برائے اصلاح و تنقید (غزل 50)

امان زرگر — اپریل 16، 2018 10:36 صبح
۔۔۔
حال اربابِ اثر تک پہنچے
بھیک پھر کاسۂِ سر تک پہنچے

عشق جب ہاتھ میں تیشہ پکڑے
بات اعجازِ ہنر تک پہنچے
چار تنکے ہیں مرا سرمایہ
یہ صدا برق و شرر تک پہنچے
چشمِ تر کے جو صدف سے ٹپکے
رتبہ قطرے کا گہر تک پہنچے
بجھ گیا دیکھ چراغِ سحری
قافلے شب کے سحر تک پہنچے
امان زرگر — اپریل 16، 2018 10:39 صبح
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
الف عین — اپریل 17، 2018 7:14 صبح
درست ہے غزل۔ بس یہ عجز بیان کا شکار ہے
چشمِ تر کے جو صدف سے ٹپکے
رتبہ قطرے کا گہر تک پہنچے
قطرہ جو ٹپکے" کا مطلب پہلے مصرع میں 'قطرہ' لانے سے درست ظاہر ہوتا ہے۔ یوں بھی چشم مونث ہے، صدف کی چشم تر ہونا چاہیے
امان زرگر — اپریل 17، 2018 8:16 صبح
درست ہے غزل۔ بس یہ عجز بیان کا شکار ہے
چشمِ تر کے جو صدف سے ٹپکے
رتبہ قطرے کا گہر تک پہنچے
قطرہ جو ٹپکے" کا مطلب پہلے مصرع میں 'قطرہ' لانے سے درست ظاہر ہوتا ہے۔ یوں بھی چشم مونث ہے، صدف کی چشم تر ہونا چاہیے
سر چشمِ تر کو صدف کہا ہے کہ چشمِ تر کے(کی) صدف سے جو قطرہ ٹپکتا ہے اس کا رتبہ گہر تک جا پہنچتا ہے۔
یا مفہوم بدل دیں تو ان اشکال کو بھی دیکھ لیں۔۔۔۔
چشمِ تر سے جو صدف کی ٹپکے
رتبہ قطرے کا گہر تک پہنچے
یا
چشمِ تر سے جو صدف کی ٹپکے
قطرہ رتبے میں گہر تک پہنچے
یا
چشمِ پرنم سے صدف کی صورت
قطرہ ٹپکے تو گہر تک پہنچے
امان زرگر — اپریل 17، 2018 10:26 صبح
سر محمد ریحان قریشی
محمد ریحان قریشی — اپریل 17، 2018 6:40 شام
چشمِ پرنم سے صدف کی صورت
قطرہ ٹپکے تو گہر تک پہنچے
مجھے یہ بہتر معلوم ہوا۔
فہد اشرف — اپریل 17، 2018 6:59 شام
سر چشمِ تر کو صدف کہا ہے کہ چشمِ تر کے(کی) صدف سے جو قطرہ ٹپکتا ہے اس کا رتبہ گہر تک جا پہنچتا ہے۔
یا مفہوم بدل دیں تو ان اشکال کو بھی دیکھ لیں۔۔۔۔
چشمِ تر سے جو صدف کی ٹپکے
رتبہ قطرے کا گہر تک پہنچے
یا
چشمِ تر سے جو صدف کی ٹپکے
قطرہ رتبے میں گہر تک پہنچے
یا
چشمِ پرنم سے صدف کی صورت
قطرہ ٹپکے تو گہر تک پہنچے
گستاخی معاف
قطرہ گہر تب بنتا ہے جب صدف میں ٹپکتا ہے، یہ بات کسی بھی مصرعے سے ظاہر نہیں ہو رہی ہے۔
امان زرگر — اپریل 18، 2018 2:10 صبح
گستاخی معاف
قطرہ گہر تب بنتا ہے جب صدف میں ٹپکتا ہے، یہ بات کسی بھی مصرعے سے ظاہر نہیں ہو رہی ہے۔
جناب گہر بننے کی بات ہی نہیں یہاں۔
( آنسو کا) قطرہ جب چشمِ تر کے صدف(مؤنث سیپ، مذکر سیپ کی شکل کا ایک پیالہ) سے ٹپکتا ہے تو (اس کا) رتبہ گہر تک جا پہنچتا ہے(مطلب آنسو انمول ہوتا ہے)
عظیم — اپریل 18، 2018 3:50 صبح
جناب گہر بننے کی بات ہی نہیں یہاں۔
( آنسو کا) قطرہ جب چشمِ تر کے صدف(مؤنث سیپ، مذکر سیپ کی شکل کا ایک پیالہ) سے ٹپکتا ہے تو (اس کا) رتبہ گہر تک جا پہنچتا ہے(مطلب آنسو انمول ہوتا ہے)
کیا صرف 'صدف' سے ٹپکنے کی وجہ سے قطرہ گہر کا رتبہ پا رہا ہے ؟ مجھے اس بات کی کمی لگی کہ اس قطرہ کا بہت خاص ہونا کہیں سے ظاہر نہیں ہوتا، صرف چشمِ تر کو صدف کہا گیا ہے ؟ اگر اس کے ٹپکنے کی وجہ بھی بیان کی جائے، یعنی کسی کا دکھ دیکھ کر جو آنسو گرتا ہے وہ گہر کا رتبہ رکھتا ہے وغیرہ، آپ کے بیاں کردہ مضمون میں 'گہر کے رتبے کو کیوں پہنچتا ہے، وہ قطرہ، اس بات کی کمی سی ہے ۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 18، 2018 3:50 صبح
ففٹی پر مبارکباد۔
امان زرگر — اپریل 18، 2018 6:20 صبح
جی بالکل گولڈن جوبلی مکمل ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :) شکریہ
امان زرگر — اپریل 18، 2018 6:22 صبح
کیا صرف 'صدف' سے ٹپکنے کی وجہ سے قطرہ گہر کا رتبہ پا رہا ہے ؟ مجھے اس بات کی کمی لگی کہ اس قطرہ کا بہت خاص ہونا کہیں سے ظاہر نہیں ہوتا، صرف چشمِ تر کو صدف کہا گیا ہے ؟ اگر اس کے ٹپکنے کی وجہ بھی بیان کی جائے، یعنی کسی کا دکھ دیکھ کر جو آنسو گرتا ہے وہ گہر کا رتبہ رکھتا ہے وغیرہ، آپ کے بیاں کردہ مضمون میں 'گہر کے رتبے کو کیوں پہنچتا ہے، وہ قطرہ، اس بات کی کمی سی ہے ۔
جی عظیم بھائی درست فرمایا آپ نے اس طرف توجہ نہیں گئی۔ بہتری لانے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔
امان زرگر — اپریل 18، 2018 7:15 صبح
کیا صرف 'صدف' سے ٹپکنے کی وجہ سے قطرہ گہر کا رتبہ پا رہا ہے ؟ مجھے اس بات کی کمی لگی کہ اس قطرہ کا بہت خاص ہونا کہیں سے ظاہر نہیں ہوتا، صرف چشمِ تر کو صدف کہا گیا ہے ؟ اگر اس کے ٹپکنے کی وجہ بھی بیان کی جائے، یعنی کسی کا دکھ دیکھ کر جو آنسو گرتا ہے وہ گہر کا رتبہ رکھتا ہے وغیرہ، آپ کے بیاں کردہ مضمون میں 'گہر کے رتبے کو کیوں پہنچتا ہے، وہ قطرہ، اس بات کی کمی سی ہے ۔
چشمِ تر کے جو صدف سے پئے غم
قطرہ ٹپکے تو گہر تک پہنچے
کچھ یوں صورت ترتیب پا سکتی ہے۔۔
عظیم — اپریل 18، 2018 8:50 صبح
چشمِ تر کے جو صدف سے پئے غم
قطرہ ٹپکے تو گہر تک پہنچے
کچھ یوں صورت ترتیب پا سکتی ہے۔۔
ابھی بھی بات مکمل نہیں ہو پا رہی، شاید چھوٹی بحر ہونے کی وجہ سے یہ خیال اس میں نہیں سما سکتا ۔
امان زرگر — اپریل 18، 2018 3:00 شام
۔۔۔
لمس کو تیرے بدن یوں ترسے
ابتلا قلب و جگر تک پہنچے
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر عظیم
سر محمد تابش صدیقی
امان زرگر — اپریل 18، 2018 5:34 شام
...
حال اربابِ اثر تک پہنچے
بھیک پھر کاسۂِ سر تک پہنچے
عشق جب ہاتھ میں تیشہ پکڑے
بات اعجازِ ہنر تک پہنچے
چار تنکے ہیں مرا سرمایہ
یہ صدا برق و شرر تک پہنچے
لمس کو تیرے بدن یوں ترسے
ابتلا قلب و جگر تک پہنچے
بجھ گیا دیکھ چراغِ سحری
قافلے شب کے سحر تک پہنچے
محمد ریحان قریشی — اپریل 18، 2018 5:35 شام
۔۔۔
لمس کو تیرے بدن یوں ترسے
ابتلا قلب و جگر تک پہنچے

