بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو

محمد یعقوب آسی — اکتوبر 31، 2015 2:28 شام
شکریہ شاہ جی یہ اخفا تو معمول کے ہیں اور عام مستعمل ہیں وزن کی بابت سر آسی صاحب کو مغالطہ ہو گیا تھا جس میں ایک کی تصدیق اوپر انہوں نے کر دی ہے۔ دوسری کا جواب باقی ہے۔ سلامت رہیں اور اپنی محبتوں سے نوازتے رہیں
معافی چاہتا ہوں۔
ابن رضا — اکتوبر 31، 2015 3:38 شام
۔۔
ابن رضا — اکتوبر 31، 2015 3:40 شام
سر اب شرمندہ تو نہ کریں مغالطہ لگنا کوئی ایسی بڑی بات نہیں ۔ بات چونکہ صرف وزن کی ہو رہی تھی جس کی بابت میں نے اوپر لکھا بھی تھا کہ اشکال دور فرما دیں وضاحت کے ساتھ تو آپ نے شعریت پر کوئی نکتہ آفرینی نہیں فرمائی تھی اس لیے صرف وزن کے متعلق ہی تصدیق چاہی تھی تاکہ اگر میں کوئی لفظ غلط باندھ رہا ہوں تو اصلاح ہو جائے۔
استفسار کا واحد مقصد حصولِ علم ہے۔ معذرت چاہتا ہوں سلامت رہیے
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 31، 2015 4:04 شام
سر اب شرمندہ تو نہ کریں مغالطہ لگنا کوئی ایسی بڑی بات نہیں ۔ بات چونکہ صرف وزن کی ہو رہی تھی جس کی بابت میں نے اوپر لکھا بھی تھا کہ اشکال دور فرما دیں وضاحت کے ساتھ تو آپ نے شعریت پر کوئی نکتہ آفرینی نہیں فرمائی تھی اس لیے صرف وزن کے متعلق ہی تصدیق چاہی تھی تاکہ اگر میں کوئی لفظ غلط باندھ رہا ہوں تو اصلاح ہو جائے۔
استفسار کا واحد مقصد حصولِ علم ہے۔ معذرت چاہتا ہوں سلامت رہیے

یہیں اردو محفل پر متعدد مواقع پر آپ سمیت دیگر احباب سے گفتگو رہی اور اس میں مختلف نکات و عناصر زیرِ بحث بھی آئے، میں نے اپنی گزارشات بھی پیش کیں۔ کچھ گزارشات جو کسی مربوط انداز میں تھیں ان کو اپنے بلاگ پر بھی نقل کر دیا۔ میرا ایک طویل انٹرویو انہی صفحات میں موجود ہے۔ اس میں بھی اپنے محدود علم کے مطابق اپنی گزارشات پیش کر چکا ہوں۔ نکتہ آفرینی فرمانا اپنا منصب کہاں حضرت!
مجھ بوڑھے شخص پر کاپی پیسٹ کا بوجھ ڈالنے کی بجائے آپ کسی فارغ وقت میں صفحہ گردانی کر لیجئے! کیا خیال ہے؟
ابن رضا — اکتوبر 31، 2015 4:09 شام
یہیں اردو محفل پر متعدد مواقع پر آپ سمیت دیگر احباب سے گفتگو رہی اور اس میں مختلف نکات و عناصر زیرِ بحث بھی آئے، میں نے اپنی گزارشات بھی پیش کیں۔ کچھ گزارشات جو کسی مربوط انداز میں تھیں ان کو اپنے بلاگ پر بھی نقل کر دیا۔ میرا ایک طویل انٹرویو انہی صفحات میں موجود ہے۔ اس میں بھی اپنے محدود علم کے مطابق اپنی گزارشات پیش کر چکا ہوں۔ نکتہ آفرینی فرمانا اپنا منصب کہاں حضرت!
مجھ بوڑھے شخص پر کاپی پیسٹ کا بوجھ ڈالنے کی بجائے آپ کسی فارغ وقت میں صفحہ گردانی کر لیجئے! کیا خیال ہے؟
جی بہتر سر!
وشال احمد — اکتوبر 31، 2015 4:28 شام
ایک تازہ غزل احباب کی نذر
بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو
دل مرا درد کا خوگر ہے ، مجھے رونے دو
ایک برسات کا منظر ہے عیاں آنکھوں سے
اِک تلاطم مرے اندر ہے، مجھے رونے دو
شدتِ غم نہ کہیں مانگ لے نذرانہِ جاں
اب کے شاید یہی بہتر ہے، مجھے رونے دو
جب سے ساقی نے دیا بزم نکالا مجھ کو
تب سے مینا ہے نہ ساغر ہے، مجھے رونے دو
یادِ رفتہ ہے، غمِ ہجر ہے، تنہائی ہے
ہر گھڑی ایک ہی منظر ہے، مجھے رونے دو
عُمرگُزری ہے
مری جس کو صبا کہتے ہوئے
حیف وہ موجہِ صرصر ہے، مجھے رونے دو
جو سجاتا تھا در و بام مِرے، پھولوں سے
اُس کے ہاتھوں میں بھی پتھر ہے، مجھے رونے دو
بات بے بات بھر آتی ہیں یہ آنکھیں میری
مجھ میں باقی یہی جوہر ہے، مجھے رونے دو
وقتِ رخصت جو دیا اُس نے رضاؔ عُذرِ جفا
وہ مجھے آج بھی اَزبر ہے، مجھے رونے دو

