ایک ممکنہ صورت: ۔۔۔۔۔۔غزل
آکے وہ میری موت کو آسان کر گیا
اٹکی تھی جان اُس میں ہی یہ جان کر گیا
اک لفظ بھی تو کہہ نہ سکا اس کے روبرو
حالانکہ سب کہوں گا جو تھا ٹھان کر گیا
محفل میں آنکھ بھر کے بھی دیکھا نہیں مجھے
اور پیدا چشمِ تر میں وہ طوفان کر گیا ’’۔کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘ شہر میں کہیں
جاری امیرِوقت یہ فرمان کرگیا
کر کے گناہ شیخ جی کرتے ہیں عذر یہ
ہم نے کہاں یہ کام تو شیطان کر گیا
کیا کیا ثبوت عشق کے وہ اور دے تجھے
تجھ پر جو اپنے آپ کو قربان کر گیا
تھا اُس کے پاس دینے کو مقؔبول اور کیا
زخمِ جگر سنبھال جو وہ دان کر گیا
حوالہ دینے سے میری مراد شعری حوالہ نہیں، فٹ نوٹ سے تھی ۔ یعنی نیچے نوٹ دیا جائے کہ فیض کا مصرع ہے
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کےچلے
تاکہ قاری کو معلوم ہو سکے کہ شاعر نے فیض کا ٹکڑا دانستہ استعمال کیا ہے
اس شکل سے تو مقبول کا ورژن ہی بہتر تھا۔ لیکن تمہارے یہ دو مصرعے پسند آئے، مقبول قبول کر سکتے ہیں
اک لفظ بھی تو کہہ نہ سکا اس کے روبرو
جاری امیرِ شہر یہ فرمان کرگیا