محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 4، 2014 7:41 صبح
اکڑ شاہ مال دار ہوگیا
اکڑشاہ غم گین ہر آن تھا
وہ غربت کے مارے پریشان تھا
وہ بستر پہ اک رات رونے لگا
اسی رونے دھونے میں سونے لگا
اٹھا جب وہ سوکر تو بیمار تھا
بدستور غربت سے بے زار تھا
پرانی سی اک چارپائی تھی بس
بدن پر پھٹی اک رضائی تھی بس
دوا ڈاکٹر سے وہ لینے گیا
دوا ڈاکٹر دے کے کہنے لگا
کہ محسوس مجھ کو ہوئی شے عجیب
بدن میں تمھارے وہ ، دل کے قریب
ہوئی اس دوائی سے متلی اسے
اچانک ہوئی ایک الٹی اسے
چمکتا سا ہیرا برآمد ہوا
اکڑشاہ حیران از حد ہوا
وہ ہیرا اکڑشاہ نے بیچ کر
کیا حاصل اپنے لیے مال و زر
ہوا ملک بھر میں وہ اب مال دار
ہوا اہلِ ثروت میں اس کا شمار
وہ اپنی امیری میں یوں کھوگیا
فراموش سب دوستوں کو کیا
گو اسکوٹر اس نے نہ سیکھی کبھی
تجارت نہ کر پایا وہ آم کی
تھے اب اس کی گاڑی میں خدام بھی
وہ کھاتا تھا مہنگے سے اب آم بھی
وہ اب انکساری سے انجان تھا
اکڑشاہ گویا ’’اکڑشان‘‘ تھا
مسہری پہ اک رات سونے گیا
وہ کمبل کی بانھوں میں کھونے گیا
مزے سے وہ سو سو کے جوں ہی اٹھا
عجب سا اک احساس اس کو ہوا
مسہری نہیں ، چارپائی تھی وہ
وہ کمبل نہیں تھا ، رضائی تھی وہ
طویل اور اچھا سا یہ خواب تھا
کھلا اب بھی افلاس کا باب تھا
اساؔمہ سے قصے ’’اکڑ شاہ‘‘ کے
نہ جاؤ گے سن کر بنا ’’واہ!‘‘ کے
محمد یعقوب آسی — مارچ 4، 2014 8:26 صبح
اکڑ شاہ مال دار ہوگیا
اکڑشاہ غم گین ہر آن تھا
وہ غربت کے مارے پریشان تھا
وہ بستر پہ اک رات رونے لگا
اسی رونے دھونے میں سونے لگا
اٹھا جب وہ سوکر تو بیمار تھا
بدستور غربت سے بے زار تھا
پرانی سی اک چارپائی تھی بس
بدن پر پھٹی اک رضائی تھی بس
دوا ڈاکٹر سے وہ لینے گیا
دوا ڈاکٹر دے کے کہنے لگا
کہ محسوس مجھ کو ہوئی شے عجیب
بدن میں تمھارے وہ ، دل کے قریب
ہوئی اس دوائی سے متلی اسے
اچانک ہوئی ایک الٹی اسے
چمکتا سا ہیرا برآمد ہوا
اکڑشاہ حیران از حد ہوا
وہ ہیرا اکڑشاہ نے بیچ کر
کیا حاصل اپنے لیے مال و زر
ہوا ملک بھر میں وہ اب مال دار
ہوا اہلِ ثروت میں اس کا شمار
وہ اپنی امیری میں یوں کھوگیا
فراموش سب دوستوں کو کیا
گو اسکوٹر اس نے نہ سیکھی کبھی
تجارت نہ کر پایا وہ آم کی
تھے اب اس کی گاڑی میں خدام بھی
وہ کھاتا تھا مہنگے سے اب آم بھی
وہ اب انکساری سے انجان تھا
اکڑشاہ گویا ’’اکڑشان‘‘ تھا
مسہری پہ اک رات سونے گیا
وہ کمبل کی بانھوں میں کھونے گیا
مزے سے وہ سو سو کے جوں ہی اٹھا
عجب سا اک احساس اس کو ہوا
مسہری نہیں ، چارپائی تھی وہ
وہ کمبل نہیں تھا ، رضائی تھی وہ
