برائے اصلاح

شکیل احمد خان23 — مارچ 18، 2020 3:18 شام
اس سے پہلے آپکی خدمت میں ایک قطعہ پیش کرنے کی اجازت مل جائے۔ کل صبح تک انشاء اللہ مکمل ہو جایےگا۔
والسّلام
اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ،اجازت کیسی ، اِرشاد فرمائیے ، دل شاد فرمائیے!
بدر القادری — مارچ 18، 2020 5:32 شام
اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ،اجازت کیسی ، اِرشاد فرمائیے ، دل شاد فرمائیے!
اسّلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
شکیل بھائی آپ نے جو کچھ میرے اور میری غزل کے تعلق سے لکھا اور اتنے بلند و عظیم المرتبہ شعراءکو ادباء کو میرے ھمرھاں قرار دیا یا دےنے کی سعی فرمائی "معاذاللہ، ثم معاذاللہ" میں انکی خاکِ پا کا ہمدوش نہیں ہو سکتا۔ خیر...
تشکر کے الفاظ سے تہی دامن ہوں۔
ایک قطعہ آپ کی خدمت میں عرض ہے۔زمین آپ جانتے ہیں کہ غالب کی ہے
معذرت کہ "تم" سے خطاب کیا ہے
قطعہ
اے میرے دوست، شکیل احمد خاں
کتنی شیریں ہے تمہاری گفتار
جتنا تمنے انہیں سراہا ہے
اتنے قابل نہیں مرے اشعار
اتنی اعطاء و عنایات کا بوجھ
کب اُٹھا پائے گا یہ بدرِ نزار
"تم نے مجھکو جو آبرو بخشی"
زندگی بھر رہونگا شکر گزار
مجھکو کہئے نہ ہمراں اُن کا
وہ نشانِ ادب، بلند اُفکار
ہمرکاب ان کا میں نہیں کہ جو تھے
شاہ راہِ سخن کے شاہ سوار
اتنی جرأت نہیں کہوں خود کو
اسبِ غالب کی خاکِ راہ گزار
وہ "ریاضِ" سخن طراز کہاں
اور کہا مجھسا ناقص الگفتار
میں کہاں دردِ حق شناس کہاں
اسقدر بھی نہ دیجئے آزار
ہائے! اقبال اور بدرِ سبیل
جانتا ہوں میں اپنا استحقار
وہ خداے سخن میں بندہ ہوں
اے، معاذ اللہ ہزار استغفار
جوش، اسکات بھی نوا جسکا
اور انفاس بھی غزل میں شمار
میر انیس، ایسا دوسرا نہ ملا
مرثیہ خواں تہِ کبود حصار
"مجھ کو اکسیر خاکِ راہ ہے وہ
جس پہ چلتے تھے یہ فلک اشہار
والسلام
خاکِ پائے شعراء
بدر القادری​
سید عاطف علی — مارچ 18، 2020 6:10 شام
مر کر بھی اپنی صحرا نوردی نہ مر سکی
اس مصرع کی بندش کچھ چست نہیں لگی ۔ باقی غزل اچھی ہے خوب پسند آئی ۔
صحرا نوردی مر کے بھی اپنی نہ مر سکی ۔ اس طرح کچھ بہتر ہے۔
شکیل احمد خان23 — مارچ 18، 2020 7:46 شام
اسّلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
شکیل بھائی آپ نے جو کچھ میرے اور میری غزل کے تعلق سے لکھا اور اتنے بلند و عظیم المرتبہ شعراءکو ادباء کو میرے ھمرھاں قرار دیا یا دےنے کی سعی فرمائی "معاذاللہ، ثم معاذاللہ" میں انکی خاکِ پا کا ہمدوش نہیں ہو سکتا۔ خیر...
