ایک غزل برائے اصلاح

محمل ابراہیم — جون 23، 2020 8:05 صبح
میری قلم سے۔۔۔۔۔
ایک مرکز پہ جو جامد ہو نظر بن جائیں
برسیں اس طرح کی ہم بار گہر بن جائیں
کو بہ کو درد ہے ماتم ہے فغاں ہے ہر سو
جو کرے دور الم ہم وہ اثر بن جائیں
منتشر نجم ہیں افلاک میں بے راہ بے نقش
اُن کو ترتیب دیں ایسے کہ مہر بن جائیں
چلو تعبیر کو دیں صورتِ تعمیر ایسی
ہم جو کنکر بھی اٹھائیں وہ گہر بن جائیں
تم نے بس آگ اگلتے ہوئے شعلے دیکھے
ہم وہ پتھر ہیں کہ پتھر پہ گریں اور شرر بن جائیں
کچھ ہی گنتی کی لکیریں ہیں شرر بار یہاں
وہی اسطرح سے پھیلیں کہ سحر بن جائیں
سحر
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 23، 2020 3:15 شام
مانا کہ آج کل فیمنزم کا طوطی بول رہا ہے مگر یہ قلم مونث کب سے ہوگیا بھئی؟؟؟
ویسے آپ کی طبیعت کی موزونیت قابلِ داد ہے، بحر و اوزان کی زیادہ غلطیاں نظر نہیں آتیں۔
یک مرکز پہ جو جامد ہو نظر بن جائیں
برسیں اس طرح کی ہم بار گہر بن جائیں
پہلا مصرعہ واضح نہیں ہے؟ نظر کو جامد رکھنے کی بات ہورہی ہے یا خود کہیں مجمد ہوجانے کی؟ اگر اول الذکر معاملہ ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ نظریں جامد کرکے کیا بن جائیں گے؟؟
اگر واقعہ ثانی الذکر ہے تو پھر جامد ہو کے بجائے ’’جامد ہوں‘‘ کہنا چاہیئے۔ مگر پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ نظر بن جانے کا کیا مطلب ہوا؟
دوسرے مصرعے میں ’’کی‘‘ نہیں ’’کہ‘‘ کا محل ہے۔
کو بہ کو درد ہے ماتم ہے فغاں ہے ہر سو
جو کرے دور الم ہم وہ اثر بن جائیں
یوں تو درست ہے، مگر پہلے مصرعے کی بندش مزید چست ہو سکتی ہے۔ دوبارہ فکر کر کے دیکھئے۔
منتشر نجم ہیں افلاک میں بے راہ بے نقش
اُن کو ترتیب دیں ایسے کہ مہر بن جائیں
نجوم کو افلاک میں میں ترتیب دینا کیا انسان کے بس میں ہے؟؟؟ اگر مقصود تقدیر سنوارنے کا مفہوم ادا کرنا ہے تو یہ الفاظ اس مفہوم سے کچھ زیادہ بعید معلوم ہوتے ہیں۔
چلو تعبیر کو دیں صورتِ تعمیر ایسی
ہم جو کنکر بھی اٹھائیں وہ گہر بن جائیں
درست ہے، ہاں اگر چلو کو آؤ سے بدل دیں تو روانی کچھ اور بہتر ہو جائے گی۔
تم نے بس آگ اگلتے ہوئے شعلے دیکھے
ہم وہ پتھر ہیں کہ پتھر پہ گریں اور شرر بن جائیں
دوسرا مصرعہ بحر سے خارج ہورہا ہے، کوئی ٹائپو رہ گیا ہے کیا؟
مفہوم بھی اتنا واضح نہیں ہوسکا۔
کچھ ہی گنتی کی لکیریں ہیں شرر بار یہاں
وہی اسطرح سے پھیلیں کہ سحر بن جائیں
سحر کے مقابل شب یا ظلمت شب نہیں ہونا چاہیے؟ شرر کا سحر سے کیا موازنہ بنتا ہے؟
دعاگو،
راحلؔ
محمل ابراہیم — جون 23، 2020 5:39 شام
بہت شکریہ راحل بھائی:)
قلم مذکر ہی ہے۔۔۔۔۔۔یہ محض ٹائپنگ کی غلطی کہی جا سکتی ہے۔
دراصل میں غزل کے پہلے مصرعے میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ ہمیں اس نظر کے مانند ہونا چاہیئے جو ایک مطمح پر اپنی پوری توجہ مرکوز کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔جب تک ہماری نگاہ ایک پوائنٹ پر ٹھہریگی نہیں ہم اسے کیسے حاصل کر سکیں گے۔
میں اس غزل پر دوبارہ غور سے غور کرونگی۔۔۔۔۔:)
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 23، 2020 5:42 شام
اگر ایسا ہے تو مرکز پر جامد کی بجائے نقطے پر مرکوز کہیں، زیادہ مناسب رہے گا.
محمل ابراہیم — جون 23، 2020 6:02 شام
جی بہتر ۔۔۔۔۔۔۔
آپکی شکر گزار
سحر
الف عین — جون 23، 2020 6:05 شام
راحل سے متفق ہوں میں بھی، البتہ تمہارا نام بہت مہمل لگا، کیا یہ محمِل ہونا تھا؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 23، 2020 6:10 شام
راحل سے متفق ہوں میں بھی، البتہ تمہارا نام بہت مہمل لگا، کیا یہ محمِل ہونا تھا؟
میں سمجھا شاید دنیا سے ناراض ہیں، اس لئے یہ تخلص رکھا ہے :)
محمل ابراہیم — جون 23، 2020 6:11 شام
نہیں یہ مہمل ہی ہے ۔۔۔۔دراصل یہ میرا خود کا نام نہیں۔۔۔یہ نام نمرہ احمد کے ایک ناول (مصحف) کا مرکزی کردار ہے،جو مجھے اور میری رائے میں تمام قارئین کو بہت متاثر کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔لہٰذا میں نے یہ نام اُردو محفل میں خود کے لیے تجویز کیا
محمل ابراہیم — جون 23، 2020 6:13 شام
جی میں دنیا سے کیونکر ناراض ہوؤں۔۔۔دنیا تو لگ رہا ہے ہم سے ناراض ہو گئی ہے۔۔۔۔
الف عین — جون 23، 2020 6:13 شام
نہیں یہ مہمل ہی ہے ۔۔۔۔دراصل یہ میرا خود کا نام نہیں۔۔۔یہ نام نمرہ احمد کے ایک ناول (مصحف) کا مرکزی کردار ہے،جو مجھے اور میری رائے میں تمام قارئین کو بہت متاثر کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔لہٰذا میں نے یہ نام اُردو محفل میں خود کے لیے تجویز کیا
تو شاید نمرہ احمد کی اردو ہی ماشاء اللہ ہے!
محمل ابراہیم — جون 23، 2020 6:14 شام
میرا تخلص سحر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 23، 2020 6:16 شام
نہیں یہ مہمل ہی ہے ۔۔۔۔دراصل یہ میرا خود کا نام نہیں۔۔۔یہ نام نمرہ احمد کے ایک ناول (مصحف) کا مرکزی کردار ہے،جو مجھے اور میری رائے میں تمام قارئین کو بہت متاثر کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔لہٰذا میں نے یہ نام اُردو محفل میں خود کے لیے تجویز کیا
مہمل کا مطلب تو بیکار، بے معنی، لغو، متروک وغیرہ ہوتے ہیں. اگر نمرہ صاحبہ نے یہ ہجے کئے ہیں تو ان کو سرخ سلام پیش :)
یہ بھی ممکن ہے کہ نمرہ صاحبہ کی دانست میں اس کا مطلب "جنت کا _______" ہو، جیسا کہ آج کل ہر "مہمل" نام کا مطلب گھڑ لیا جاتا ہے :)
محمل ابراہیم — جون 23، 2020 6:17 شام
نام کے انتخاب میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے مگر اسے انکی اُردو کیسی ہے اسکا اندازہ کرنا میرے خیال سے درست نہیں۔۔۔۔۔۔
عین ممکن ہے خطا اس سے ہی ہوگی سرزد
خاک سے جسکی ہو تخلیق فرشتہ کیوں ہو
محمل ابراہیم — جون 23، 2020 6:19 شام
مہمل کا مطلب تو بیکار، بے معنی، لغو، متروک وغیرہ ہوتے ہیں. اگر نمرہ صاحبہ نے یہ ہجے کئے ہیں تو ان کو سرخ سلام پیش :)
یہ بھی ممکن ہے کہ نمرہ صاحبہ کی دانست میں اس کا مطلب "جنت کا _______" ہو، جیسا کہ آج کل ہر "مہمل" نام کا مطلب گھڑ لیا جاتا ہے :)

