ایک غزل برائے تنقید، تبصرہ اور اصلاح ،'' اب ترے آس پاس رہنا ہے''

محمد اظہر نذیر — جولائی 25، 2013 10:11 صبح
اب ترے آس پاس رہنا ہے
زندگی بھر اُداس رہنا ہے
وائے قسمت کنارے دریا کے
میرے ہونٹوں پہ پیاس رہنا ہے
ٹوٹ جائے دعا کرو مر کے
جیتے جی کچھ تو آس رہنا ہے
ہم فقیروں کو ڈس نہ لے ریشم
بوریا ہے، جو راس رہنا ہے
چل کبھی کہہ خدا لگی تُو بھی
کیا تُجھے بے لباس رہنا ہے
کاش تُم کو قبول ہو آقا
بن کے اظہر کو داس رہنا ہے​
محمد اسامہ سَرسَری — جولائی 25، 2013 2:31 شام
ماشاءاللہ بہت خوب لکھا ہے۔
الف عین — جولائی 27، 2013 7:41 شام
وائے قسمت کنارے دریا کے
میرے ہونٹوں پہ پیاس رہنا ہے
÷÷یوں بہتر ہوگا
وائے قسمت کنارِ دریا بھی
ٹوٹ جائے دعا کرو مر کے
جیتے جی کچھ تو آس رہنا ہے
÷÷الفاظ کی نشست بدلو، ابلاغ درست نہیں ہو رہا۔
ہم فقیروں کو ڈس نہ لے ریشم
بوریا ہے، جو راس رہنا ہے
÷÷بوریئے ہی کو راس رہنا ہے
کہیں تو؟
چل کبھی کہہ خدا لگی تُو بھی
کیا تُجھے بے لباس رہنا ہے
÷÷مطلب؟
کاش تُم کو قبول ہو آقا
بن کے اظہر کو داس رہنا ہے
÷÷کیا یہ نعتیہ شعر ہے؟ درست ہے۔
محمد اظہر نذیر — جولائی 28، 2013 7:17 صبح
وائے قسمت کنارے دریا کے
میرے ہونٹوں پہ پیاس رہنا ہے
÷÷یوں بہتر ہوگا
وائے قسمت کنارِ دریا بھی
جی بہت بہتر جناب
ٹوٹ جائے دعا کرو مر کے
جیتے جی کچھ تو آس رہنا ہے
÷÷الفاظ کی نشست بدلو، ابلاغ درست نہیں ہو رہا۔
اگر یوں کہا جائے تو ؟
مر کے شائد یہ ٹوٹ ہی جائے
جیتے جی کچھ تو آس رہنا ہے

ہم فقیروں کو ڈس نہ لے ریشم
بوریا ہے، جو راس رہنا ہے
÷÷بوریئے ہی کو راس رہنا ہے
کہیں تو؟
جی بہت بہتر جناب
چل کبھی کہہ خدا لگی تُو بھی
کیا تُجھے بے لباس رہنا ہے
÷÷مطلب؟
جی یہ شعر تبدیل کئے دیتا ہوں
کاش تُم کو قبول ہو آقا
بن کے اظہر کو داس رہنا ہے
÷÷کیا یہ نعتیہ شعر ہے؟ درست ہے۔
جی بجا فرمایا یہ نعتیہ شعر ہے

گویا اب صورتحال یوں بنتی ہے
اب ترے آس پاس رہنا ہے
زندگی بھر اُداس رہنا ہے
وائے قسمت کنارے دریا بھی
میرے ہونٹوں پہ پیاس رہنا ہے

مر کے شائد یہ ٹوٹ ہی جائے
جیتے جی کچھ تو آس رہنا ہے

ہم فقیروں کو ڈس نہ لے ریشم
بوریئے ہی کو راس رہنا ہے
گندگی ہے جو چھو کے گزری ہے
کچھ سمے تک تو باس رہنا ہے
پھر سے وہ مہرباں ہوا ہم پر
پھر سے اُس کا سپاس رہنا ہے

