عنوان
سمندر پار جب تھامیں مجھے اب پھر اجازت دو
کہ میں نے پیٹ کی خاطر
سمندر پار جانا ہے سمندر پار جب تھا میں
تو سارے دوست تھے میرے
وہ رشتے خون کے تھے جو
مرے اک اک اشارے پر
مری ہر بات پر لبیک
مرے ہر کام پر راضی
مری مشکل میں شامل تھے
مجھے ہمت وہ دیتے تھے
بہت ہی خوش رہا تھا میں
سمندر پار جب تھا میں میری ہر بات سنتے تھے
مرا ہر کام کرتے تھے
مجھے خرم ،مجھے بھیا
مجھے جانی بُلاتے تھے
مجھے کس چیز کا ڈر تھا
بہت بے خوف رہا تھا میں
سمندر پار جب تھا میں مجھے وہ فون کرکر کے
وطن آنے کا کہتے تھے
بہت دن ہوگے خرم
تجھے دیکھا نہیں ہم نے
بَلا اتنی بھی دوری کیا
چلو اب لوٹ آؤ تم
خوشی سے جی رہا تھا میں
سمندر پار جب تھا میں وطن کو لوٹ آیا ہوں
ابھی کچھ دن ہی گزرے ہیں
کہ سب بے زار لگتے ہیں
غموں سے چار لگتے ہیں
مرے وہ یار رشتے دار
مری الفت کے مارے تھے
وہی اب مجھ سےکہتے ہیں
ارے واپس نہیں جانا ؟
یہیں پر کام کرنا ہے ؟
وہاں سے چھوڑ آئے ہو ؟
اے واپس نہیں جانا ؟
یہاں کیا کام کرنا ہے ؟
یہاں کچھ بھی نہیں باقی
مری مانو مرے پیارے
سمندر پار پھر جاؤ مجھے اب پھر اجازت دو
کہ میں نے پیٹ کی خاطر
سمندر پار جانا ہے خرم شہزاد
خرم شہزاد خرم — دسمبر 5، 2011 8:25 شام
یہاں بھی کوئی نظرِ کرم فرما دے
مغزل — دسمبر 6، 2011 7:36 صبح
خرم شہزادے ، رسید حاضر ہے پیارے، باباجانی کا انتظار کرتے ہیں۔میری دانست خیال کی رو خوب ہے، مگر کچھ اغلاط اور نظم کے مزاج کی بابت کچھ کہنا تھا۔ مگر فی الحال انتظار کرتا ہوں۔
خرم شہزادے ، رسید حاضر ہے پیارے، باباجانی کا انتظار کرتے ہیں۔میری دانست خیال کی رو خوب ہے، مگر کچھ اغلاط اور نظم کے مزاج کی بابت کچھ کہنا تھا۔ مگر فی الحال انتظار کرتا ہوں۔
مجھے انتظار رہے گا بابا جانی کا بھی اور آپ کا بھی شکریہ
عین عین — دسمبر 7، 2011 6:20 صبح
خرم کئی جگہ مصرعوں کی روانی متاثر ہوئی ہے، غلطیاں ہیں لیکن دور ہو سکتی ہیں۔ اعجاز صاحب نشاندہی کریں گے تو ہمییں بھی سیکھنے کو ملے گا۔
بس یہ مجھے ہمیشہ کھلتا ہے۔ میں نے پیٹ کی خاطر۔۔۔۔۔۔۔
اسے تو کم از کم یوں کر لو
کہ مجھ کو پیٹ کی خاطر۔۔۔۔۔۔
خرم کئی جگہ مصرعوں کی روانی متاثر ہوئی ہے، غلطیاں ہیں لیکن دور ہو سکتی ہیں۔ اعجاز صاحب نشاندہی کریں گے تو ہمییں بھی سیکھنے کو ملے گا۔
بس یہ مجھے ہمیشہ کھلتا ہے۔ میں نے پیٹ کی خاطر۔۔۔ ۔۔۔ ۔
اسے تو کم از کم یوں کر لو
کہ مجھ کو پیٹ کی خاطر۔۔۔ ۔۔۔
بہت شکریہ عین عین بھائی
اصل میں میں نے پہلے اسی طرح لکھا تھا (کہ مجھ کو پیٹ کی خاطر) لیکن پتہ نہیں کیوں بعد میں میں نے تبدیل کر دیا بابا جانی کا انتظار ہے لیکن لگتا ہے وہ بہت مصروف ہیں۔ محمد وارث صاحب بھی نظر نہیں آ رہے۔
اور ہاں اصل میں یہ نظر تقریبا ایک سال کے بعد کہی گئی ہے اس لیے بہت سے غلطیاں ہیں اب اصلاح ہوتی رہے گی تو انشاءاللہ بہتری آتی رہے گی
حماد — دسمبر 7، 2011 8:53 صبح
سمندر پار "پیٹ کی خاطر" جانے والوں کے جذبات و تجربات کی خوب ترجمانی کی ہے۔
ترجمانی تب ہی ہوتی ہے جب انسان خود تجربات سے گزرے اور میں گزر چکا ہوں
بہت شکریہ حماد بھائی
ایم اے راجا — دسمبر 7، 2011 5:58 شام
پہلے تو خوش آمدید بھائی جانی، خدا کا شکر ہے آپکو ادھر کا خیال تو آیا۔
بہت اچھی نظم کہی ہے۔
اور ہاں ہم ان میں سے نہیں جو آپکو اپنے قریب دیکھنا نہیں چاہتے، ہم تو آپکو ہر جا خوش دیکھنا چاہتے ہیں
پہلے تو خوش آمدید بھائی جانی، خدا کا شکر ہے آپکو ادھر کا خیال تو آیا۔
بہت اچھی نظم کہی ہے۔
اور ہاں ہم ان میں سے نہیں جو آپکو اپنے قریب دیکھنا نہیں چاہتے، ہم تو آپکو ہر جا خوش دیکھنا چاہتے ہیں
ہا ہا ہا بس کیا کہوں کل مصروف تھا اس لیے غزل کو نظم میرا مطلب ہے نظم کو غزل لکھ دیا
م م مغل بھائی آپ کو ہماری اجازت کی ضرورت کب سے پڑ گئی سر جی آپ تو ہمارے اساتذہ میں سے ہیں پلیز اصلاح فرما دیں
ایم اے راجا — دسمبر 12، 2011 8:25 شام
خرم بھائی لگتا ہے استاد محترم کافی مصروف ہیں آجکل، لیکن دوسرے اساتذہ سے بھی تکلیف کرنے کی گزارش ہے، خاص طور پر وارث صاحب سے
خرم شہزاد خرم — دسمبر 12، 2011 9:04 شام
م م مغل بھائی نے کہا تھا کہ وہ کچھ کہیں گے لیکن ان کی طرف سے بھی ابھی تک مسلسل خاموشی ہے