بحر بتائیے

جیلانی — اگست 17، 2011 8:29 صبح
لاکھوں درود اور لاکھوں سلام
اس کی بحر کیا ہوگی؟
الف عین — اگست 18، 2011 7:15 صبح
دوسرا مصرع بتاؤ تو کچھ بحر بنائی جا سکتی ہے، فی الحال تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
جیلانی — اگست 18، 2011 10:29 صبح
خیر البشر پر لاکھوں سلام
لاکھوں درود اور لاکھوں سلام
سب کو میسر ہو یہ مقام
پہنچیں مدینے بن کر غلام
اس کی بحر کیا ہوگی؟​
الف عین — اگست 20، 2011 6:54 صبح
فعل فعولنفعل فعو2ل
جیلانی — اگست 27، 2011 5:48 شام
دیکھتے ہیں اہلِ ایماں تیری راہ،الوداع اے ماہِ رمضاں الوداع
تجھ پہ قرباں مال و دولت عزّوجاہ،الوداع اے ماہِ رمضاں الوداع
مٹ گئے تیری بدولت سب گناہ،الوداع اے ماہ رمضاں الوداع
جارہا ہے چھوڑ کرتوہم کو آہ،الوداع اے ماہِ رمضاں الوداع
بحر کیا ہے؟
الف عین — اگست 29، 2011 4:59 صبح
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
آخر میں فاعلان بھی جائز ہے۔
جیلانی — ستمبر 3، 2011 8:24 شام
عشق ہی کارِ مسلسل ہو گیا ہے
زندگی کا مسئلہ حل ہو گیا ہے
بحر کونسی ہے؟
محمد اظہر نذیر — ستمبر 3، 2011 10:35 شام
عشق ہی کارِ مسلسل ہو گیا ہے
زندگی کا مسئلہ حل ہو گیا ہے
بحر کونسی ہے؟


بحر - بحر رمل مسدس محذوف
افاعیل - فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلُن
(آخری رکن میں فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آ سکتا ہے)
اشاری نظام - 2212 2212 212
(آخری رکن میں 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
جیلانی — ستمبر 4، 2011 5:14 شام
آئینے سے رہا کرئے کوئی
مجھ کو مجھ سے جدا کرئے کوئی
بحر کیا ہے ؟
محمد اظہر نذیر — ستمبر 4، 2011 6:26 شام
آئینے سے رہا کرئے کوئی
مجھ کو مجھ سے جدا کرئے کوئی
بحر کیا ہے ؟

بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
جیلانی — اکتوبر 3، 2011 8:59 شام
نظر اٹھے بھی تو خود ہی کو دیکھتا ہوں میں
نجانے کون سے جنگل میں آبسا ہوں میں
یہ شعر کس بحر میں ہے؟
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 3، 2011 9:13 شام
نظر اٹھے بھی تو خود ہی کو دیکھتا ہوں میں
نجانے کون سے جنگل میں آبسا ہوں میں
یہ شعر کس بحر میں ہے؟

بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
(آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فعِلان بھی آ سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2121 2211 2121 22
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 3، 2011 9:14 شام
:battingeyelashes:
جیلانی — اکتوبر 4، 2011 8:26 صبح
ننگے سچ کے لفظ زباں پر کیا کیا تھے
اور بچوں کے ہاتھ میں پتھر کیا کیا تھے
یہ شعر کس بحر میں ہے؟
جیلانی — اکتوبر 24، 2011 10:16 صبح
ننگے سچ کے لفظ زباں پر کیا کیا تھے
اور بچوں کے ہاتھ میں پتھر کیا کیا تھے
یہ شعر کس بحر میں ہے؟
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 24، 2011 10:59 صبح
ننگے سچ کے لفظ زباں پر کیا کیا تھے
اور بچوں کے ہاتھ میں پتھر کیا کیا تھے
یہ شعر کس بحر میں ہے؟

جناب جیلانی صاحب،
اساتذہ ہی بتا سکیں گے میں اس بحر کو نہیں پہچان پا رہا۔
خاکسار
اظہر
الف عین — اکتوبر 25، 2011 5:16 صبح
بحر متقرب ساڑھے سات رکنی۔ افاعیل۔۔
فعلن سات بار، آخر میں فع،فاع یا فعل
متلاشی — نومبر 25، 2011 9:28 صبح
دنیا کے منصفوں سے مجھ کو گلہ نہیں ہے
کافی ہے منصفی کو رب علیم میرا
اس کی بحر بتائیں؟
متلاشی — نومبر 25، 2011 9:29 صبح
ٹوٹی ہے کوئی شاخِ تمنا شاید
یہ کونسی بحر ہے؟
متلاشی — نومبر 25، 2011 9:31 صبح
کہاں یہ وجودِ خاکی ، کہاں مالکِ زمانہ
یہ کونسی بحر ہے؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92.33189/page-4