بحر بتائیے

مزمل شیخ بسمل — ستمبر 27، 2012 8:18 شام
فاعلتن فاعلتن فاعلن
یہی جواب چاہیے تھا نا؟ ;) اب آپ بات کیجیے۔۔۔
اس بڑھ کر "سریع" جواب کیا ملتا؟ اور وہ بھی مطوی اور مکشوف :laughing:
مفتعلن مفتعلن فاعلن :)

شکرن :) تصدیق درکار تھی۔ میری بحرالفصاحت ہاتھ سے چلی گئی۔ :cry:
فاتح — ستمبر 27، 2012 8:23 شام
شکرن :) تصدیق درکار تھی۔ میری بحرالفصاحت ہاتھ سے چلی گئی۔ :cry:
قدما کی مثنویوں میں ملتی ہے یہ بحر لیکن موجودہ دور کے شعرا نے شاذ ہی اسے برتا ہے۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 27، 2012 8:26 شام
قدما کی مثنویوں میں ملتی ہے یہ بحر لیکن موجودہ دور کے شعرا نے شاذ ہی اسے برتا ہے۔

آپ تو استاد ہیں حضرت ایک آدھ غزل یا نوحہ لکھ ہی ڈالیں اس بھر میں۔ اتنی ناگوار بھی نہیں اب۔ :unsure:
فاتح — ستمبر 27، 2012 8:32 شام
آپ تو استاد ہیں حضرت ایک آدھ غزل یا نوحہ لکھ ہی ڈالیں اس بھر میں۔ اتنی ناگوار بھی نہیں اب۔ :unsure:
ہاہاہاہا
ہم یہ غزل لکھیں دعا کیجیے
آپ بھی کوشش تو بھلا کیجیے​
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 27، 2012 8:45 شام
ہاہاہاہا
ہم یہ غزل لکھیں دعا کیجیے​
آپ بھی کوشش تو بھلا کیجیے​

کوششیں تو کرتے رہیں گے مگر
میرؔ کے دیوان کا کیا کیجئے؟
:grin:
فاتح — ستمبر 27، 2012 8:47 شام
کوششیں تو کرتے رہیں گے مگر
میرؔ کے دیوان کا کیا کیجئے؟
:grin:
"ایک سو تین" آ ہی گیا ہے عدد​
یوں ہی لگے کرتے رہا کیجیے​
شام — اکتوبر 23، 2012 10:32 شام
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
بحر بتائیے
فاتح — اکتوبر 24، 2012 4:25 صبح
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
بحر بتائیے
فاعلن مفاعین فاعلن مفاعین
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 24، 2012 7:48 صبح
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
بحر بتائیے

فاعلن مفاعین فاعلن مفاعین

ٹائپو!!!
بحرِ ہزج مثمن اشتر۔
کیا خوب مترنم بحر ہے
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا
درد کی دوا پائی درد لا دوا پایا۔
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
شاہد شاہنواز — اکتوبر 29، 2012 9:27 شام
فاعلن مفاعیلن ، فاعلن مفاعیلن ۔۔۔
شاید میری یہ کوشش بھی اسی میں ہے:
دشمنوں سے دوری تھی، دوستوں نے آگھیرا
کافروں سے بچ نکلے، مومنوں نے آگھیرا
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 29، 2012 9:41 شام
فاعلن مفاعیلن ، فاعلن مفاعیلن ۔۔۔
شاید میری یہ کوشش بھی اسی میں ہے:
دشمنوں سے دوری تھی، دوستوں نے آگھیرا
کافروں سے بچ نکلے، مومنوں نے آگھیرا
یہ فاعلات مفعولن ہے :D
شام — نومبر 1، 2012 1:54 شام
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے
نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے
بحر
مزمل شیخ بسمل — نومبر 1، 2012 2:00 شام
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
فعل فعولن فعلن فع
تنہائی میں رو لیں گے
فعلن فعلن فعلن فع
نیند تو کیا آئے گی فراز
فعل فعولن فعل فعول
موت آئی تو سو لیں گے
فعلن فعلن فعلن فع
بحر

متقارب اثرم مقبوض محذوف
شام — نومبر 1، 2012 2:06 شام
شکریہ مزمل بھائی
کیا "فعلن فعلن فعلن فع" اصل وزن ہے اور اس میں کیا کیا وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں
مزمل شیخ بسمل — نومبر 1، 2012 2:08 شام
میرا مضمون
ہندی بحر کی حقیقت پڑھیں.
سمجھیں. سمجھ نہ آئے تو پوچھیں
پوری بحث موجود ہے وہاں اس حوالے سے.
امجد علی چیمہ — جولائی 14، 2021 8:33 صبح
اقبال کے اس شعر کی بحر سمجھ نہیں آ رہی:-
آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
بحر بتائیے۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 14، 2021 8:44 صبح
اقبال کے اس شعر کی بحر سمجھ نہیں آ رہی:-
آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
بحر بتائیے۔
یہ اقبالؒ کی شہرہ آفاق نظم مسجدِ قرطبہ کا شعر ہے۔
یہ نظم مفتَعِلن فاعِلن مفتَعِلن فاعِلن بحر پر ہے۔ اور اس میں ہر فاعلن کی جگہ فاعلان (فاعلات) آ سکتا ہے۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 14، 2021 8:47 صبح
یہ اقبالؒ کی شہرہ آفاق نظم مسجدِ قرطبہ کا شعر ہے۔
یہ نظم مفتَعِلن فاعِلن مفتَعِلن فاعِلن بحر پر ہے۔ اور اس میں ہر فاعلن کی جگہ فاعلان (فاعلات) آ سکتا ہے۔
اس کے مطابق شعر کی تقطیع یوں ہو گی:
آبِ روا = مفتعلن
نے کبیر = فاعلات
تیرے کنا = مفتعلن
رے کوئی = فاعلن
دیکھ رہا = مفتعلن
ہے کسی= فاعلن
اور زما = مفتعلن
نے کا خواب= فاعلات
امجد علی چیمہ — جولائی 14، 2021 10:57 صبح
صدیقی صاحب، اگر آپ صرف بحر بتاتے تو میں confuse ہی رہتا کہ کیسے۔ لیکن مشکور ہوں کہ آپ نے وضاحت کر دی، اور وہ بھی مکمل تقطیع کے ساتھ۔ بہت بہت شکریہ۔
البتہ مجھے یہ بات ضرور confuse کرتی رہے گی کہ مصرعے کے بیچ میں بھی فاعلات آ سکتا ہے؟ میں تو اسے اخیر سے منسوب سمجھتا رہا.
محمد تابش صدیقی — جولائی 14، 2021 11:00 صبح
البتہ مجھے یہ بات ضرور confuse کرتی رہے گی کہ مصرعے کے بیچ میں بھی فاعلان آ سکتا ہے؟ میں تو اسے اخیر سے منسوب سمجھتا رہا.
کسی کے لیے بھی ایسی کنفیوژن کی بنیادی وجہ لاعلمی ہوتی ہے۔
تھوڑا وقت نکال کر تمام مستعمل بحور کا بنیادی مطالعہ کر لیجیے۔ عروض کے آسان اسباق اب تو کافی میسر ہیں۔ ضروری نہیں کہ عروض کی گہرائی میں جایا جائے، یا عروضی اصطلاحات یاد کی جائیں۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92.33189/page-10