برائے اصلاح - زندگی موت کی سرحد پہ بکھر جاتی ہے

فلسفی — جولائی 19، 2019 9:29 صبح
سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے۔
زندگی موت کی سرحد پہ بکھر جاتی ہے
مشت بھر خاک مگر حد سے گزر جاتی ہے / خواہشِ نفس مگر حد سے گزر جاتی ہے
ہجر کی دھوپ میں جل کر جو کلی مرجھائے
وصل کی رات کے آنے پہ نکھر جاتی ہے
یوں تو سب کو ہی سکھاتے ہو قناعت کرنا
خود پہ بنتی ہے تو یہ سوچ کدھر جاتی ہے؟
نشہ طاقت کا اترتا نہیں جب چڑھ جائے
مے پرانی ہو بہت پھر بھی اتر جاتی ہے​

وہ مقام آنکھ سے دیکھا نہیں جاتا یارو!
جس جگہ اہلِ فراست کی نظر جاتی ہے
کیوں مسافر سے الجھتی ہے مخالف بن کر؟
اب جو منزل کی طرف راہگزر جاتی ہے
دل تو پہلے ہی نثار ان پہ کیا ہے ہم نے
جاں بھی دے دیں گے محبت میں اگر جاتی ہے
فلسفیؔ عشق میں ڈوبی ہوئی ہر بات ان کی
سوزِ الفت کی طرح دل میں اتر جاتی ہے​
منذر رضا — جولائی 19، 2019 9:32 صبح
خوب فلسفی صاحب۔ میری رائے میں مشت بھر خاک والا مصرعہ زیادہ بہتر ہے۔ مزید یہ کہ مے پرانی والا شعر غزل کے عمومی معیار سے گرا ہوا لگا۔ باقی بہت خوب۔ عمدہ!
فلسفی — جولائی 19، 2019 9:40 صبح
خوب فلسفی صاحب۔ میری رائے میں مشت بھر خاک والا مصرعہ زیادہ بہتر ہے۔
بہت شکریہ
مزید یہ کہ مے پرانی والا شعر غزل کے عمومی معیار سے گرا ہوا لگا۔
جی بہتر ہے۔ کچھ اور سوجھ نہیں رہا تھا اس بحر کے مطابق۔ متبادل سوچنے کی کوشش کرتا ہوں۔
ارشد چوہدری — جولائی 19، 2019 10:37 صبح
حسبِ روایت بہت خوب
سعید احمد سجاد — جولائی 20، 2019 4:00 صبح
السلام و علیکم! فلسفی بھائی منذر نے اچھا نقطہ پکڑا
دل تو پہلے ہی نثار ان پہ کیا ہے ہم نے
جاں بھی دے دیں گے محبت میں اگر جاتی ہے

فلسفی بھائی اس شعر کا پہلا مصرعہ قاری کی توجہ مبذول کرانے سے قاصر ہے​
سعید احمد سجاد — جولائی 20، 2019 4:03 صبح
سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے۔
زندگی موت کی سرحد پہ بکھر جاتی ہے
مشت بھر خاک مگر حد سے گزر جاتی ہے / خواہشِ نفس مگر حد سے گزر جاتی ہے
ہجر کی دھوپ میں جل کر جو کلی مرجھائے
وصل کی رات کے آنے پہ نکھر جاتی ہے
یوں تو سب کو ہی سکھاتے ہو قناعت کرنا
خود پہ بنتی ہے تو یہ سوچ کدھر جاتی ہے؟
نشہ طاقت کا اترتا نہیں جب چڑھ جائے
مے پرانی ہو بہت پھر بھی اتر جاتی ہے​