طویل اور اچھا سا یہ خواب تھا
کھلا اب بھی افلاس کا باب تھا
اساؔمہ سے قصے ’’اکڑ شاہ‘‘ کے
نہ جاؤ گے سن کر بنا ’’واہ!‘‘ کے
واہ تو کہنی پڑے گی! حضور اکڑشاہ یا تو اتنے سخت جان ہیں کہ ہیرا کھا کر بھی نہیں مرے، یا پھر ان کے غدود ہیرے بناتے ہیں۔ ہاں سپنوں کی بات الگ ہے اور وہ شاید اکڑشاہ کی نہیں حضرت شیخ چلی (مرچ) کی سپیشلٹی ہے۔ حضرتِ شاعر کے بارے میں کچھ عرض نہیں کیا جا سکتا۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 4، 2014 8:29 صبح
واہ تو کہنی پڑے گی! حضور اکڑشاہ یا تو اتنے سخت جان ہیں کہ ہیرا کھا کر بھی نہیں مرے، یا پھر ان کے غدود ہیرے بناتے ہیں۔ ہاں سپنوں کی بات الگ ہے اور وہ شاید اکڑشاہ کی نہیں حضرت شیخ چلی (مرچ) کی سپیشلٹی ہے۔ حضرتِ شاعر کے بارے میں کچھ عرض نہیں کیا جا سکتا۔
شاید ایسی ہی خوبیوں کی وجہ سے اکڑتے رہتے ہیں۔

محمد یعقوب آسی — مارچ 4، 2014 8:31 صبح
کبھی ڈاکٹر آف سپنالوجی یعنی حضرت شیخ چلی عرف الدکتورالمرچ سے بھی متعارف کرائیے نا!
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 4، 2014 8:35 صبح
کبھی ڈاکٹر آف سپنالوجی یعنی حضرت شیخ چلی عرف الدکتورالمرچ سے بھی متعارف کرائیے نا!
اکڑشاہ ہی اچھا خاصا وقت لے لیتا ہے۔

محمد یعقوب آسی — مارچ 4، 2014 8:47 صبح
اکڑشاہ ہی اچھا خاصا وقت لے لیتا ہے۔
چلئے، آپ نے کہہ دیا تو ہم پردہ دری نہیں کرتے! ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 4، 2014 8:50 صبح
چلئے، آپ نے کہہ دیا تو ہم پردہ دری نہیں کرتے! ہاہاہاہاہا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔

شیرازخان — مارچ 4، 2014 8:06 شام
واہ کیا بات ہے جناب اتنا لذیزا کلام انتہا ہے جناب ۔۔۔۔!!!
ابن رضا — مارچ 4، 2014 8:16 شام
کیا خوب اکڑ بیتیاں هیں جناب. بهت اعلی. مسکراتے رهیے
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 5، 2014 4:06 صبح
واہ کیا بات ہے جناب اتنا لذیزا کلام انتہا ہے جناب ۔۔۔ ۔!!!
بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے اس کلام سے اتنی لذت حاصل کی۔
تعریف کرنے کا بہت شکریہ۔
جزاکم اللہ خیرا۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 5، 2014 4:07 صبح
کیا خوب اکڑ بیتیاں هیں جناب. بهت اعلی. مسکراتے رهیے
اتنی زیادہ حوصلہ افزائی پر ممنون ہوں۔
جزاکم اللہ خیرا۔
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 24، 2014 12:12 شام
اکڑشاہ اور روزنامہ اکڑ
اکڑشاہ کا تھا ذہین اک مشیر
وہ لگتا تھا چہرے سے بالکل فقیر
اکڑشاہ نے اس سے پوچھا جناب!
