے یہاں علم کا مے خانہ آباد
جس نے پی ہی نہیں اُس نے بھلا چکّھا کیا ہے؟
تُو نے دیکھا ہے مِری آنکھ کا بہتا پانی
قہقہے جذب ہیں میرے تری دیواروں میں
میں وہ گُل ہوں جو تری مٹّی میں پروان چڑھا
پُھول مُجھ سا نہ مِلے گا تُجھے گُلزاروں میں
خاک مکتب کی مرے مجھ کو جہاں سے ہے عزیز
اس کو ہی چھان کے پایا ہے جو بھی پایا ہے
اِس کی ہر اینٹ میں شامل ہیں مرے بھی ذرّات
میری پُونجی ہے یہی اور یہی سرمایہ ہے

