دوسرا مصرع بتاؤ تو کچھ بحر بنائی جا سکتی ہے، فی الحال تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
جیلانی — اگست 18، 2011 10:29 صبح
خیر البشر پر لاکھوں سلام
لاکھوں درود اور لاکھوں سلام
سب کو میسر ہو یہ مقام
پہنچیں مدینے بن کر غلام
اس کی بحر کیا ہوگی؟
الف عین — اگست 20، 2011 6:54 صبح
فعل فعولنفعل فعو2ل
جیلانی — اگست 27، 2011 5:48 شام
دیکھتے ہیں اہلِ ایماں تیری راہ،الوداع اے ماہِ رمضاں الوداع
تجھ پہ قرباں مال و دولت عزّوجاہ،الوداع اے ماہِ رمضاں الوداع
مٹ گئے تیری بدولت سب گناہ،الوداع اے ماہ رمضاں الوداع
جارہا ہے چھوڑ کرتوہم کو آہ،الوداع اے ماہِ رمضاں الوداع
بحر کیا ہے؟
الف عین — اگست 29، 2011 4:59 صبح
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
آخر میں فاعلان بھی جائز ہے۔
جیلانی — ستمبر 3، 2011 8:24 شام
عشق ہی کارِ مسلسل ہو گیا ہے
زندگی کا مسئلہ حل ہو گیا ہے
بحر کونسی ہے؟
بحر - بحر رمل مسدس محذوف
افاعیل - فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلُن
(آخری رکن میں فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آ سکتا ہے)
اشاری نظام - 2212 2212 212
(آخری رکن میں 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
جیلانی — ستمبر 4، 2011 5:14 شام
آئینے سے رہا کرئے کوئی
مجھ کو مجھ سے جدا کرئے کوئی
بحر کیا ہے ؟