محمد اظہر نذیر — اکتوبر 10، 2012 5:47 شام
کر دیادیکھ گلشن کے تیری ہی خاطر
گُل نے کُملا کے رنگُ بُو ہاری
÷÷ پہلے مصرعے میں کے کی جگہ کہ درست ہے۔۔۔
جو تھی ناقابل شکست اب تک
کچھ سبب تھا کہ آرزو ہاری
÷÷÷ کچھ سبب تھا وہ آرزو ہاری۔۔۔ بہتر ہے
کر دیا
اتنی ہار ایک ساتھ
یہ کمبخت ایک بار ہوتی تو ہر شے میں ہوتی نہ جی
اچھا ایسا کیا
اب یہ تذکیر و تانیث کے چکر میں کون پڑے جی، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا؟
تازہ اشعار پر کچھ تبصرہ ہو جاتا تو
جی وہی تو
اُستاد محترم مطلع کچھ یوں سمجھ آیا ہے ، دیکھیے تو کچھ بہتری ہوئی کہ نہیں