مری بات کا دو ذرا تم جواب
کروں کیا کہ ہو جاؤں میں بھی امیر
کریں میری عزت امیر و فقیر
مشیر اس کا فوراً ہی گویا ہوا
کہ دفتر اگر کھولو اخبار کا
وہ بِک کر کرے گا تمھیں مال دار
وہ پہنائے گا تم کو عزت کا ہار
اکڑشاہ نے جب فضائل سنے
لگا نام اخبار کا سوچنے
خیال اس کو آتا تھا جس نام کا
تو وہ نام لگتا اسے عام سا
وہ لکھتا تھا پھر پھیرتا تھا ربڑ
رکھا نام پھر ’’روزنامہ اکڑ‘‘
پھر اک صفحہ اس نے بڑا سا لیا
جو کچھ ذہن میں آیا لکھتا گیا
مگر پاس اتنی رقم تھی نہیں
کہ چھپوائے اخبار جاکر کہیں
بطورِ نصیحت کسی نے کہا
کہ چھپوانا آساں نہیں آپ کا
اکڑ کر اکڑشاہ کہنے لگا
کہ پیسے نہیں ہیں تو پھر کیا ہوا
جو پونجی ہے میری لگاؤں گا سب
طباعت میں اس کی کراؤں گا اب
بالآخر اکڑشہ نے چھپوا لیا
ٹھیوں پر وہ جا جا کے رکھوا دیا
دھرا ہی رہا روزنامہ مگر
اکڑشہ کا چھلنی ہوا یوں جگر
لکھی تھی غلط اس پہ تاریخ جو
لگی منہ چڑانے اکڑشاہ کو
اسامہ سے قصے اکڑشاہ کے
نہ جاؤ گے سن کر بنا واہ کے
محمد علم اللہ — اپریل 24، 2014 4:12 شام
زبردست
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 25، 2014 7:10 صبح
اب ہم آپ کے زیر دست۔

محمد اسامہ سَرسَری — مئی 12، 2014 9:43 صبح
اکڑشاہ نے کرکٹ کھیلا
نہ تھا آج کل کام اکڑشاہ کو
میسر تھا آرام اکڑشاہ کو
کبھی اِس گلی اور کبھی اُس گلی
وہ پھرتا تھا ، پَر کوئی منزل نہ تھی
یوں پھرتے ہوئے ایک دن ، اک جگہ
نظر آئے بچے تو وہ رک گیا
چمن کے یہ کھلتے ہوئے پھول تھے
سبھی بچے کرکٹ میں مشغول تھے
اکڑشاہ نے ان سے جاکر کہا
کرو کھیل میں مجھ کو شامل ذرا
کہا ایک بچے نے ، انکل! نہیں
نہ لگ جائے چوٹ آپ کو بھی کہیں
اکڑ کر اکڑشاہ کہنے لگا
ہے بچوں کا یہ کھیل آسان سا
کہ میں نے بھی بچپن میں کھیلا ہے خوب
ہر اک گیند پر ’’شاٹ مارا‘‘ ہے خوب
گلی میں تھے مشہور چوکے مرے
بلندی پہ جاتے تھے چھکے مرے
یہ کہہ کر چڑھانے لگا آستیں
کھڑا ہوگیا لے کے بَلا وہیں
تصور میں چھکے لگانے لگا
وہ بَلّا ہوا میں گھمانے لگا
معاً ایک بچے نے پھینکی جو گیند
یکایک اکڑشہ نے دیکھی وہ گیند
اس افتاد پر وہ تو گھبرا گیا
جھکا بچنے ، لیکن وہ چکرا گیا
گرا وہ اِدھر اور بَلا اُدھر
اور آنے لگے دن میں تارے نظر
اسے زور کی چوٹ ایسی لگی
کہ نانی اسے پھر تو یاد آگئی
پھر اک دن وہیں سے گزر جب ہوا
جھکاکر سر اپنا گزرنے لگا
تصور میں وہ گیند آئی نظر
ندامت سے اپنی جھکائی نظر
اسامہ سے قصے اکڑشاہ کے
نہ جاؤ گے سن کر بنا واہ کے
محمد اسامہ سَرسَری — مئی 12، 2014 10:42 صبح
اکڑشاہ نے انگریزی سیکھی
اکڑشاہ کے دُور کے رشتے دار
چچیرے کے ماموں کا بیٹا ’’نثار‘‘
دبئی سے وہ آیا تھا اس ملک میں
اکڑشاہ کی دیکھنے حرکتیں
اکڑشاہ سے اس نے اک دن کہا
کہ آپ انگریزی بھی سیکھیں ذرا
