ایک غزل، تنقید، تبصرہ اور اصلاح کیلیے،'' اک تمنا کی جستجو ہاری ''

محمد اظہر نذیر — اکتوبر 10، 2012 5:47 شام
دیکھ گلشن کے تیری ہی خاطر
گُل نے کُملا کے رنگُ بُو ہاری
÷÷ پہلے مصرعے میں کے کی جگہ کہ درست ہے۔۔۔
جو تھی ناقابل شکست اب تک
کچھ سبب تھا کہ آرزو ہاری
÷÷÷ کچھ سبب تھا وہ آرزو ہاری۔۔۔ بہتر ہے
کر دیا
شاہد شاہنواز — اکتوبر 10، 2012 5:49 شام
تو فی الحال ہماری طرف سے یہ غزل فائنل ہے، باقی استاد محترم کوئی مسئلہ بتاتے ہیں تو وہ میری سوچ اور علم سے بالاتر ہوگا۔۔۔
مائرہ — اکتوبر 10، 2012 5:53 شام
اک تمنا کی جستجو ہاری
میں نے اپنے ہی روبرو ہاری
عزت نفس ہار کر اک بار
قریہ قریہ میں کوبکو ہاری
اب کے بگڑا معاملہ ایسے
لفظ ہارے تھے، گفتگو ہاری
جو تھی ناقابل شکست اب تک
کیا وجہ ہے کہ آرزو ہاری
کچھ بتاٗو تو حضرت اظہر
کیا تقاضا تھا، آبرو ہاری
اتنی ہار ایک ساتھ
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 10، 2012 5:56 شام
یہ کمبخت ایک بار ہوتی تو ہر شے میں ہوتی نہ جی
مائرہ — اکتوبر 10، 2012 5:57 شام
یہ کمبخت ایک بار ہوتی تو ہر شے میں ہوتی نہ جی
اچھا ایسا کیا
ویسے ہار ہوتی کی بجائے ہار ہوتا تو کتنی خوش خوش شاعری ہوتی
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 10، 2012 6:16 شام
اچھا ایسا کیا
ویسے ہار ہوتی کی بجائے ہار ہوتا تو کتنی خوش خوش شاعری ہوتی
اب یہ تذکیر و تانیث کے چکر میں کون پڑے جی، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا؟
شاہد شاہنواز — اکتوبر 10، 2012 7:45 شام
آپ نہ ہوتے تو غزل نہ ہوتی اور غزل نہ ہوتی تو اتنی تنقید نہ ہوتی اور اتنی تنقید نہ ہوتی تو غزل کے خیالات جو شروع میں زمین کی طرف جا رہے تھے اب آسمان کی طرف جاتے دکھائی نہ دیتے۔۔۔ آسمان تو دور ہے، ہار توہونی ہی تھی۔۔۔
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 10، 2012 7:51 شام
آپ نہ ہوتے تو غزل نہ ہوتی اور غزل نہ ہوتی تو اتنی تنقید نہ ہوتی اور اتنی تنقید نہ ہوتی تو غزل کے خیالات جو شروع میں زمین کی طرف جا رہے تھے اب آسمان کی طرف جاتے دکھائی نہ دیتے۔۔۔ آسمان تو دور ہے، ہار توہونی ہی تھی۔۔۔
تازہ اشعار پر کچھ تبصرہ ہو جاتا تو
شاہد شاہنواز — اکتوبر 10، 2012 7:59 شام
کن اشعار پر ؟؟ یعنی اس غزل پر جو فائنل ہوئی ہے؟؟؟
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 10، 2012 8:14 شام
کن اشعار پر ؟؟ یعنی اس غزل پر جو فائنل ہوئی ہے؟؟؟
جی وہی تو
شاہد شاہنواز — اکتوبر 10، 2012 8:29 شام
جب تک استاد محترم کی رائے معلوم نہ ہو غزل فائنل نہیں ہوگی، اور فائنل نہ ہونے پر میری تعریف یا تنقید بے کار ہی سمجھی جائے گی۔۔۔
الف عین — اکتوبر 11، 2012 4:59 صبح
یہ صورت بہتر ہے۔ اب اس کو کاپی کر رہا ہوں۔
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 12، 2012 1:29 شام
وہ کچھ اور تبدیلیاں سمجھ آئی ہیں پیش کرتا ہوں
ہر تمنا سے دوبدو ہاری
جستجو بات کیا ہے، تُو ہاری
دیکھ گلشن وہ تیری ہی خاطر
گُل تھا کُملایا، رنگُ بُو ہاری
عزت نفس ہار کر اک بار
ایسے بکھری کہ کوبکو ہاری
اب کے بگڑا معاملہ ایسا
لفظ روئے تھے، گفتگو ہاری
جو تھی ناقابل شکست اب تک
کچھ سبب تھا وہ آرزو ہاری
ہارنے پر جو آ گئی اک بار
میری قسمت بھی چار سو ہاری
کچھ بتاٗو تو حضرت اظہر
کیا تقاضا تھا آبرو ہاری
شاہد شاہنواز — اکتوبر 13، 2012 2:58 صبح
دیکھ گلشن کہ بس تری خاطر۔۔۔ پھول کملایا، رنگ و بو ہاری۔۔۔
دیکھئے شاید یہ صورت آپ کو بہتر لگے۔۔۔
الف عین — اکتوبر 13، 2012 3:20 صبح