کاش تُم کو قبول ہو آقا
بن کے اظہر کو داس رہنا ہے
الف عین — جولائی 29، 2013 8:30 صبح
میں نے تو ’کنارَ‘ دریا لکھا تھا!!!
باقی تو درست ہیں، لیکن یہ دونوں اب بھی مطمئن نہیں کر رہے
گندگی ہے جو چھو کے گزری ہے
کچھ سمے تک تو باس رہنا ہے
پھر سے وہ مہرباں ہوا ہم پر
پھر سے اُس کا سپاس رہنا ہے
محمد اظہر نذیر — جولائی 31، 2013 7:59 صبح
میں نے تو ’کنارَ‘ دریا لکھا تھا!!!
باقی تو درست ہیں، لیکن یہ دونوں اب بھی مطمئن نہیں کر رہے
گندگی ہے جو چھو کے گزری ہے
کچھ سمے تک تو باس رہنا ہے
پھر سے وہ مہرباں ہوا ہم پر
پھر سے اُس کا سپاس رہنا ہے
یوں دیکھ لیجئے اُستاد محترم

اب ترے آس پاس رہنا ہے
زندگی بھر اُداس رہنا ہے
وائے قسمت کنارِ دریا بھی
میرے ہونٹوں پہ پیاس رہنا ہے
مر کے شائد یہ ٹوٹ ہی جائے
جیتے جی کچھ تو آس رہنا ہے
ہم فقیروں کو ڈس نہ لے ریشم
بوریئے ہی کو راس رہنا ہے

زندگی بھر لہو میں کچھ گرمی
اور پھولوں میں باس رہنا ہے
کتنا مشکل، حقیقتوں کا سفر
آخرش بے لباس رہنا ہے

کاش تُم کو قبول ہو آقا
بن کے اظہر کو داس رہنا ہے​
الف عین — جولائی 31، 2013 8:21 صبح
یہاں کہیں ”ہے‘ کا اضافہ چاہئے پہلے مصرع میں
کتنا مشکل، حقیقتوں کا سفر
آخرش بے لباس رہنا ہے
محمد اظہر نذیر — جولائی 31، 2013 9:16 صبح
یہاں کہیں ”ہے‘ کا اضافہ چاہئے پہلے مصرع میں
کتنا مشکل، حقیقتوں کا سفر
آخرش بے لباس رہنا ہے
جی بہتر ہے
اب ترے آس پاس رہنا ہے
زندگی بھر اُداس رہنا ہے
وائے قسمت کنارِ دریا بھی
میرے ہونٹوں پہ پیاس رہنا ہے
مر کے شائد یہ ٹوٹ ہی جائے
جیتے جی کچھ تو آس رہنا ہے
ہم فقیروں کو ڈس نہ لے ریشم
بوریئے ہی کو راس رہنا ہے
زندگی بھر لہو میں کچھ گرمی
اور پھولوں میں باس رہنا ہے
ہے یہ مشکل، حقیقتوں کا سفر
آخرش بے لباس رہنا ہے

کاش تُم کو قبول ہو آقا
بن کے اظہر کو داس رہنا ہے​
الف عین — اگست 1، 2013 5:27 صبح
اب یہ غزل فائنل کہی جا سکتی ہے جب تک کہ مزید کسی نکتے کی نشان دہی کہ کر دی جائے
محمد اظہر نذیر — اگست 27، 2013 10:55 صبح
اُساتذہ کی توجہ درکار ہے الف عین ، محمد یعقوب آسی ، مزمل شیخ بسمل
میرے ہونٹوں پہ پیاس رہنا ہے
جیتے جی کچھ تو آس رہنا ہے
اور پھولوں میں باس رہنا ہے
کیا یہ تراکیب غلط ہیں؟
یہاں رہنا ہے کی جگہ رہتی ہے ہونا کیا لازم ہے؟
از راہ کرم روشنی ڈالئے
عبد الرحمن — اگست 27، 2013 11:15 صبح
ماشاء اللہ عمدہ کوشش ہے۔
محمد یعقوب آسی — اگست 27، 2013 12:13 شام
بلا تمہید
وائے قسمت کنارِ دریا بھی
میرے ہونٹوں پہ پیاس رہنا ہے

یہاں بات دو طرح بیان ہو سکتی ہے۔
(1) پیاس کا رہنا ہے:میں پیاسا ہوں۔ (2) پیاس کو رہنا ہے:مجھے پیاسا رہنا ہے۔
موجودہ صورت ان دونوں میں سے کوئی تقاضا بھی پورا نہیں کر رہی۔
محمد یعقوب آسی — اگست 27، 2013 12:17 شام
مر کے شائد یہ ٹوٹ ہی جائے
جیتے جی کچھ تو آس رہنا ہے

