میں ارشد رشید سے متفق ہوں، میں بھی خواہ مخواہ الفاظ یا مفہوم بدلنے کی کوشش نہیں کرتا الا یہ کہ کوئی فاش علطی ہو یا دفوری کسی ایک لفظ سے بہتر کوئی لفظ فوراً ذہن میں آ جائے ۔ مطلع میں سب سے پہلے مجھے لگا کہ پہلا لفظ یہ کی جگہ "یوں" ہو تو لطف بڑھ جاتا ہے
یوں نہیں ہے، کوئی خودسر...
دوسرا مصرع مجھے اصل بھی قبول ہے،
دوسرا شعر یار کی پوزیشن بدلنے سے بہتر ہو گیا
ایک مدت سے....
بہتر ہو گا میرے خیال میں
یوں نہیں ہے، کوئی خودسر...
دوسرا مصرع مجھے اصل بھی قبول ہے،
دوسرا شعر یار کی پوزیشن بدلنے سے بہتر ہو گیا
مجھے یہ شعر قبول ہے، مبہم ضرور ہے لیکن اتنا بھی نہیں
ارشد رشید سے متفق ہوں
پہلے مصرع کا "اس سے" زیادہ ابہام پیدا کرتا ہے، "اس کے بعد" کر دیں تو درست ہو جائے گا
یہ دونوں مجھے درست لگ رہے ہیں
ہم نے کتنے ہی مکاں دیکھے، مکیں بھی دیکھے
ایک مدت سے....
بہتر ہو گا میرے خیال میں
برتر سے بہتر ہو گیا