۔1۔ دراصل مجھے نہ عروض کی شدھ بدھ سے (شُد بُد ہے) اور نہ ہی قوافی سے متعلق کوئی بھی کتاب پڑھنے کا موقع ملا پایا ھے۔ اپنی طبع اور قیاس کے مطابق شعر کہتا ہوں
۔2۔ میرے علم میں اضافہ کی خاطر و مجہول اور معروف پر کچھ راشنی ڈالئے
اپنی طبع اور قیاس بڑی اچھی بات ہے تاہم یہ اکیلی آپ کا تادیر ساتھ نہیں دے سکے گی۔ عروض اور قوافی پر بہت عمدہ کتابیں دستیاب ہیں۔ اسی فورم پر مختلف کتابوں کے لنکس کی ایک طویل فہرست تو جناب حسان خان نے رکھی ہے، ایک میں نے بھی رکھی ہے۔ اہم تر بات یہ ہے کہ اپنے ہم عصر سینئر دوستوں کی شاعری پڑھئے۔ اور اگلے مرحلے میں احمد فراز اور ناصر کاظمی کا مطالعہ کیجئے، پھر اساتذہ کا۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ مضمون اور زبان کے ساتھ ان بزرگوں کا برتاؤ کیسا ہے۔
معروف اور مجہول: تفصیل تو خیر نہیں (کہ لکھنا بہت پڑے گا، اور یہ بوڑھی ہڈیاں احتجاج کی عادی ہوتی جا رہی ہیں)؛ کچھ مختصر مختصر عرض کر دوں۔
اپنے ماقبل کے اعراب کے حوالے سے واو اور یائے (غیر متحرک) کی تین تین صورتیں ہیں:
واوَ لِین اور یائے لِین (اعراب غیر موافق۔ زبر الف کا اعراب ہے): اِن سے پہلے حرف پر زبر ہو؛ طَور، دَوڑنا، سَودا، چَوڑائی، خَیر، حَیرت، حَیوان، مَے، شَے، کَیسا، بَیر (دشمنی)۔
واوِ مجہول اور یائے مجہول (اعراب کا نہ ہونا): اِن سے پہلے حرف پر کوئی حَرکت نہ ہو؛ چور، مور، دو، لو، دیکھو، سوچو، بے کار، تیرا، میرا، تیز، بیچے، دیگ، بیر (پھل)۔
نوٹ: واوِ معدُولہ اس بحث میں شامل نہیں ہے۔
واوِ معروف (اعراب موافق ۔ پیش واو کا اعراب ہے): واو سے پہلے حرف پر پیش ہونا؛ خُون، طُوفان، سپُوت، قصُور، جمُود، طاغُوت، حُور، مُور۔
یائے معروف (اعراب موافق ۔ زیر یائے کا اعراب ہے): تِین، مدارِی، دِیوار، رِیش، شِیشہ، بِیر (ہندو اساطیر کی ایک اصطلاح)۔
نوٹ: اردو میں رسماً یائے لِین اور یائے مجہول کے لئے لمبی ے، اور یائے معروف کے لئے گول ی لکھتے ہیں۔ عربی فارسی میں ایسا لازم نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