اکڑشاہ کی اکڑبازیاں (مکمل)

محمد اسامہ سَرسَری — مئی 31، 2013 1:04 شام
اچھی مثنوی کی قسط ہے۔ ماشء اللہ۔ بس ان کچے آموں پر بھی ایک داغ لگ گیا ہے، اسے دور کر دیں۔
چکھا
اور
دکھا
قوافی بدل دیں۔ یہ درست نہیں۔

بہت بہت شکریہ استاد صاحب رہنمائی فرمانے کا۔
جزاکم اللہ خیرا۔
چکھا اور دکھا آپس میں قوافی نہیں بن سکتے؟ اگر وضاحت فرمادیں تو نوازش ہوگی۔
ماہا عطا — جون 1، 2013 5:52 صبح
بہت خوب۔۔۔۔
الف عین — جون 1، 2013 7:52 صبح
چکھا میں چ پر فتحہ ہے اور دکھا کی د پر کسرہ؟
محمد اسامہ سَرسَری — جون 1، 2013 4:59 شام

بہت شکریہ۔۔۔ ۔:)
محمد اسامہ سَرسَری — جون 1، 2013 5:00 شام
چکھا میں چ پر فتحہ ہے اور دکھا کی د پر کسرہ؟

رہنمائی کا بہت شکریہ جناب!
جزاکم اللہ خیرا۔
ویسے میرے ذہن میں یہ تھا کہ حرفِ روی چونکہ ”کھ“ ہے اور وہ متحرک ہے تو اب ماقبل کی حرکت کی مطابقت ضروری نہیں۔
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 4، 2013 5:19 شام
اکڑشاہ اور ماہِ رمضان
اکڑشاہ بے حد پریشان تھا
کہ اب جارہا ماہِ شعبان تھا
بالآخر ہوا ختم شعبان بھی
اور آیا مہینوں کا سلطان بھی
لگا کرنے فوراً وہ تیاریاں
وہ لے آیا کھجلا بھی اور پھینیاں
اکڑ شاہ نے رج کے کیں سحریاں
تلافی کو پھر کرلیں افطاریاں
یہ روزے لگے اس کو بھاری بڑے
مشاغل سبھی ترک کرنے پڑے
کہا سب سے مجھ کو بڑے کام ہیں
عبادت ، ریاضت کے ایام ہیں
بالآخر رکھے اس نے روزے سبھی
دکھا چاند پھر آگئی عید بھی
تو ”آم“ اور ”چشموں“ سے واقف تھے جو
دیا فطرہ سب نے اکڑشاہ کو
کھِلی اس کے دل میں خوشی کی کلی
وہ سمجھا اسے اس کی عیدی ملی
نماز اس نے پھر عید کی ، کی ادا
سنی بھانجوں کی پھر اس نے صدا
اکڑماموں! عیدی ہماری کہاں؟
اکڑشاہ کو تھا نہ اس کا گماں
کسی کو نہیں دی تھی عیدی کبھی
مگر بچے چڑھ دوڑے اب کے سبھی
ملے اس کو فطرے میں جو چار سو
ہر اک کو دیے چاروناچار سو
اسامہ سے قصے اکڑشاہ کے
نہ جاؤ گے سن کر بنا واہ کے
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 7، 2013 5:12 شام
ٹیگ نامہ:)
سیدہ سارا غزل — جولائی 7، 2013 5:23 شام
خوب ہے بھیا۔ آپ تو سخن کے ہر فن مولا ہیں ماشاللہ۔ سلامت رہیں
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 7، 2013 5:28 شام
خوب ہے بھیا۔ آپ تو سخن کے ہر فن مولا ہیں ماشاللہ۔ سلامت رہیں

