محمل ابراہیم — مارچ 31، 2022 4:29 صبح
سر یہ متبادل کیسا رہے گا۔۔۔۔۔
اِس شہر ستمگر کے سبھی رنگ وہی ہیں
یہ اونچے محلات ابھی تک نہیں بدلے
الف عین — مارچ 31، 2022 6:16 صبح
سر یہ متبادل کیسا رہے گا۔۔۔۔۔
اِس شہر ستمگر کے سبھی رنگ وہی ہیں
یہ اونچے محلات ابھی تک نہیں بدلے
درست ہے مگر بھائی عاطف کے مجوزہ مصرعے کے ساتھ پچھلا شعر بہتر ہو گا
محمل ابراہیم — مارچ 31، 2022 6:18 صبح
درست ہے مگر بھائی عاطف کے مجوزہ مصرعے کے ساتھ پچھلا شعر بہتر ہو گا
شکریہ سر پھر میں اسے ہی فوقیت دوں گی
محمل ابراہیم — مارچ 31، 2022 6:20 صبح
درست ہے مگر بھائی عاطف کے مجوزہ مصرعے کے ساتھ پچھلا شعر بہتر ہو
سر یہ متبادل کیسا رہے گا۔۔۔۔۔
اِس شہر ستمگر کے سبھی رنگ وہی ہیں
یہ اونچے محلات ابھی تک نہیں بدلے
سید عاطف علی
متشکرم
محمل ابراہیم — مارچ 31، 2022 6:24 صبح
اصلاح کے بعد۔۔۔۔۔۔
وہ فکر و خیالات ابھی تک نہیں بدلے
اے دل ترے حالات ابھی تک نہیں بدلے
کب وقت رکا ہے کسی انسان کی خاطر
اس دنیا کے دن رات ابھی تک نہیں بدلے
بس بات ہے اتنی کہ میں ظاہر نہیں کرتی
تم سے جڑے جذبات ابھی تک نہیں بدلے
امید تھی بدلے گا کہیں جا کے یہ عالم
افسوس یہ حالات ابھی تک نہیں بدلے
بدلے ہیں زمانے نے خیالات تمہارے
پر میرے خیالات ابھی تک نہیں بدلے
اجسام ہیں آزاد تو افعال مقید
احکامِ حوالات ابھی تک نہیں بدلے
غربت سے غریبوں کی سجے گھر امراء کے
یہ اونچے محلات ابھی تک نہیں بدلے