بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو

ابن رضا — اکتوبر 4، 2015 7:54 صبح
واہ رضا بھائی۔ خوب
پسند آوری کا بہت شکریہ اسرار بھائی ۔ خوش رہیے
ابن رضا — اکتوبر 4، 2015 8:01 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل کہی ہے۔
پسند آوری اور حوصلہ افزائی کے لیے شکریہ سر۔
اب کہ شاید یہی بہتر ہے
سے مراد؟ اسے اب کے÷یا اب کی ہونا چاہئے نا!
:

یہ ٹائپو ہے سر یہاں "کے" ہی مقصود ہے
عُمرگُزری ہے صبا کہتے ہوئے جس کو مِری
÷÷الفاظ بدلے جائیں، ’مری‘ آخر میں اچھا نہیں لگ رہا۔
جو سجاتا تھا در و بام مِرے پھولوں سے
مرے پھول؟ مراد تو میرے در و بام سے ہے نا!!

جی بہتر
بات بے بات بھر آتی ہیں یہ آنکھیں میری
جیسا آسی بھائی کا خیال ہے، ’یہ‘ بھرتی کا ہے۔ اسے یوں کیا جا سکتا ہے
بات بے بات ہی بھر آتی ہیں آنکھیں

سر "ہی" بھی یہاں بھرتی کا نہیں لگ رہا؟؟؟ آنکھوں کو نگاہوں سے بدلنے کا ارادہ تھا مگر تذبذب میں ہوں کیوں کہ نگاہیں بھر آنا معمول کے محاورہ کے برعکس ہے؟؟
ابن رضا — اکتوبر 4، 2015 11:49 صبح
ٹیگ نامہ: نیرنگ خیال ، محمداحمد ، نایاب ، محمد اسامہ سَرسَری ، محمد خلیل الرحمٰن ، ماہی احمد ، نور سعدیہ شیخ
نور وجدان — اکتوبر 4، 2015 1:41 شام
بہت خوب جناب !
نایاب — اکتوبر 4، 2015 2:24 شام
واہہہہہہہہہہہ
بہت خوبصورت رواں دواں غزل
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
عمر سیف — اکتوبر 4، 2015 3:38 شام
بہت خوب ۔۔۔
ابن رضا — اکتوبر 5، 2015 7:02 صبح

واہہہہہہہہہہہ
بہت خوبصورت رواں دواں غزل
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں


پسند آوری کا بہت شکریہ ، خوش رہیے
نیرنگ خیال — اکتوبر 7، 2015 10:55 صبح
اعلیٰ۔۔۔ زبردست رضا بھائی۔۔۔۔ بہت سی داد قبول فرمائیے۔۔۔۔
ابن رضا — اکتوبر 7، 2015 1:21 شام
اعلیٰ۔۔۔ زبردست رضا بھائی۔۔۔۔ بہت سی داد قبول فرمائیے۔۔۔۔
نوازش حضور ۔ سلامت رہیے
سلمان حمید — اکتوبر 7، 2015 2:29 شام
بہت خوب۔ نوک پلک تو اساتذہ نے سنوار دی، لیکن پڑھنے کا مزہ آ گیا۔ داد قبول کیجئے۔
ابن رضا — اکتوبر 7، 2015 5:08 شام
بہت خوب۔ نوک پلک تو اساتذہ نے سنوار دی، لیکن پڑھنے کا مزہ آ گیا۔ داد قبول کیجئے۔
پسند آوری کا شکریہ ذوق سلامت رہے ۔ شاد و آباد رہیے
اوشو — اکتوبر 7، 2015 6:57 شام
عمدہ کلام ہے محترم !
داد قبول فرمائیے!
ابن رضا — اکتوبر 8، 2015 10:16 صبح
عمدہ کلام ہے محترم !
داد قبول فرمائیے!
بہت نوازش ۔ ۔ پسند آوری کا شکریہ محترم
محمد وارث — اکتوبر 8، 2015 10:47 صبح
خوب غزل ہے جناب
محمداحمد — اکتوبر 8، 2015 11:50 صبح
بہت ہی خوب غزل ہے ابن رضا بھائی!
خصوصاً یہ دو اشعار تو لاجواب ہیں۔
عُمرگُزری ہے صبا کہتے ہوئے جس کو مِری
حیف وہ موجہِ صرصر ہے، مجھے رونے دو
جو سجاتا تھا در و بام مِرے، پھولوں سے
اُس کے ہاتھوں میں بھی پتھر ہے، مجھے رونے دو

ایک اچھی غزل پر ڈھیروں داد اور مبارکباد قبول کیجے۔ :)
حمیرا عدنان — اکتوبر 8، 2015 1:58 شام
بہت ہی عمدہ
ابن رضا — اکتوبر 8، 2015 7:19 شام
بہت نوازش محترم وارث صاحب۔ جزاکم اللہ خیرا
ابن رضا — اکتوبر 8، 2015 7:20 شام
بہت ہی خوب غزل ہے ابن رضا بھائی!
خصوصاً یہ دو اشعار تو لاجواب ہیں۔
ایک اچھی غزل پر ڈھیروں داد اور مبارکباد قبول کیجے۔ :)
سراپا سپاس ہوں قبلہ، پسند آوری کا شکریہ، ذوق سلامت رہے
ابن رضا — اکتوبر 8، 2015 7:20 شام
پسند آوری کا شکریہ ، خوش رہیں
کاشف اختر — اکتوبر 21، 2015 2:49 شام
بہت عمدہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%D8%A7%D8%A8-%D8%B6%D8%A8%D8%B7-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1-%DB%81%DB%92%D8%8C-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92-%D8%AF%D9%88.84968/page-2