شاہد کا مشورہ صائب ہے
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 13، 2012 8:36 صبح
گویا اب صورتحال کچھ یوں ہوئی، اور ایک تبدیلی میری طرف سے بھی :)
کیا تمنا تھی دوبدو ہاری
جستجو کیا ہواکہ تُو ہاری
دیکھ گلشن کہ بس تری خاطر
پھول کُملایا، رنگُ بُو ہاری
عزت نفس ہار کر اک بار
ایسے بکھری کہ کوبکو ہاری
اب کے بگڑا معاملہ ایسا
لفظ روئے تھے، گفتگو ہاری
جو تھی ناقابل شکست اب تک
کچھ سبب تھا وہ آرزو ہاری
ہارنے پر جو آ گئی اک بار
میری قسمت بھی چار سو ہاری
کچھ بتاٗو تو حضرت اظہر
کیا تقاضا تھا آبرو ہاری
الف عین — اکتوبر 14، 2012 4:19 صبح
مطلع میں اب بھی ابلاغ کی کمی ہے۔ دوسرے شعر میں بھی کیا کہنا چاہتے ہو؟ اور مقطع میں تقاضا کس بات کا ممکن تھا؟ باقی اشعار سارے درست ہیں۔ بس ان تینوں اشعار کا کچھ خود کرو تو میں مشورہ دوں۔
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 15، 2012 4:17 شام
مطلع میں اب بھی ابلاغ کی کمی ہے۔ دوسرے شعر میں بھی کیا کہنا چاہتے ہو؟ اور مقطع میں تقاضا کس بات کا ممکن تھا؟ باقی اشعار سارے درست ہیں۔ بس ان تینوں اشعار کا کچھ خود کرو تو میں مشورہ دوں۔
اُستاد محترم مطلع کچھ یوں سمجھ آیا ہے ، دیکھیے تو کچھ بہتری ہوئی کہ نہیں
آرزو اور نہ جستجو ہاری
زندگی کیا ہوا کہ تو ہاری
دیکھ گلشن کہ بس تری خاطر
پھول کُملایا، رنگُ بُو ہاری
عزت نفس ہار کر اک بار
ایسے بکھری کہ کوبکو ہاری
اب کے بگڑا معاملہ ایسا
لفظ روئے تھے، گفتگو ہاری
جو تھی ناقابل شکست اب تک
کچھ سبب تھا وہ آرزو ہاری
ہارنے پر جو آ گئی اک بار
میری قسمت بھی چار سو ہاری
کچھ بتاٗو تو حضرت اظہر
کیا تقاضا تھا آبرو ہاری
الف عین — اکتوبر 16، 2012 5:09 صبح
اب یہ صورت کاپی کر رہا ہوں۔
الف عین — اکتوبر 18، 2012 1:54 صبح
یہ غزل بھی اسی قسم کی ہے کہ ردیف کا نباہ مشکل ہو رہا ہے، اصلاح بھی بہت مشکل ہے کہ کود میری سمجھ میں نہین آ رہا ہے کہ کس طرح ردیف نباہی جائے!! بہر ھال اغلاط کی نشان دہی تو کر دیتا ہوں، شاید تم ہی کچھ بہتر سوچ سکو۔
آرزو اور نہ جستجو ہاری
زندگی کیا ہوا کہ تو ہاری
//پہلے مصرع میں بات مکمل نہیں ہو رہی ۔کیونکہ تعلق نہیں ہو رہا ہے آرزو، جستجو اور زندگی میں۔
دیکھ گلشن کہ بس تری خاطر
پھول کُملایا، رنگُ بُو ہاری
//گلشن کی خاطر پھول کیوں کمہلایا؟ سمجھ میں نہیں آتا۔
عزت نفس ہار کر اک بار
ایسے بکھری کہ کوبکو ہاری
//بکھرنے سے ہارنے کا تعلق؟ یوں کہا جا سکتا ہے:
ایک ہی بار ہاری عزت نفس
پھر تو ہر بار،کو بکو ہاری
حالانکہ تب بھی شعر اچھا نہیں کہا جا سکتا۔
اب کے بگڑا معاملہ ایسا
لفظ روئے تھے، گفتگو ہاری
//یہ شعر ہی قابل قبول ہے۔ لیکن ذرا صیغہ بدل کر
اب کے بگڑا معاملہ ایسا
رو دئے لفظ ، گفتگو ہاری
یہ سوال تب بھی باقی ہے کہ گفتگو ہارنے سے کیا مراد ہے؟
جو تھی ناقابل شکست اب تک
کچھ سبب تھا وہ آرزو ہاری
//
ہارنے پر جو آ گئی اک بار
میری قسمت بھی چار سو ہاری
//یہ وہی بات ہے جو اوپر ہے، وہاں عزت نفس کی بات ہے یہاں زندگی کی۔
کچھ بتاٗو تو حضرت اظہر
کیا تقاضا تھا آبرو ہاری
//تقاضا اور آبرو ہارنا، دونوں سمجھ میں نہیں آ سکے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84%D8%8C-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%D8%8C-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%8C%DB%92%D8%8C-%D8%A7%DA%A9-%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88-%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C.55183/page-2