جی معنی اچھا نہیں ہے۔۔۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 23، 2020 6:19 شام
جی میں دنیا سے کیونکر ناراض ہوؤں۔۔۔دنیا تو لگ رہا ہے ہم سے ناراض ہو گئی ہے۔۔۔۔
ایسا نہیں ہے بہن، اللہ پاک آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے.
دراصل جو اسم ہے اس کے ہجے محمل کے ہیں، میرا مشورہ ہے آپ بھی یہی ہجے استعمال کریں.
محمل ابراہیم — جون 23، 2020 6:21 شام
اوکے سر
محمل ابراہیم — جون 23، 2020 6:24 شام
ایسا نہیں ہے بہن، اللہ پاک آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے.
دراصل جو اسم ہے اس کے ہجے محمل کے ہیں، میرا مشورہ ہے آپ بھی یہی ہجے استعمال کریں.

یہاں نام میں کرکشن کی گنجائش ہے کیا؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 23، 2020 10:41 شام
یہاں نام میں کرکشن کی گنجائش ہے کیا؟
محترم محمد خلیل الرحمٰن بھائی اس سلسلے میں معاونت فرما سکتے ہیں.
شکیب — جون 24، 2020 7:44 صبح
یہ نام نمرہ احمد کے ایک ناول (مصحف) کا مرکزی کردار ہے،جو مجھے اور میری رائے میں تمام قارئین کو بہت متاثر کیا ہوگا
مصحف از نمرہ احمد کی ہیروئین کا نام "محمل" ہی ہے۔ اچھا ناول ہے، ہمارے یہاں بھی خواتین میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔
محمل ابراہیم — جون 24، 2020 11:40 صبح
مصحف از نمرہ احمد کی ہیروئین کا نام "محمل" ہی ہے۔ اچھا ناول ہے، ہمارے یہاں بھی خواتین میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔

اچھا سر پھر میرا حافظہ کمزور ہے(n)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.112167/