بڑی فائدے مند ہے یہ زباں
مگر آپ میں اتنی ہمت کہاں
اکڑشاہ بے حد اکڑنے لگا
کہ مشکل کہاں انگریزی بھلا
یہ سن کر ہنسا خوب پہلے نثار
کہا پھر کہ کہنے کا کیا اعتبار
چلو کھیلیں انگلش کا آپس میں گیم
سو ٹَیل می ، کم اِن ، واٹ اِز یور نیم
اکڑشاہ مبہوت و حیران سا
رہا دیکھتا بس پریشان سا
اسے یاد تھی ’’اے ، بی ، سی ، ڈی‘‘ فقط
سنا اس نے تھا ’’ممی ، ڈیڈی‘‘ فقط
پکڑ کر اکڑ شاہ نے دونوں کان
کہا زیرِ لب ’’الحفیظ ، الامان!‘‘
اکڑفوں مگر پھر بھی جاری رکھی
کہا اور آواز بھاری رکھی
مجھے تھوڑی محنت ہے درکار اب
سکھانے سے مت کرنا انکار اب
جو آتا ہے تم کو سکھائو مجھے
سب الفاظِ ’’انگلش‘‘ بتائو مجھے
کہا ہنس کے ، انگلش بس ایزی تو ہے
میں ’آئی‘ ، تو ’یو‘ اور وہ ’ہی ، شی‘ تو ہے
یہ انگلش تو فار اِیچ ۱؎ آسان ہے
کہ ’’پارٹ آف اسپیچ‘‘ ۲؎ آسان ہے
ہوا اتنی انگلش سے جب بدحواس
اکڑشاہ لگا دیکھنے آس پاس
بہت خود کو دل میں لگا کوسنے
کہ کون اتنی بھاری اب ’’انگلش‘‘ سنے
اسامہ سے قصے اکڑشاہ کے
نہ جاؤ گے سن کر بنا واہ کے
۱؎ ہر اک کے لیے
۲؎ کلام کا جز، انگلش گرائمر کی ایک اصطلاح ہے۔
محمد اسامہ سَرسَری — مئی 12، 2014 10:45 صبح
اکڑشاہ کاہلوں کا سردار
کیا کام جو بھی تو کھائی شکست
بالآخر ہوئی اس کی ہمت ہی پست
اکڑشاہ بنتا گیا پوستی
محلے کے سستوں سے کی دوستی
سبھی سست مل جل کے رہنے لگے
مشقت وہ آپس میں سہنے لگے
انھی کاہلوں میں تھا اک مال دار
جو سستی کا تھا نسبتاً کم شکار
کہا اس نے سب کاہلوں سے ، سنو
تم اپنے لیے ایک افسر چنو
ہے اس کے لیے کون تیار اب
جسے ہم کہیں اپنا سردار اب
اٹھایا ہر اک سست نے سن کے ہاتھ
اکڑشاہ شامل تھا ان سب کے ساتھ
مگر ہاتھ اس نے اٹھایا نہیں
زباں سے بھی اس نے بتایا نہیں
اکڑشاہ سے پوچھا پھر ایک نے
کہ ہاتھ آپ کے کیوں نہیں ہیں اٹھے
اکڑشاہ بولا اے میرے عزیز!
امارت نہیں چھوڑدینے کی چیز
مگر میرا سستی نے چھوڑا نہ ساتھ
فقط کاہلی سے اٹھایا نہ ہاتھ
سبھی اس کی سستی کے قائل ہوئے
اسی کی امارت پہ مائل ہوئے
اکڑشاہ کو دی گئی ایک کار
اکڑ کر ہوا اس میں اک دن سوار
رکھی اس نے پہلے تو رفتار کم
مگر تیز کی اس نے پھر ایک دم
جو بیٹھے تھے ساتھی وہ حیراں ہوئے
کہ تیزی سے اس کی پریشاں ہوئے
پھر اک سست نے کرکے ہمت کہا
اچانک یہ تیزی ، ہے کیا ماجرا؟
اکڑشاہ نے رہ کے چپ تھوڑی دیر
کہا اکسلیٹر پہ رکھا تھا پیر
مگر پھر جو سستی رکاوٹ بنی
تو رفتار گاڑی کی بڑھتی رہی
اسامہ سے قصے اکڑشاہ کے
نہ جاؤ گے سن کر بنا واہ کے
شیرازخان — مئی 22، 2014 5:20 شام
واہ واہ نہایت عمدہ کلام ۔۔۔بہت سی داد۔۔۔۔!!!
الف عین — مئی 23، 2014 2:19 صبح
یہاں دیکھا؟ اکڑ بازیاں پہنچ چکی ہیں!!
محمد اسامہ سَرسَری — مئی 23، 2014 5:04 صبح
یہاں دیکھا؟ اکڑ بازیاں پہنچ چکی ہیں!!
جزاکم اللہ خیرا۔
