شکر اے عاطف بھرا مولی نوے نئی تاں میکوں ڈھوڈا منجڑاں پووے ھا
شکر اے عاطف بھرا مولی نوے نئی تاں میکوں ڈھوڈا منجڑاں پووے ھا
یہاں چند متبادل ہیں ذہن میں۔۔۔۔۔ان کے متعلق رائے دیجیے
دوسرے دو درست ہیں۔ عشاقان اس سے قبل مستعمل نہیں دیکھا۔
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔تساں بھرا نال مذاق کیتے۔۔۔نیت ناں ہئی تاں صلح دی کیا ضرورت ہئی؟؟؟
ریحان بھائی!
آپ کی حسیات کی داد دینی لازم ہے کہ اس غزل میں چھپے درد کو محسوس کر لیا ہے آپ نے

پوری غزل پڑھی تھی۔ میری مراد یہ تھی پہلے مصرعے نے یوں جکڑ لیا کہ ساری غزل پڑھ لی یعنی پہلا مصرع ہی بہت زبردست تھا