محمد جنید — جنوری 11، 2016 2:24 شام
کاشف اختر صاحب ! ماشاءاللہ ۔بہت خوب
کاشف اختر — جنوری 27، 2016 9:56 صبح
دوسرے مصرع کی مناسبت سے یہاں بھی جفاؤں کا ذکر جمع میں مناسب تھا۔
جفائیں ستمگر کی مجھ سے نہ پوچھو !
ٹیگ ۔
الف عین صاحب ،
فاتح بھائی ؟؟
یہ مصرع چل سکتا ہے ؟؟
فاتح — جنوری 27، 2016 11:44 صبح
جفائیں ستمگر کی مجھ سے نہ پوچھو !
ٹیگ ۔
الف عین صاحب ،
فاتح بھائی ؟؟
یہ مصرع چل سکتا ہے ؟؟
جفائیں ستمگر کی مجھ سے نہ پوچھو !
میں صدیوں ترستا رہا اک نظر کو
اعجاز صاحب بتا سکتے ہیں۔ مجھے تو دونوں صورتوں میں ٹھیک لگ رہا ہے۔
کاشف اختر — جنوری 27، 2016 12:30 شام
محترم
ظہیراحمدظہیر صاحب!
الف عین صاحب !
فاتح بھائی اللہ آپ حضرات کو صحت و عافیت عطا کرے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے،
بڑھادے کوئی میرے عزم سفر کو
نہ روکے خدا را مرے رہگذر کو!
یہ مطلع میں چل سکتا ہے؟
واللہ مجھے بڑا افسوس ہے کہ بار بار آپ حضرات کو پریشان کر رہا ہوں، اس لئے بے شمار معذرتیں قبول فرمائیں!
فاتح — جنوری 27، 2016 12:46 شام
محترم
ظہیراحمدظہیر صاحب!
الف عین صاحب !
فاتح بھائی اللہ آپ حضرات کو صحت و عافیت عطا کرے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے،
بڑھادے کوئی میرے عزم سفر کو
نہ روکے خدا را مرے رہگذر کو!
یہ مطلع میں چل سکتا ہے؟
واللہ مجھے بڑا افسوس ہے کہ بار بار آپ حضرات کو پریشان کر رہا ہوں، اس لئے بے شمار معذرتیں قبول فرمائیں!
عزم سفر کیسے بڑھایا جائے؟ اور رہگزر کو روکنا مزا نہیں آیا۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 27، 2016 2:00 شام
محترم
ظہیراحمدظہیر صاحب!
الف عین صاحب !
فاتح بھائی اللہ آپ حضرات کو صحت و عافیت عطا کرے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے،
بڑھادے کوئی میرے عزم سفر کو
نہ روکے خدا را مرے رہگذر کو!
یہ مطلع میں چل سکتا ہے؟
واللہ مجھے بڑا افسوس ہے کہ بار بار آپ حضرات کو پریشان کر رہا ہوں، اس لئے بے شمار معذرتیں قبول فرمائیں!
کاشف بھائی ۔ معذرت کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ شعر و ادب کی گفتگو میں پریشان کرنے یا نہ کرنے کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہونا چاہیئے ۔ فاتح بھائی سے متفق ہوں ۔ درست محاورہ ’’راہ روکنا ‘‘ہے راہگزر روکنا نہیں ۔
کاشف اختر — جنوری 27، 2016 3:27 شام
تو اب بالآخر اسی شعر کو مطلع بنادیتاہے ہوں جس کی بابت الف عین صاحب فرماچکے ہیں،
کسی دن تو آئیں وہ میرے نگر کو
کہ ہے انتظار ان کا شام و سحر کو!
کاشف اختر — جنوری 27، 2016 3:29 شام
کاشف بھائی ۔ معذرت کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ شعر و ادب کی گفتگو میں پریشان کرنے یا نہ کرنے کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہونا چاہیئے ۔ فاتح بھائی سے متفق ہوں ۔ درست محاورہ ’’راہ روکنا ‘‘ہے راہگزر روکنا نہیں ۔
شکریہ ظہیر صاحب! ہمت افزائی اور اچھے مشورے کیلئے بے حد ممنون ہوں! فاتح بھائی کا بھی بہت بہت شکریہ! کہ انہوں کے خوب اچھی رہنمائی کی!
ایم اے راجا — جنوری 31، 2016 10:50 صبح
بہت خوب استاذ ِ محترم! جزاکم اللہ خیرا!
کاشف اسرار احمد — فروری 3، 2016 4:54 صبح
ہم جیسے مبتدیوں کی رائے بھی کیا رائے ہے بھائی! لیکن آپ نے ٹیگ کیا سو کہتا ہوں۔ آراء سے صرفِ نظر کر لینا آپ کا حق رہیگا۔
ایک بار دیکھ لیں۔
بڑھادے کوئی میرے سوزِ جگر کو
ہوا دے دے پھر نار ِعزم ِ سفر کو
یہاں 'نار' بمعنی "آگ" کچھ رواں نہیں لگتا۔
ہوا دے دے پھر "میرے" عزمِ سفر کو۔۔ ایک تجویز۔
ہو جرات کسی میں تو جائے ادھر کو
جہاں سے لگی ہے نظر اِس نظر
نظر کو نظر لگنے پر بات ہو چکی ہے۔
بناتا رہا آشیانہ مسلسل
پلٹ کر نہ دیکھا کبھی بھی شرر کو
شرر تو ایک لمحہ کا معاملہ ہوتا ہے بھائی۔ اسے کیسے پلٹ کر دیکھ سکتے ہیں۔
ایک بار پھر سوچ لیں اس پر۔
چلاکر وہ دل پر جفاؤں کے خنجر
برا اب سمجھتے ہیں خونِ جگر کو
چلا کر جفاؤں کے خنجر وہ دل پر ۔۔ زیادہ رواں صورت لگتی ہے۔
کاشف اختر — فروری 3، 2016 10:44 صبح
کاشف اسرار احمد صاحب ! توجہ اور اچھے مشورے کیلئے آپکا بہت بہت شکریہ !
تمام باتوں سے متفق ہوں ! صرف شرر والی بات سمجھ میں نہیں آئی ۔ اس لئے کہ یہاں تو شرر کا آشیانے سے تقابل کرنا ہے ،پتہ نہیں اس کو کیا کہا جاتا ہے صنعت ِ تضاد یا اور کچھ ۔
اس کیلئے اس خیالی و فرضی صورت" دیھکھنے " سےجس جس کی منظر کشی کی گئی ہے ، کافی ہے گو حقیقتا شرر کا دیکھنا متحقق نہ ہوسکے۔دوسری بات یہ کہ شرر دیکھنے کی نفی ہے۔ اثبات نہیں کہ یہ اعتراض ہوسکے ،
ویسے آپ کی رائے اچھی ہے ۔