میرے خیال میں مطلع دوسرا دوبارہ کہا جائے، پرانا ورق پھٹنے کی غلطی کے علاوہ جدید طرزوں سے کٹنا بھی عجیب ہے، گویا پہلے جدید تھے، اور اب کٹ چکے ہیں! اصل میں زمین ایسی سنگلاخ لے لی ہے کہ قوافی گنے چنے ہی استعمال ہو سکتے ہیں
بس اک پتے... بہتر ہے لیکن اس طرح نہیں جیسے ترمیم کی گئی ہے، مثلاً
بس اک پتے پر جو خط مجھے لکھ رہے ہیں، ان کو خبر نہیں ہے
دوسرا مصرع قبول کیا جا سکتا ہے لیکن پہلا مصرع روانی مخدوش ہے۔'نہ تھے' ہی کیوں؟
وہ اور کیا چاہتے ہیں مجھ سے....
وہ اور کیا چاہتے ہیں میری جو پیش قدمی سے خوش نہیں ہیں
یا کوئی اور شکل
کہانی کی ی کا اسقاط ناگوار ہے
فراق کی داستاں ہے بکھری میں جتنے...( ہے ہر سو میں تنافر ہے، اس لئے بدلنے کی کوشش کی ہے)
پہلے مصرع کی روانی بہتر کرو
دوسرے میں بھی پہلی جگہ "چکا ہوں" کا بیانیہ بدلو۔
نشہ تو چل سکتا ہے، لیکن بازی خود ہی الٹتی ہے، میں بازی الٹ چکا ہوں مجھے درست نہیں لگ رہا
سر
الف عین ، بہت شکریہ
اب دیکھیے
روایتوں کا امین تھا اب پرانے رستوں سے ہٹ چکا ہوں
جدید طرزوں پہ چلتے چلتے میں اپنے لوگوں سے کٹ چکا ہوں
بس اک پتے پر مجھے جو لکھتے ہیں خط یہ ان کو خبر نہیں ہے
کہ جب سے تم سے جدا ہوا ہوں میں کتنے ٹکڑوں میں بٹ چکا ہوں
وُہ اور کیا چاہتے ہیں میری جو پیش قدمی سے خوش نہیں ہیں
اب الٹے قدموں پہ چلتے چلتے میں قبر تک تو سمٹ چکا ہوں
کہیں تو ملتا وصال کا لفظ زندگی کی کتاب میں بھی
ہے داستانِ فراق ہر سو، میں جتنے اوراق الٹ چکا ہوں
نہ میرے آنے کی راہ دیکھیں ، وُہ اپنے گھر کے جھروکوں سے اب
کہ میں نے مذہب بدل لیا ہے میں راہِ الفت سے ہٹ چکا ہوں
عبادتیں صبح و شام کی ہیں نہ کام کی ہیں مری دعائیں
نہ ہو گی توبہ قبول میری ، میں جن گناہوں سے اٹ چکا ہوں
حسین چہروں سے ہار جانے میں بھی تو مقبول اک نشہ ہے
ہے خلق حیراں کہ مہ وشوں سے میں جیتی بازی الٹ چکا ہوں
سر، بعض اوقات کھیلنے والا ہار کے ڈر سے گیم کا بورڈ الٹ دیتا ہے جبکہ شاعر جیتی ہوئی بازی کا بورڈ جان بوجھ کر الٹتا ہے کیونکہ اسے محبوب سے ہارنے میں مزہ آتا ہے