محترم
الف عین صاحب
محترم
محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
تبدیل شدہ غزل دیکھیے
درد جو بھی پیار میں مجھ کو ملا اچھا لگا
ہجر کی سوزن سے خود کو چھیدنا اچھا لگا
پار کرنا تھا مجھے بھی ایک دریا عشق کا
اتفاقاً مجھ کو بھی کچا گھڑا اچھا لگا
جھیل، دریا اور سمندر کا بھی ہے شیدائی وُہ
پَر مری آنکھوں میں اس کو تیرنا اچھا لگا
ہاتھ بھی کاٹے مرے، رہنے دیئے پاؤں نہیں
میں امیرِ شہر کو بے دست و پا اچھا لگا
کہہ دیا مخلُوقِ کو جذبات سے کھیلے مگر
خود خُدا کو قسمتوں سے کھیلنا اچھا لگا
جاگتے اہلِ جنوں ہیں رات بھر تیرے لیے
کب کسی کو ہے یہ ورنہ رت جگا اچھا لگا
جھیلنا ہیں درد کیسے ، کیسے تنہا رہنا ہے
یہ ہنر بھی دل سے اپنے سیکھنا اچھا لگا
ہو گی یہ مخلُوقِ ساری پر کشش لیکن مجھے
قسم ہے کوئی نہیں تیرے سوا اچھا لگا
پاس میرے لوٹ آیا آزما کر سب کو وُہ
ہار کر اس بے وفا سے جیتنا اچھا لگا
چاہتا تھا ریشم و کم خواب وُہ اپنے لیے
جھونپڑی اس کو، نہ میرا بوریا اچھا لگا
رکھ دیا سب کھول کر مقبول اس نے سامنے
جھوٹ کی دُنیا میں مجھ کو آئینہ اچھا لگا