سوہنی کے بغیر کچا گھڑا سمجھ میں نہیں آئے گا!! میرے خیال میں سب سے بہتر یوں ہوگا
میں سوہنی کو اظہر دریا میں ڈبو دوں گا
یا
منجدھار میں چھوڑوں گا
بھی درست ہو گا۔
یوں دیکھ لیجئے اُستاد محترم
ہنگامہ محشر ہے، میداں میں کھڑا ہوں میں
کر دے گا شفاعت وہ، جس در پہ پڑا ہوں میں
بزدل سا بنایا ہے کیوں تیری محبت نے
کیا بات ہے کیا جانوں، ویسے تو کڑا ہوں میں
شعروں سے محبت ہے، اُسکو تو مجھے دیکھے
میں بھی تو مرصع ہوں، وصفوں سے جڑا ہوں میں
ہر بار ملا تُجھ سے، ہر بار تھی رسوائی
خود ہی کو منایا پھر، خود ہی سے لڑا ہوں میں
کیوں مجھ کو بچایا تھا، پھر تُم نے ڈبویا بھی
تب مجھ سے کہا کیوں تھا، پاؤں پہ کھڑا ہوں میں
میں سوہنی کو اظہر، منجدھار میں چھوڑوں گا
کچا ہی بنایا ہے ، بے کار گھڑا ہوں میں