برائے توجہ اساتذہ
محمد یعقوب آسی صاحب و الف عین صاحب
واہ! بہت خوب
ابن رضا — نومبر 3، 2015 7:55 صبح
نوازش، شکریہ
ابن رضا — نومبر 7، 2015 8:00 صبح

بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو
دل مرا درد کا خوگر ہے ، مجھے رونے دو
ایک برسات کا منظر ہے عیاں آنکھوں سے
اِک تلاطم مرے اندر ہے، مجھے رونے دو
شدتِ غم نہ کہیں مانگ لے نذرانہِ جاں
اب کے شاید یہی بہتر ہے، مجھے رونے دو
جب سے ساقی نے دیا بزم نکالا مجھ کو
تب سے مینا ہے نہ ساغر ہے، مجھے رونے دو
یادِ رفتہ ہے، غمِ ہجر ہے، تنہائی ہے
کس قدر تلخ یہ منظر ہے، مجھے رونے دو
عُمرگُزری ہے مری جس کو صبا کہتے ہوئے
حیف وہ موجہِ صرصر ہے، مجھے رونے دو
جو سجاتا تھا گلوں سے در و دیوار مرے
اُس کے ہاتھوں میں بھی خنجرہے، مجھے رونے دو
بات بے بات ہو جاتی ہیں مری آنکھیں نم
مجھ میں باقی یہی جوہر ہے، مجھے رونے دو
وقتِ رخصت جو دیا اُس نے رضاؔ عُذرِ جفا
وہ مجھے آج بھی اَزبر ہے، مجھے رونے دو

محمد تابش صدیقی — مارچ 13، 2016 4:50 شام
بہت اعلیٰ ابنِ رضا بھائی۔
شدتِ غم نہ کہیں مانگ لے نذرانہِ جاں
اب کے شاید یہی بہتر ہے، مجھے رونے دو

عُمرگُزری ہے مری جس کو صبا کہتے ہوئے
حیف وہ موجہِ صرصر ہے، مجھے رونے دو

جو سجاتا تھا گلوں سے در و دیوار مرے
اُس کے ہاتھوں میں بھی خنجرہے، مجھے رونے دو

اس کو رو کر گنگناتے ہوئے پڑھنے کا دل کر رہا ہے۔ :)
ہادیہ — مارچ 13، 2016 4:55 شام
ایک تازہ غزل احباب کی نذر
بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو
دل مرا درد کا خوگر ہے ، مجھے رونے دو
ایک برسات کا منظر ہے عیاں آنکھوں سے
اِک تلاطم مرے اندر ہے، مجھے رونے دو
شدتِ غم نہ کہیں مانگ لے نذرانہِ جاں
اب کے شاید یہی بہتر ہے، مجھے رونے دو
جب سے ساقی نے دیا بزم نکالا مجھ کو
تب سے مینا ہے نہ ساغر ہے، مجھے رونے دو
یادِ رفتہ ہے، غمِ ہجر ہے، تنہائی ہے
ہر گھڑی ایک ہی منظر ہے، مجھے رونے دو
عُمرگُزری ہے
مری جس کو صبا کہتے ہوئے
حیف وہ موجہِ صرصر ہے، مجھے رونے دو
جو سجاتا تھا در و بام مِرے، پھولوں سے
اُس کے ہاتھوں میں بھی پتھر ہے، مجھے رونے دو
بات بے بات بھر آتی ہیں یہ آنکھیں میری
مجھ میں باقی یہی جوہر ہے، مجھے رونے دو
وقتِ رخصت جو دیا اُس نے رضاؔ عُذرِ جفا
وہ مجھے آج بھی اَزبر ہے، مجھے رونے دو

برائے توجہ اساتذہ
محمد یعقوب آسی صاحب و الف عین صاحب
بہت زبردست:)
ابن رضا — مارچ 13، 2016 4:56 شام
بہت اعلیٰ ابنِ رضا بھائی۔
اس کو رو کر گنگناتے ہوئے پڑھنے کا دل کر رہا ہے۔ :)
اس محبت اور پذیرائی کے لیے ممنون ہوں سلامت رہیے۔
ابن رضا — مارچ 13، 2016 4:57 شام
بہت نوازش!!:):)
مزمل حسین — اپریل 16، 2016 5:31 شام
شدتِ غم نہ کہیں مانگ لے نذرانہِ جاں
اب کے شاید یہی بہتر ہے، مجھے رونے دو
واہ کیا بات ہے!
الف عین — اپریل 17، 2016 7:33 صبح
اس میں کیوں ترمیم کی ہے کہ مصرع یوں ہو گیا
بات بے بات ہو جاتی ہیں مری آنکھیں نم
ہو جاتی‘ کا ’ہُجاتی‘ اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ اگر بھر آتی ہیں ستے بہتر یہی لگ رہا ہے تو الفاظ بدل دو،
بات بے بات ہوئی جاتی ہیں آنکھیں مری نم
یا

بات بے بات جو ہو جاتی ہیں آنکھیں مری نم
افتخار اش — اپریل 23، 2016 1:36 شام
کیا بات کہی
لاریب مرزا — اپریل 23، 2016 3:50 شام
واہ واہ واہ!! کیا کہنے!! بہت عمدہ کاوش ہے۔ ڈھیروں داد

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%D8%A7%D8%A8-%D8%B6%D8%A8%D8%B7-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1-%DB%81%DB%92%D8%8C-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%B1%D9%88%D9%86%DB%92-%D8%AF%D9%88.84968/page-4