آپ خود عروض کی جن کتابوں کو مستند قرار دیتے ہیں، ان میں سے کسی میں سے، بشمول قواعد العروض از قدرؔ بلگرامی، یہ حوالہ پیش کر سکتے ہیں کہ رباعی کے حشوین میں موجود مفعولن کو اخرم کی بجائے مسکن قرار دیا گیا ہو؟ صرف ایک حوالہ؟
میری بدقسمتی کہیے کہ میں نے عروض کے متعلق مباحث کو ایک عرصے سے ترک کردیا ہے۔ اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ عام طور پر اس بحث میں مجھے سخت مایوسی کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب حریفِ مقابل کے سامنے وہ سارا لٹریچر موجود نہ ہو جس کے زیرِ نظر میں اپنے دلائل دے رہا ہوتا ہوں۔ یا پھر یہ کہ جن کتابوں سے حریف دلیل لا رہا ہو وہ عام طور پر تیسرے درجے کا لٹریچر ہوتا ہے جو اصل عروضی ماخذات سے تو کجا، اصل ماخذات سے لکھی گئی کتابوں سے لکھا گیا مواد ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں حریف کو یہ سمجھانا کٹھن ہوتا ہے کہ ماخذات کے معیارات میں فرق ہے۔
دوسرا اور اہم تر مسئلہ وقت کا ہے۔
اور پھر بحث در بحث اور جواب در جواب کا ایک لامتناہی سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے جس کی مجھ ناتواں میں سکت نہیں ہوتی۔
میری اپنی پڑھائی اتنی سخت ہے کہ نصابی کتابوں سے پورا پورا دن پڑھتے رہنے کے باوجود خلاصی نہیں ملتی کہ بحث میں حصہ لیا جائے اور حریف کو ایک ایک بات پر حوالہ دیا جائے (جو کہ اس کا حق بھی ہے)۔ کیونکہ میری لائبریری میں میری کتابیں بھی میری طرح منتشر ہیں جنہیں ڈھونڈنے کے لیے بھی مجھے اچھا خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔
خیر آپ کی محبت میں خاص طور پر کتابیں ڈھونڈنے کا جوکھم اٹھایا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
یہ ہے قواعد العروض از قدر بلگرامی:
دیکھیے۔ یہ ہائ لائٹ کیے گئے جملے عین وہی ہیں جن کا حوالہ آپ نے مانگا تھا۔
۔۔
مزید بحر الفصاحت کو دیکھیے:
یہاں بھی مولوی نجم الغنی میری بات کی تائید کر رہے ہیں۔
اب اگر آپ کہیں تو میں معیار الاشعار کے صفحے کی بھی تصویر لگا دیتا ہوں جس کا حوالہ قدر بلگرامی نے دیا ہے۔ لیکن کتاب مجھے ڈھونڈنی پڑے گی اس لیے کچھ وقت درکار ہے۔
۔
اب خلاصہ یہ ہوا کہ رباعی کے جو دو اوزان میں نے بتائے ہیں ان میں کسی بھی قسم کی کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔
ارکان کو الگ الگ زحاف سے قطع و برید کی چنداں ضرورت نہیں۔
کسی عروضی بدعت کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے جس کی وجہ سے موجودہ طریقے کو ترک کیا جائے کیونکہ آسان ترین طریقہ یہی ہے جو سیکڑوں سالوں سے چلتا چلا آرہا تھا اور بعد میں اسکی شکل بر صغیر میں آکر بگاڑ دی گئی۔
رہی بات غیر حقیقی تقطیع کی تو یہ بھی عرض کرچکا ہوں کہ وہ بات یہاں لائقِ اطلاق ہے ہی نہیں۔
دیکھیے تحنیق نام ہے دو ارکان میں تسکینِ اوسط کا۔ یعنی اگر کسی دو ارکان میں دوسرا رکن وتدِ مجموع (مفا یا فعو وغیرہ) سے شروع ہو رہا ہے، اور پہلے رکن کا آخری حرف متحرک ہے تو دوسرے رکن کا پہلا متحرک پہلے رکن کے آخری متحرک سے مل کر ساکن ہو جاتا ہے۔
مثال:
مفعولُ مفاعیلن کا محنق مفعولم فاعیلن
بروزن مفعولن مفعولن
چنانچہ حشوین میں آنے والے مفعولن اخرم نہیں بلکہ محنق ہوتے ہیں۔ اسے مسکن کہہ لیجیے تو بھی میرے نزدیک کوئی مضائقہ نہیں۔
یہ ایک معمول کا عروضی رویہ ہے جسے آج تک کسی نے مفعولم فاعیلن کو بروزن فع فعلن فاعیلن کہنے کی خطا نہیں کی۔
اب اس پر آپ کو اعتراض کیوں ہے یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔
خیر۔
میری طرف سے اب بحث کا اختتام ہو چکا ہے۔ کیونکہ اس سے زیادہ عروض تو مجھے بھی نہیں آتا۔ سو مزید بحث میں حصہ لینے سے معذور ہوں۔
اگر کوئی بات طبیعت پر گراں گزری تو سخت معافی کا طلبگار ہوں۔
سلامت رہیں۔