میرے خیال میں ”ار“ قافیہ بہتر ہے۔ ار سے پہلے ایک متحرک۔ جیسے نظر، مگر، گھر، پر، در وغیرہ۔
دوسری صورت قافیہ الف ہوسکتا ہے۔ جیسے بڑا، ہرا، بھرا، وغیرہ۔ لیکن یہ تو شاعرہ پر منحصر ہے کے وہ کس طور اسے باندھنا چاہینگی۔
اگر تمہاری اول الذکر تجویز کو منظور ی مل جائے تو قافیہ بہرحال تنگ ہو جائے گا اور شاعرہ کے لیے نسبتاً مشکل صورت حال پیدا ہو جائے گی تاہم میرا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے مشق سخن ہوگی اور ہم سب کچھ نہ کچھ سیکھیں گے۔۔۔
تو پھر یہ ہے کہ مطلع کے دوسرے مصرع کے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ:
ہرا ضرور ہے ہر پیڑ پر اُداس سا ہے
کی بجائے:
ہر ایک پیڑ ہرا ہے مگر اداس سا ہے
ہو جائے تو کیسا رہے گا؟
ہاں ایک اور بات ۔۔۔ ردیف میں ۔۔۔۔ اداس کے فوراً بعد دوسری سین ۔۔۔ اس سے کچھ بہتر آہنگ نہیں بن رہا
اگر ردیف میں بھی ترمیم کر کے یوں کر لیا جائے ۔۔۔۔ اداس لگا ۔۔
اسی صورت میں یہ مصرعہ یوں ہوگا
ہرایک پیڑ ہرا تھا مگر اداس لگا