جی بہتر ہے اسے نکال دیتا ہوں مظلع بن ہی جائے گا پہلے والے اشعار میں سے
اجازت ہو تو میں کچھ دیر خوابوں میں طلب کر لوں
بڑی تاریک راتیں ہیں ، میں روشن ایک شب کر لوں
طبیعت میں مری پارہ بھرا ہے، کیا خبر تُجھ کو
میں کرنے پر جب آ جاؤں، تو مشکل کیا ہےسب کر لوں
مجھے کرنا ہے جو بھی، آج کرنا ہے، ابھی کرنا
نہیں ہوگا، کہوں جو کام اب کر لوں، میں تب کر لوں
میں ڈرتا ہوں ، اگر پھر بھی بلانے پر نہ تُم آئے
خدا جانے میں کیا کر لوں، خدا جانے میں کب کر لوں
محبت کے عمل میں جلد بازی ہی ضروری ہے
اسے اظہر نہ میں ٹالوں، جو کرنا ہے وہ اب کر لوں