بہت شکریہ اتنی زیادہ تعریف کرنے کا سیدہ صاحبہ!
اللہ خوش رکھے۔:)
محمد علم اللہ — جولائی 7، 2013 6:04 شام
اسامہ بھائی مزا آگیا ساری قسطیں پڑھ لیں واقعی بہت خوب ۔۔۔مجھے یعقوب آسی انکل کی بات اچھی لگی کہ اکڑ شاہ کا کوئی نام رکھ دیجئے ۔۔۔۔اور تو اور کہاں آپ نے کہا تھا مہینہ میں ایک کی بات اور یہاں ایک ہی دن میں تین قسطیں لگتا ہے آج طبیعت خوب اچھی تھی بالکل موڈ میں ۔۔۔۔اور ہم تو یہاں پڑے سوتے رہے شام میں بیدار ہوئے ۔۔۔۔ڈھیروں دعائیں اگلی قسط کا شدت سے انتظار رہے گا ۔
سید عاطف علی — جولائی 7، 2013 6:10 شام
کچھ الفاظ کے مناسب تر متبادل موزوں کر لئے جا یئں تو شاید بہتر ہو۔ مثلا" فریموں کی بجائے چشموں ۔ اور بورڈ کی بجائے لوح یا تخت یا تختی وغیرہ اس طرح بچوں کا ذخیرہ الفاظ اور برتاؤ بہتر ہو۔
باقی ”بیان کے سحر“ کی داد اپنی جگہ۔:-P
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 7، 2013 6:12 شام
اسامہ بھائی مزا آگیا ساری قسطیں پڑھ لیں واقعی بہت خوب ۔۔۔ مجھے یعقوب آسی انکل کی بات اچھی لگی کہ اکڑ شاہ کا کوئی نام رکھ دیجئے ۔۔۔ ۔اور تو اور کہاں آپ نے کہا تھا مہینہ میں ایک کی بات اور یہاں ایک ہی دن میں تین قسطیں لگتا ہے آج طبیعت خوب اچھی تھی بالکل موڈ میں ۔۔۔ ۔اور ہم تو یہاں پڑے سوتے رہے شام میں بیدار ہوئے ۔۔۔ ۔ڈھیروں دعائیں اگلی قسط کا شدت سے انتظار رہے گا ۔

تعریف کا شکریہ۔
۱۔ اکڑشاہ نام ہی تو رکھا ہے ایک فرضی کردار کا جس کے واقعات میں مزاح ہو۔
۲۔ مہینے میں ایک ہی لکھ رہا ہوں، اب تک یہ تین ہی ہوئی ہیں، پہلی قسط ماہنامہ ذوق و شوق کے جون کے شمارے میں شائع ہوئی تھی، دوسری جولائی اور تیسری اب اگست کے شمارے میں ہے جو اس وقت پریس میں ہے، چونکہ اصلاح کروانی ہوتی ہے اس لیے رسالے میں بعد میں شائع ہوتی ہے پہلے یہاں پوسٹ کردی جاتی ہے۔
۳۔ موڈ اور طبیعت تو الحمدللہ پچھلے کافی دنوں سے بہتر ہے۔
۴۔ اگلی قسط انشاءاللہ عن قریب پوسٹ کروں گا، لکھ لی ہے کچھ نوک پلک درست کر رہا ہوں اس کا نام ہے: ”اکڑشاہ نے اسکوٹر سیکھی“
۵۔ کوئی قابل اعتراض بات نظر آئے تو بلاجھجھک بتائیے گا تاکہ رسالے میں اچھی سے اچھی تحریر شائع ہو۔
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 7، 2013 6:13 شام
کچھ الفاظ کے مناسب تر متبادل موزوں کر لئے جا یئں تو شاید بہتر ہو۔ مثلا" فریموں کی بجائے چشموں ۔ اور بورڈ کی بجائے لوح یا تخت یا تختی وغیرہ اس طرح بچوں کا ذخیرہ الفاظ اور برتاؤ بہتر ہو۔
باقی ”بیان کے سحر“ کی داد اپنی جگہ۔:-P