قابلِ فہم ہے مگر پسند نہیں آیا۔
امان زرگر — اپریل 18، 2018 5:38 شام
قابلِ فہم ہے مگر پسند نہیں آیا۔
کچھ اور کوشش کرتا ہوں جی۔۔۔
امان زرگر — اپریل 18، 2018 6:14 شام
قابلِ فہم ہے مگر پسند نہیں آیا۔
۔۔۔
کب اجل آئے کہ جاں بخشی ہو
درد ہستی کے تو سر تک پہنچے
امان زرگر — اپریل 19، 2018 3:20 صبح
سر چشمِ تر کو صدف کہا ہے کہ چشمِ تر کے(کی) صدف سے جو قطرہ ٹپکتا ہے اس کا رتبہ گہر تک جا پہنچتا ہے۔
یا مفہوم بدل دیں تو ان اشکال کو بھی دیکھ لیں۔۔۔۔
چشمِ تر سے جو صدف کی ٹپکے
رتبہ قطرے کا گہر تک پہنچے
یا
چشمِ تر سے جو صدف کی ٹپکے
قطرہ رتبے میں گہر تک پہنچے
یا
چشمِ پرنم سے صدف کی صورت
قطرہ ٹپکے تو گہر تک پہنچے
سر الف عین
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%BA%D8%B2%D9%84-50.100921/