زندگی ہے، اِمتحاں دَر اِمتحاں
زاویہ در زاویہ، مکتَب مِیاں!
شمع سے منسُوب ہے، مانندِ آگ
ہاتھ پر رکھیں خَطائیں، سب مِیاں!
کچھ وَضاحت کی ترے الزام نے
سِی لئے کچھ ہم نے اپنے لَب مِیاں !
سب ہی تنہا ہیں اَنا کی راہ پر
ایک قِصّہ نا شُنیدہ، سَب مِیاں!
جِس زَمانے میں لِکھے جاتے تھے خَط
فاصلے اِتنے نہیں تھے تَب مِیاں!
گُھل گئیں اُس کے بدن کی خُوشبؤیں
جاں فَزا تھی وَصل کی ہر شَب مِیاں!
چادرِ تَنہائی خود پر کھینچ لو
یاد کا رَوشن ہے اک کَوکَب مِیاں!
عُمر بھر کی آشنائی کا نِچوڑ
جو کہا کاشف نے، سب بے ڈَھب مِیاں!
سیّد کاشف