بہت اچھی بات کہی سید صاحب آپ نے، میں کرتا ہوں تبدیل۔
جزاکم اللہ خیرا۔
محمد علم اللہ — جولائی 7، 2013 6:17 شام
تعریف کا شکریہ۔
۱۔ اکڑشاہ نام ہی تو رکھا ہے ایک فرضی کردار کا جس کے واقعات میں مزاح ہو۔
۲۔ مہینے میں ایک ہی لکھ رہا ہوں، اب تک یہ تین ہی ہوئی ہیں، پہلی قسط ماہنامہ ذوق و شوق کے جون کے شمارے میں شائع ہوئی تھی، دوسری جولائی اور تیسری اب اگست کے شمارے میں ہے جو اس وقت پریس میں ہے، چونکہ اصلاح کروانی ہوتی ہے اس لیے رسالے میں بعد میں شائع ہوتی ہے پہلے یہاں پوسٹ کردی جاتی ہے۔
۳۔ موڈ اور طبیعت تو الحمدللہ پچھلے کافی دنوں سے بہتر ہے۔
۴۔ اگلی قسط انشاءاللہ عن قریب پوسٹ کروں گا، لکھ لی ہے کچھ نوک پلک درست کر رہا ہوں اس کا نام ہے: ”اکڑشاہ نے اسکوٹر سیکھی“
۵۔ کوئی قابل اعتراض بات نظر آئے تو بلاجھجھک بتائیے گا تاکہ رسالے میں اچھی سے اچھی تحریر شائع ہو۔

اکڑ شاہ سے لگ رہا ہے کہ وہ انسان مغرور ہو گا جبکہ کہانی میں مجھے ایسا کہیں محسوس نہیں ہوا ۔اللہ کرے موڈ اچھا ہی رہے تاکہ ہمیں اچھی اچھی چیزیں پڑھنے کو ملتی رہے ۔ہم اگلی قسط کا بہت شدت سے منتظر ہیں ۔اللہ آپ کو صحت و تندرستی سے نوازے ۔ہماری ڈھیروں دعائیں آپ کے لئے۔:noxxx:
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 7، 2013 6:25 شام
اکڑ شاہ سے لگ رہا ہے کہ وہ انسان مغرور ہو گا جبکہ کہانی میں مجھے ایسا کہیں محسوس نہیں ہوا ۔اللہ کرے موڈ اچھا ہی رہے تاکہ ہمیں اچھی اچھی چیزیں پڑھنے کو ملتی رہے ۔ہم اگلی قسط کا بہت شدت سے منتظر ہیں ۔اللہ آپ کو صحت و تندرستی سے نوازے ۔ہماری ڈھیروں دعائیں آپ کے لئے۔:noxxx:

ان شاء اللہ اب اس کا خیال رکھوں گا کہ اس مزاحیہ نام ”اکڑشاہ“ کا معنی بھی اس کردار اور اس کے واقعات پر منطبق ہو۔:)
خوش رہیں۔
ملائکہ — جولائی 8، 2013 7:24 صبح
واہ بھئی زبردست ۔۔۔ یہ بہت اچھی لگ رہی ہے مجھے ساری۔۔۔۔ یہ تو مشہور ہوجائیں گی بہت۔۔۔۔:battingeyelashes:
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 8، 2013 4:33 شام
واہ بھئی زبردست ۔۔۔ یہ بہت اچھی لگ رہی ہے مجھے ساری۔۔۔ ۔ یہ تو مشہور ہوجائیں گی بہت۔۔۔ ۔:battingeyelashes:

بہت شکریہ تعریف اور حوصلہ افزائی کا۔
ظاہر جب ملائکہ(فرشتے) کسی چیز کی تعریف کردیں تو اسے تو مشہور ہونا ہی پڑے گا نا۔:)
ملائکہ — جولائی 8، 2013 6:51 شام
بہت شکریہ تعریف اور حوصلہ افزائی کا۔
ظاہر جب ملائکہ(فرشتے) کسی چیز کی تعریف کردیں تو اسے تو مشہور ہونا ہی پڑے گا نا۔:)

:aadab:
شمشاد — جولائی 9، 2013 12:01 صبح
ماشاء اللہ ماشاء اللہ
ویسے آپ کی دکان کدھر ہے؟
الف عین — جولائی 9، 2013 4:58 شام
دو تین قوافی توجہ چاہتے ہیں۔ کلی اور ملی، سحریاں اور افطاریاں، سبھی اور بھی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%A9%DA%91%D8%B4%D8%A7%DB%81-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%DA%A9%DA%91%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%D9%85%DA%A9%D9%85%D9%84.63999/page-2