ایک کہانی

سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 24، 2012 3:56 شام
بہار آئی تو اک تتلی حسیں، اک گلستاں پہنچی
حسیں اس گلستاں میں ایک گل کے دل پہ جا بیٹهی
بہت رنگین تهی تتلی، بڑا ہی شوخ سا گل تها
وہ دونوں رنگ و بو کی رت میں جیسے کهو ہی بیٹهے تهے
یونہی پهر روز و شب بیتے
پهر اک دن گل نے اس رنگین تتلی سے کہا جاناں
سنو تم سوچ لو پهر سے! سماں جو آج ہے ایسا یہ کل کو یوں نہیں ہوگا
مری خوشبو مرا یہ رنگ کل ایسا نہیں ہوگا
تمہارے بن میں جی سکتا نہیں یہ بات تو سچ ہے
مگر موسم بدلتا ہے، تو سنگ سب ہی بدلتا ہے
کہو کیا تم خزاں میں مجھ کو تنہا چھوڑ جاو گی؟
مری خوشبو مرا رنگ نہ ہو تو سنگ چھوڑ جاو گی؟
کہا تتلی نے, گل میرے! مجهے دل پہ جو تو نے اپنے ہے ایسے بٹها رکها!
ترے سنگ ان بہاراں میں جو میرے روز و شب بیتے. انہیں کیسے بهلاوں گی؟
تجهے میں چھوڑ کر یا بهول کر کیا جی بهی پاوں گی؟
تمہارے سنگ یہ رشتہ مرا اب عمر بهر کا ہے.
میں یہ قسمیں نبهاوں گی
تو چاہے جو بهی ہو موسم
تیرے سنگ ہی بتاوں گی..
اسے گل نے لیا آغوش میں اور پهر ہوا بدلی..
وہ جس موسم کا کہتا تها وہ موسم آگیا آخر..
وہ گل مرجها گیا آخر..
نہ ہی رنگ تها، نہ تو خوشبو نہ ہی شوخی رہی اس میں
مگر تتلی نہ گهبرائی
اسے کہتی رہیں سکهیاں کہ کیسی منچلی ہے تو!
ہمارے سنگ آ تو بهی یہاں سے بهاگ چل پگلی!
ترے گل کے گئے اب دن!
کیا تو بهی جیتے جی سنگ اسکے خود کو مار ڈالے گی؟
یہ دن کیسے گزارے گی!
فلک نے بهی ستم ڈهائے ہوا نے آزمایا بهی
خزاں گزری تو سردی نے پروں کو اسکے دهو ڈالا!
ہر اک دن زندگی و موت کی تهی کشمکش میں وہ!
" مرے گل سے مرا وعدہ تها، میں اسکو نبهاوں گی، کہیں بهی میں نہ جاوں گی!"
محبت کے اسی وعدے نے نہ مرنے دیا اسکو..
سو پهر سے فصل گل آئی!
نئی کچه کونپلیں چٹکیں گلوں میں جان بهی آئی!
سو اس دن من چلی تتلی کی خوشیوں کی تو حد نہ تهی..
جو اپنے گل کے رنگ و بو اس نے جاگتا دیکها
چہک کر اس سے وہ بولی،" یہ دیکهو میں یہیں پہ ہوں! کوئی جب دوسرا نہ تها تمہارے سنگ میں ہی تهی، قسم کهائی تهی جو میں نے اسے میں نے نبهایا ہے.
کہا تها جو بهی تم سے وہ ہی میں نے کر دکهایا ہے!"
اسے گل تک رہا تها یوں کہ جیسے جانتا نہ ہو..
کہ جیسے اجنبی ہو جسکو وہ پہچانتا نہ ہو..
" مری تتلی تو ایسی تهی دهنک کے رنگ تهے اس میں! بڑی چنچل بڑی نٹ کهٹ بڑی ہی خوبرو تهی وہ! ترا نہ رنگ ویسا ہے ترا نہ ڈهنگ ویسا ہے.. مجهے دیکهو ارے تتلی میں کتنا خوبصورت ہوں!
حسیں تو ہوں، جواں بهی ہوں!
مجهے اپنے ہی جیسی اک حسیں تتلی ہی بهائے گی!
مجهے معلوم ہے تتلی وہ مجھ کو مل ہی جائے گی!"
یہ کہہ کر پهول نے جهٹکے سے تتلی کو ہٹا پهینکا..
جو اس کا دم نکلتا تها تو اس نے تب یہ کیا دیکها..
بہار ائی، نئی تتلی حسیں اس گلستاں پہنچی..
وہاں آ کے اسی گل کے وہ دل پہ ایسے جا بیٹھی..
کبهی جیسے یہ بیٹهی تهی...
پپو — اکتوبر 24، 2012 4:02 شام
کہو کیا تم خزاں میں مجھ کو تنہا چھوڑ جاو گی؟​
مری خوشبو مرا رنگ نہ ہو تو سنگ چھوڑ جاو گی؟​