تشکر کے الفاظ سے تہی دامن ہوں۔
ایک قطعہ آپ کی خدمت میں عرض ہے۔زمین آپ جانتے ہیں کہ غالب کی ہے
معذرت کہ "تم" سے خطاب کیا ہے
قطعہ
اے میرے دوست، شکیل احمد خاں
کتنی شیریں ہے تمہاری گفتار
جتنا تمنے انہیں سراہا ہے
اتنے قابل نہیں مرے اشعار
اتنی اعطاء و عنایات کا بوجھ
کب اُٹھا پائے گا یہ بدرِ نزار
"تم نے مجھکو جو آبرو بخشی"
زندگی بھر رہونگا شکر گزار
مجھکو کہئے نہ ہمراں اُن کا
وہ نشانِ ادب، بلند اُفکار
ہمرکاب ان کا میں نہیں کہ جو تھے
شاہ راہِ سخن کے شاہ سوار
اتنی جرأت نہیں کہوں خود کو
اسبِ غالب کی خاکِ راہ گزار
وہ "ریاضِ" سخن طراز کہاں
اور کہا مجھسا ناقص الگفتار
میں کہاں دردِ حق شناس کہاں
اسقدر بھی نہ دیجئے آزار
ہائے! اقبال اور بدرِ سبیل
جانتا ہوں میں اپنا استحقار
وہ خداے سخن میں بندہ ہوں
اے، معاذ اللہ ہزار استغفار
جوش، اسکات بھی نوا جسکا
اور انفاس بھی غزل میں شمار
میر انیس، ایسا دوسرا نہ ملا
مرثیہ خواں تہِ کبود حصار
"مجھ کو اکسیر خاکِ راہ ہے وہ
جس پہ چلتے تھے یہ فلک اشہار
والسلام
خاکِ پائے شعراء
بدر القادری​
شکریہ بدرصاحب !
آپ کی اِس درجہ محبت کے لیے میں آپ کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکرگزار ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش ، صحت مند اور تندرست رکھے اور آپ کے دم قدم سے گلستانِ اُردُو اَدَب کی بہاروں کو دوام و استقرارو استحکام بخشے، آمین ثم آمین یا رب العالمین!
بدر القادری — مارچ 19، 2020 5:52 صبح
ہائے! اقبال اور بدرِ سبیل
یہ اصل میں "بدرِ سفیل" ہے۔
ٹائپنگ کی غلطیوں سے معذرت۔
بدر القادری — مارچ 19، 2020 5:56 صبح
اس مصرع کی بندش کچھ چست نہیں لگی ۔ باقی غزل اچھی ہے خوب پسند آئی ۔
صحرا نوردی مر کے بھی اپنی نہ مر سکی ۔ اس طرح کچھ بہتر ہے۔
سید عاطف علی صاحب بہت عنایت بہت شکریہ۔
محمد عبدالرؤوف — مارچ 19، 2020 7:30 صبح
ماشاء اللہ بھائی
بہت اچھی کاوش ہے
شکیل احمد خان23 — مارچ 19، 2020 1:22 شام
اسّلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
شکیل بھائی آپ نے جو کچھ میرے اور میری غزل کے تعلق سے لکھا اور اتنے بلند و عظیم المرتبہ شعراءکو ادباء کو میرے ھمرھاں قرار دیا یا دےنے کی سعی فرمائی "معاذاللہ، ثم معاذاللہ" میں انکی خاکِ پا کا ہمدوش نہیں ہو سکتا۔ خیر...
تشکر کے الفاظ سے تہی دامن ہوں۔
ایک قطعہ آپ کی خدمت میں عرض ہے۔زمین آپ جانتے ہیں کہ غالب کی ہے
معذرت کہ "تم" سے خطاب کیا ہے
قطعہ
اے میرے دوست، شکیل احمد خاں
کتنی شیریں ہے تمہاری گفتار
جتنا تمنے انہیں سراہا ہے
اتنے قابل نہیں مرے اشعار
اتنی اعطاء و عنایات کا بوجھ
کب اُٹھا پائے گا یہ بدرِ نزار
"تم نے مجھکو جو آبرو بخشی"
زندگی بھر رہونگا شکر گزار
مجھکو کہئے نہ ہمراں اُن کا
وہ نشانِ ادب، بلند اُفکار
ہمرکاب ان کا میں نہیں کہ جو تھے
شاہ راہِ سخن کے شاہ سوار
اتنی جرأت نہیں کہوں خود کو
