امان زرگر — اپریل 11، 2018 6:25 شام
اس غلط فہمی کی طرف اشارہ تھا کہ علامت ! سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تخاطب آغوش سے ہے۔ یعنی علامت لگانے سے اور مبہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ریحان شاید مجھ سے متفق نہیں۔ علامت نکال دینے سے پتہ چلتا ہے کہ شاعر شاید 'میں' کو استعمال کرنا بھول گیا ہے۔ مجھے تو دونوں صورتوں میں شعر غلط ہی محسوس ہوا۔
اللہ!۔۔۔۔ سنیے جی۔۔۔
محمد تابش صدیقی 
متبادل سوچتا ہوں۔۔۔۔۔ اس کام میں تو اپنا کوئی ثانی نہیں ہے جی۔۔۔۔

امان زرگر — اپریل 11، 2018 6:39 شام
درست کہا ہے، علامت سے بات واضح ہے۔
اس غلط فہمی کی طرف اشارہ تھا کہ علامت ! سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تخاطب آغوش سے ہے۔ یعنی علامت لگانے سے اور مبہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ریحان شاید مجھ سے متفق نہیں۔ علامت نکال دینے سے پتہ چلتا ہے کہ شاعر شاید 'میں' کو استعمال کرنا بھول گیا ہے۔ مجھے تو دونوں صورتوں میں شعر غلط ہی محسوس ہوا۔
۔۔۔
اشک ہوں اور چمکتا ہوں ستارہ بن کر
میری جا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
یا
اشک ہوں اور چمکتا ہوں ستارہ بن کر
گھر مرا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
امان زرگر — اپریل 11، 2018 6:48 شام
محمد ریحان قریشی — اپریل 11، 2018 6:49 شام
اشک ہوں اور چمکتا ہوں ستارہ بن کر
گھر مرا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
یہ والا کچھ بہتر محسوس ہوتا ہے۔ بہتری کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔
امان زرگر — اپریل 11، 2018 6:54 شام
یہ والا کچھ بہتر محسوس ہوتا ہے۔ بہتری کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔
اچھا جی ذرا پالش کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔ اٹھا لاتے ہیں فیروز الغات کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکر ہے اردو ڈاٹ کام بھی ہے وگرنہ تو اف اللہ!
امان زرگر — اپریل 11، 2018 6:58 شام
یہ والا کچھ بہتر محسوس ہوتا ہے۔ بہتری کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔
ویسے ذرا سر
الف عین کا انتظار کر لیں شاید یہی ان کو بھا جائے۔۔۔۔۔
امان زرگر — اپریل 11، 2018 7:04 شام
۔۔۔
اشک ہوں گرچہ چمکتا ہوں ستارہ بن کر
گھر مرا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
یا
گرچہ ہوں اشک، چمکتا ہوں ستارہ بن کر
گھر مرا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
یا
گرچہ دامن میں چمکتا ہوں ستارہ بن کر
گھر مرا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
یا
اِس کے دامن میں چمکتا ہوں ستارہ بن کر
گھر مرا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
امان زرگر — اپریل 12، 2018 9:57 صبح
الف عین — اپریل 13، 2018 5:39 شام
اِس کے دامن میں چمکتا ہوں ستارہ بن کر
گھر مرا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
یہ سب سے بہتر اور رواں ہے میرے خیال میں، جو ضروری نہیں کہ ناقص ہی ہو!
امان زرگر — اپریل 13، 2018 5:55 شام
یہ سب سے بہتر اور رواں ہے میرے خیال میں، جو ضروری نہیں کہ ناقص ہی ہو!
شکریہ سر! آپ کے یہ الفاظ دیکھنے کے لیے صبح سے سینکڑوں بار محفل لاگ ان ہوا ک شاید سر کی طرف سے آراء آ چکی ہو۔۔۔ خوش رہیں۔۔۔!
امان زرگر — اپریل 13، 2018 5:58 شام
۔۔۔
میں جو مدہوش ہوں مدہوش مجھے رہنے دے
چارہ گر! درد کے ہم دوش مجھے رہنے دے
خواہشِ جبہ و دستار نہیں ہے مجھ کو
خاک ہوں زینتِ پاپوش مجھے رہنے دے
جس کے دامن میں چمکتا ہوں ستارہ بن کر
گھر مرا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
ضبط ٹوٹا تو ترا نام زباں پر ہوگا
میں ہوں خاموش تو خاموش مجھے رہنے دے
تیری محفل سے اٹھوں گا تو کدھر جاؤں گا
شاہِ میخانہ! ہوں مے نوش، مجھے رہنے دے
امان زرگر — اپریل 14، 2018 6:22 صبح
ایک مشورہ سر
الف عین ، سر
محمد ریحان قریشی ، سر
محمد وارث
اگر مندرجہ ذیل شعر میں 'اِس' کی جگہ 'جس' کر دیا جائے تو کیا رائے ہے۔
اِس کے دامن میں چمکتا ہوں ستارہ بن کر
گھر مرا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
جس کے دامن میں چمکتا ہوں ستارہ بن کر
گھر مرا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
الف عین — اپریل 15، 2018 5:34 صبح
"جس" سے بات نہیں بنتی ۔ 'اس' ہی بہتر ہے۔
میں ہر وقت تو محفل میں نہیں رہتا۔ دن میں ایک بار آنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اور کل تو کیونکہ کچھ دیر سفر میں تھا، اس لیے نہیں آ سکا۔ آج سعودی عرب سے مخاطب ہوں۔ یہاں تین ماہ رہوں گا پوتا پوتی کے پاس۔
امان زرگر — اپریل 15، 2018 1:58 شام
۔۔۔
میں جو مدہوش ہوں مدہوش مجھے رہنے دے
چارہ گر! درد کے ہم دوش مجھے رہنے دے
خواہشِ جبہ و دستار نہیں ہے مجھ کو
خاک ہوں زینتِ پاپوش مجھے رہنے دے
اِس کے دامن میں چمکتا ہوں ستارہ بن کر
گھر مرا پلکوں کی آغوش، مجھے رہنے دے
ضبط ٹوٹا تو ترا نام زباں پر ہوگا
میں ہوں خاموش تو خاموش مجھے رہنے دے
تیری محفل سے اٹھوں گا تو کدھر جاؤں گا
شاہِ میخانہ! ہوں مے نوش، مجھے رہنے دے
امان زرگر — اپریل 15، 2018 2:01 شام
"جس" سے بات نہیں بنتی ۔ 'اس' ہی بہتر ہے۔
میں ہر وقت تو محفل میں نہیں رہتا۔ دن میں ایک بار آنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اور کل تو کیونکہ کچھ دیر سفر میں تھا، اس لیے نہیں آ سکا۔ آج سعودی عرب سے مخاطب ہوں۔ یہاں تین ماہ رہوں گا پوتا پوتی کے پاس۔
اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔۔۔۔ سعودی عرب میں آپ کے قیام کو اللہ مبارک کرے۔۔۔ اس مقدس سرزمین پر دعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھیئے گا۔