بہت ہی زبردست
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 24، 2012 4:47 شام
کہو کیا تم خزاں میں مجھ کو تنہا چھوڑ جاو گی؟​
مری خوشبو مرا رنگ نہ ہو تو سنگ چھوڑ جاو گی؟​

بہت ہی زبردست

بہت شکریہ جی
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 24، 2012 4:51 شام
ٹائپنگ کی کچھ غلطیاں ہیں
Sorry for those
نایاب — اکتوبر 24، 2012 4:53 شام
بہت ہی خوب نظم ہوئی ہے اک تلخ حقیقت
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 24، 2012 5:00 شام
بہت ہی خوب نظم ہوئی ہے اک تلخ حقیقت
شکریہ! جی بالکل ایک تلخ حقیقت ہے..
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 24، 2012 5:05 شام
ہمیشہ کی طرح ایک خوبصورت احساس۔
ایک خوبصورت نظم۔
بہت سی داد۔
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 24، 2012 5:49 شام
ہمیشہ کی طرح ایک خوبصورت احساس۔
ایک خوبصورت نظم۔
بہت سی داد۔

ہمیشہ کی طرح، آپ کا بہت شکریہ..
الف عین — اکتوبر 25، 2012 5:09 صبح
لمبی نظم ہے اس لئے ذرا تفصیل سے بعد میں۔ کاپی کر رہا ہوں۔ البتہ یہ بتا دوں کہ ’سنگ‘ کا تلفظ ’فعل‘ ہوتا ہے۔ کئی جگہ یہاں گاف غائب ہے۔
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 25، 2012 5:27 صبح
لمبی نظم ہے اس لئے ذرا تفصیل سے بعد میں۔ کاپی کر رہا ہوں۔ البتہ یہ بتا دوں کہ ’سنگ‘ کا تلفظ ’فعل‘ ہوتا ہے۔ کئی جگہ یہاں گاف غائب ہے۔

شکریہ سر.
I shall be waiting for your guidance. Regards
شاہد شاہنواز — اکتوبر 29، 2012 9:24 شام
ظہور نذر کو آپ میں سے کسی نے پڑھا ہے؟ وہی جن کی غزل ہے: دیپک راگ ہے چاہت اپنی، کاہے سنائیں تمہیں؟؟ ۔۔۔ ان ًمحترم نے آزاد نظم کو اسی طرح پابند بحور کیا تھا جس طرح سارہ بشارت گیلانی کرر ہی ہیں، لیکن اس کی صورت اس سے بہتر تھی، اس کا تقابل ان سے کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر شاعرہ کو وقت ملے تو اس غریب کی کتاب بھی پڑھ لیجئے گا تاکہ آپ کو رہنمائی مل سکے۔۔۔۔
شمشاد — اکتوبر 30، 2012 3:29 صبح
مزہ آیا نظم پڑھ کر۔ بہت خوب۔
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 30، 2012 5:32 صبح
ظہور نذر کو آپ میں سے کسی نے پڑھا ہے؟ وہی جن کی غزل ہے: دیپک راگ ہے چاہت اپنی، کاہے سنائیں تمہیں؟؟ ۔۔۔ ان ًمحترم نے آزاد نظم کو اسی طرح پابند بحور کیا تھا جس طرح سارہ بشارت گیلانی کرر ہی ہیں، لیکن اس کی صورت اس سے بہتر تھی، اس کا تقابل ان سے کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر شاعرہ کو وقت ملے تو اس غریب کی کتاب بھی پڑھ لیجئے گا تاکہ آپ کو رہنمائی مل سکے۔۔۔ ۔
Thank you for the kind words and your suggestion. I'll read what you have recommended
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 30، 2012 5:33 صبح
مزہ آیا نظم پڑھ کر۔ بہت خوب۔
بہت سکریہ جی
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 30، 2012 6:14 صبح
شمشاد بھائی کو پسند آگئی تو یقیناً پیاری نظم ہے.
:)
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 30، 2012 10:16 صبح
Another typo... wanted to thank you Mr Shamshad :)
شاہد شاہنواز — اکتوبر 30، 2012 3:28 شام
اردو تو نہیں لگتی۔۔۔ کسی اور طرح کی اردو ہے شاید، جو ہم نہیں جانتے۔۔۔ تھر اور راجستھان کے آس پاس کے لوگ ہوتے تو آپ سے پوچھتے:
ای کا ہوت ہے؟
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 30، 2012 3:36 شام
اردو تو نہیں لگتی۔۔۔ کسی اور طرح کی اردو ہے شاید، جو ہم نہیں جانتے۔۔۔ تھر اور راجستھان کے آس پاس کے لوگ ہوتے تو آپ سے پوچھتے:
ای کا ہوت ہے؟

جی جناب ٹائپنگ میں غلطی ہو گئی ہے :)
Lol
شمشاد — اکتوبر 30، 2012 3:52 شام
Another typo... wanted to thank you Mr Shamshad :)
.No problem. Keep practicing. Practice makes a woman perfect​
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 30، 2012 6:51 شام
.No problem. Keep practicing. Practice makes a woman perfect​

Correction, women are already perfect, hence the saying refers only to men!
:) but thanks for the encouragement!
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C.55699/