اسبِ غالب کی خاکِ راہ گزار
وہ "ریاضِ" سخن طراز کہاں
اور کہا مجھسا ناقص الگفتار
میں کہاں دردِ حق شناس کہاں
اسقدر بھی نہ دیجئے آزار
ہائے! اقبال اور بدرِ سبیل
جانتا ہوں میں اپنا استحقار
وہ خداے سخن میں بندہ ہوں
اے، معاذ اللہ ہزار استغفار
جوش، اسکات بھی نوا جسکا
اور انفاس بھی غزل میں شمار
میر انیس، ایسا دوسرا نہ ملا
مرثیہ خواں تہِ کبود حصار
"مجھ کو اکسیر خاکِ راہ ہے وہ
جس پہ چلتے تھے یہ فلک اشہار
والسلام
خاکِ پائے شعراء
بدر القادری​
اب کیا کہوں کہ ربط ہے کیا آبلوں کے ساتھ
میلوں سفر کیا ہے اِنھیں دوستوں کے ساتھ
زاہد بھی سیکھ جائیں گے آدابِ بندگی
بیٹھیں گے چند روز اگر میکشوں کے ساتھ
مر کر بھی اپنی صحرا نوردی نہ مر سکی
اُڑ اُڑ کے خاک جاتی رہی قافلوں کے ساتھ
یہ کافری نہیں تو بتا کیا ہے کافری
مایوسیاں خدا سے اُمیدیں بتوں کے ساتھ
یہ کم نہیں کہ راہ کی ظلمت مٹا گئے
کیا غم ہے جل گئے ہیں اگر مشعلوں کے ساتھ
سر دے کے سرفراز ہیں راہِ وفا میں جو
یارب ہو میرا حشر اُنھیں ’’بے سَروں ‘‘ کے ساتھ
Muhammad Ishfaq — مارچ 20، 2020 7:00 صبح
اب کیا کہوں کہ ربط ہے کیا آبلوں کے ساتھ
میلوں سفر کیا ہے اِنھیں دوستوں کے ساتھ
زاہد بھی سیکھ جائیں گے آدابِ بندگی
بیٹھیں گے چند روز اگر میکشوں کے ساتھ
مر کر بھی اپنی صحرا نوردی نہ مر سکی
اُڑ اُڑ کے خاک جاتی رہی قافلوں کے ساتھ
یہ کافری نہیں تو بتا کیا ہے کافری
مایوسیاں خدا سے اُمیدیں بتوں کے ساتھ
یہ کم نہیں کہ راہ کی ظلمت مٹا گئے
کیا غم ہے جل گئے ہیں اگر مشعلوں کے ساتھ
سر دے کے سرفراز ہیں راہِ وفا میں جو
یارب ہو میرا حشر اُنھیں ’’بے سَروں ‘‘ کے ساتھ
اگرآپ ،،
یہ کافری نہیں تو بتا کیا ہے کافری
مایوسیاں خدا سے اُمیدیں بتوں کے ساتھ ،، نکال بھی دیں تب بھی شعروں کی تعداد معقول ہے۔ باقی آ پ کی غزل بہت اچھی ہے۔ کیونکہ قاری علامہ اقبال ؒ کے اس شعر سے نا واقف نہیں ہے۔ باقی آپ کی مرضی۔۔۔۔
الف عین — مارچ 21، 2020 4:01 صبح
کافری والے شعر پر نشان لگا کر نوٹ لکھ دیں کہ اقبال کا شعر یوں ہے۔ سرقے کا الزام لگانے والا فوراً واپس لے کے گا
بدر القادری — مارچ 21، 2020 8:37 صبح
اگرآپ ،،
یہ کافری نہیں تو بتا کیا ہے کافری
مایوسیاں خدا سے اُمیدیں بتوں کے ساتھ ،، نکال بھی دیں تب بھی شعروں کی تعداد معقول ہے۔ باقی آ پ کی غزل بہت اچھی ہے۔ کیونکہ قاری علامہ اقبال ؒ کے اس شعر سے نا واقف نہیں ہے۔ باقی آپ کی مرضی۔۔۔۔
کافری والے شعر پر نشان لگا کر نوٹ لکھ دیں کہ اقبال کا شعر یوں ہے۔ سرقے کا الزام لگانے والا فوراً واپس لے کے گا
ذرہ نوازی کا بہت شکریہ محمد اشفاق صاحب
استاذ الف عین صاحب کی تجویز بہت پسند آئی۔
کہ الزام لگانے سے پہلے سر پر لے لیا جائے، لگانے نوبت ہی نہ آئے۔
بدر القادری — مارچ 21، 2020 8:37 صبح
شکریہ استاذ الف عین صاحب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.110851/page-2