’’شاید‘‘ راجح ہے، ’’شائد‘‘ بھی رائج ہے تاہم میرے نزدیک مستحسن نہیں ہے۔
جب تک جی رہے ہیں آس تو رکھنی ہو گی یا آس کو رہنا ہو گا۔ مسئلہ وہی ہے جو پیاس والے شعر میں ہے۔
اس شعر کے باقی لوازمات پر بحث فی الحال موقوف۔
محمد یعقوب آسی — اگست 27، 2013 12:20 شام
زندگی بھر لہو میں کچھ گرمی
اور پھولوں میں باس رہنا ہے
مسئلہ پہلے دو شعروں والا ہی ہے، بلکہ یہاں یہ دونوں مصرعوں میں فعل کی ضرورت پوری نہیں کر رہا۔
محمد یعقوب آسی — اگست 27، 2013 12:22 شام
اب ترے آس پاس رہنا ہے
زندگی بھر اُداس رہنا ہے
ہم فقیروں کو ڈس نہ لے ریشم
بوریئے ہی کو راس رہنا ہے

ان دونوں شعروں میں دیگر امور سے قطع نظر، ’’رہنا ہے‘‘ درست ہے۔
محمد یعقوب آسی — اگست 27، 2013 12:25 شام
ہے یہ مشکل، حقیقتوں کا سفر
آخرش بے لباس رہنا ہے
یہ شعر مجھ پر کھلا ہی نہیں۔ کس کو بے لباس رہنا ہے، اس کے دیگر تلازمے کون سے ہیں۔ حقیقت بے لباس ہو سکتی ہےحقیقتوں کا سفر کیونکر بے لباس ہو گا؟۔
محمد یعقوب آسی — اگست 27، 2013 12:43 شام
عمومی تفہیم کے لئے عرض کرتا چلوں کہ ۔۔۔
مصدر جہاں اپنی اصل حالت میں آئے یعنی علامتِ مصدر (نا) کے ساتھ اور اس پر افعالِ ناقصہ وارد ہوں، اُسے ہم فعل تام کہتے ہیں۔
اسے کچھ کہنا تھا، مجھے جانا ہے، آپ کو بھی سوچنا ہوگا، اب سنبھل جانا چاہئے؛ وغیرہ۔
شذرہ: یہ بالکل وہی صورت ہے جو انگریزی میں ’’انفینی ٹِو‘‘ کی ہوتی ہے، اس پر ’’ورب‘‘ سے پہلے ’’ٹو‘‘ داخل کرتے ہیں۔
محمد یعقوب آسی — اگست 27، 2013 12:49 شام
رسماً فعل تام کو ہمیشہ مذکر لکھا جانا چاہئے،جیسے: مجھے ان سے بات کرنا ہو گی، آپ کو چھ کتابیں لانا ہیں؛ وغیرہ۔
تاہم فی زمانہ اس کی پروا نہیں کی جا رہی (مذکر مؤنث دونوں طرح درست مان لیا گیا ہے)، جیسے:
پوری مہندی بھی لگانی نہیں آتی اب تک
کیسے آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا​
ردیف: دل کا​
الف عین — اگست 28، 2013 3:28 صبح
رسماً فعل تام کو ہمیشہ مذکر لکھا جانا چاہئے،جیسے: مجھے ان سے بات کرنا ہو گی، آپ کو چھ کتابیں لانا ہیں؛ وغیرہ۔
تاہم فی زمانہ اس کی پروا نہیں کی جا رہی (مذکر مؤنث دونوں طرح درست مان لیا گیا ہے)، جیسے:
پوری مہندی بھی لگانی نہیں آتی اب تک
کیسے آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا​
ردیف: دل کا​
آصی بھائی یہ دہلی لکھنؤ کا فرق ہے، دہلی والے مؤنث فعل استعمال نہیں کرتے۔ موجودہ دہلی اور لکھنؤ والے دونوں دونوں طرح اسعمال کرتے ہیں۔
اظہر کا استعمال درست ہے
محمد اظہر نذیر — اگست 28، 2013 4:31 صبح
یہ شعر مجھ پر کھلا ہی نہیں۔ کس کو بے لباس رہنا ہے، اس کے دیگر تلازمے کون سے ہیں۔ حقیقت بے لباس ہو سکتی ہےحقیقتوں کا سفر کیونکر بے لباس ہو گا؟۔
محترم اُستاد یہاں یہ کہنا مطلوب تھا کہ حقیقتیں ننگی ہوتی ہیں اور اُن کے سفر پر چلنے والوں کو بھی ننگا ہی رہنا پڑتا ہے، جو کے ایک مشکل کام ہے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%D8%8C-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%8C-%D8%A7%D8%A8-%D8%AA%D8%B1%DB%92-%D8%A2%D8%B3-%D9%BE%D8%A7%D8%B3-%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92.66034/