شاہد شاہنواز — جون 19، 2023 5:14 صبح
میرا :دیوان: تاحا ل صرف مجھ تک محدود ہے۔ آگے معلوم نہیں کتنا عرصہ یہی صورتحال رہے گی، اپنی ذاتی مصروفیات سے کم ہی وقت ملتا ہے۔۔۔ اس لیے شاید اسے اصلاح کے بعد شائع کروانے کا خیال ترک ہی کرنا پڑ جائے ۔۔۔محترمی شاہد شاہ نوازصاحب: سلام علیکم
جواب خط کا شکریہ۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہآپ کو اس ضمن میں فکر و تردد ہے ۔ آپ نے چار نکات اٹھائے ہیں۔ ان کے جواب لکھ رہا ہوں۔ اطمینان نہ بھی ہو ا تو کم از کم جواب مل جائے گا۔
(1) ہر شاعر پہلے مبتدی ہی ہوتا ہے ،بعد میں شاعرکہلاتا ہے۔ سو آپ کا یہ خیال باطل ہے کہ آپ :اصلاح سخن: کی غیر موجودگی میں شاعر کبھی نہیں بن سکتے تھے۔یعنی اب آپ شاعر: بن چکے ہیں؟:
(2) بیس سال شاعری کے بعد جو :دیوان: مرتب ہوا ہے بہتر ہے کہ ا س کو ایک جانب رکھ دیں جب تک کہ وہ کسی ماہر :استاد: کی نگاہ اصلاح سے نہیں گزرتا ہے۔ آپ کو یہ کیسے خبر ہوئی کہ آپ کی :اصلاح کی جتنی ضرورت تھی: وہ پوری ہو رہی ہے؟ آپ فن شعر کتنا سیکھ چکے ہیں مجھ کو علم نہیں۔ آپ کو بھی علم نہیں! اور یہ کوئی بری بات نہیں بلکہ ایسا ہوتا ہے اور ایں زمانہ روز ہوتا ہے۔ وجہ کا آپ کو بھی علم ہے۔
(3) آپ نے لکھا ہے کہ اگر صاحبان فن یہ کام نہیں کریں گے تو : مجھ جیسے لوگ ہی: نو آموز شاعروں سے :جو مناسب سمجھیں گے کہہ دیا کریں گے:۔ کیا اس سے اصلاح حال ممکن ہے؟ شاعری بھی فن لطیف ہے اور ہر فن کی طرح اپنے استاد کی طالب ہے۔ غالب اور اقبال جیسے لوگ :بقدر بادام: ہیں کہ وہ استاد سے محروم رہ کر بھی بڑے شاعر ہو سکے ورنہ تاریخ اردو میں شاید ہی کوئی شاعر ہوگا جو بصورت دیگر کامیاب رہا ہے۔
(4) یہاں میرا معاملہ : کے آمدی و کے پیر شدی: والا ہے۔ ایک صاحب مجھ سے خفا ہو کر ترک تعلق کر ہی چکے ہیں۔ اب رسوائی کی اور ہمت نہیں ہے۔میں عمر کی 89ویں منزل سے اور شاعری کے سارے مراحل سے گذر چکا ہوں۔ آپ کی محفل میں ظہیر صاحب اور عرفان علوی صاحب مدت سے موجود ہیں ۔ مجھ کو معلوم نہیں کہ اس ضرورت کی جانب انھوں نے توجہ کیوں نہیں کی۔ کوئی وجہ تو ضرور تھی ؟
مزید لکھنا میں ضروری نہیں سمجھتا۔ آپ کے دوسرے خط بھی دیکھ چکا ہوں۔ آپ صاحب دل اور صاحب درد ہیں۔ یعنی :ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں !:۔جزاک اللہ خیرا۔
سرور عالم راز