وہ مقام آنکھ سے دیکھا نہیں جاتا یارو!
جس جگہ اہلِ فراست کی نظر جاتی ہے
کیوں مسافر سے الجھتی ہے مخالف بن کر؟
اب جو منزل کی طرف راہگزر جاتی ہے
دل تو پہلے ہی نثار ان پہ کیا ہے ہم نے
جاں بھی دے دیں گے محبت میں اگر جاتی ہے
فلسفیؔ عشق میں ڈوبی ہوئی ہر بات ان کی
سوزِ الفت کی طرح دل میں اتر جاتی ہے​
بہت خوب فلسفی بھائی بہت خوب لکھا ہے داد قبول کیجیے
الف عین — جولائی 20، 2019 5:48 صبح
مکمل غزل درست ہے ماشاء اللہ
بس اس شعر میں 'مرجھائے' کا تمنائی صیغہ فٹ نہیں ہو رہا، 'مرجھا چکی ہو' لانا بہتر ہے میرے خیال میں
ہجر کی دھوپ میں جل کر جو کلی مرجھائے
وصل.....
فلسفی — جولائی 20، 2019 6:29 صبح
مکمل غزل درست ہے ماشاء اللہ
بس اس شعر میں 'مرجھائے' کا تمنائی صیغہ فٹ نہیں ہو رہا، 'مرجھا چکی ہو' لانا بہتر ہے میرے خیال میں
ہجر کی دھوپ میں جل کر جو کلی مرجھائے
وصل.....
بہت شکریہ سر
پوری غزل میں مجھے کھٹکا اسی مصرعے کے بارے میں تھا، یہ شعر بھی سب سے آخر میں کہا تھا، گو اس کو مطلع کے بعد رکھا ہے۔ میں اسے بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
فاخر — جولائی 20، 2019 7:01 صبح
عمدہ غزل ہے ماشاء اللہ بہت ہی خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقطع لاجواب ہے ۔بس ’’سوز‘‘ کی جگہ ’’ساز‘‘ ہو جائے تو پھر کیا کہنا نہلے پہ دہلا ہوجا ئے گا ۔ (یہ میرا خیال ہے) :):)
فلسفیؔ عشق میں ڈوبی ہوئی ہر بات ان کی
سوزِ الفت کی طرح دل میں اتر جاتی ہے
سید عمران — جولائی 20، 2019 7:53 صبح
منذر بھائی نکتے پکڑنے میں ماہر ہوتے جارہے ہیں!!!
سید عمران — جولائی 20، 2019 7:54 صبح
یوں تو سب کو ہی سکھاتے ہو قناعت کرنا
خود پہ بنتی ہے تو یہ سوچ کدھر جاتی ہے؟
واہ کیا خوب کہا ہے!!!
سید عمران — جولائی 20، 2019 7:54 صبح
وہ مقام آنکھ سے دیکھا نہیں جاتا یارو!
جس جگہ اہلِ فراست کی نظر جاتی ہے
جی بالکل!!!
انس معین — جولائی 20، 2019 7:54 صبح
بہت عمدہ غزل جناب ۔
سید عمران — جولائی 20، 2019 7:55 صبح
دل تو پہلے ہی نثار ان پہ کیا ہے ہم نے
جاں بھی دے دیں گے محبت میں اگر جاتی ہے
جاں بچی ہے سو وہ بھی دے دیں گے
دل تو پہلے ہی تم پہ وار دیا
بافقیہ — جولائی 20، 2019 8:02 صبح
خود پہ بنتی ہے تو یہ سوچ کدھر جاتی ہے؟
الف عین فلسفی
خود پہ بننا !!! مستعمل ہے؟
سید عمران — جولائی 20، 2019 8:05 صبح
جی ہاں۔۔۔
بقول چچا غالب ؎
میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل
اس پہ بَن جائے کچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے
محمد تابش صدیقی — جولائی 20، 2019 8:27 صبح
جی ہاں۔۔۔
بقول چچا غالب ؎
میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل
اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
کہاں تو شاعروں سے بھاگ رہے تھے۔
اب استادیاں شروع
محمداحمد بھائی، بھاگتے یہ صرف آپ کی شاعری سے ہیں۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 20، 2019 8:28 صبح
بہت خوب عظیم بھائی۔
سید عمران — جولائی 20، 2019 8:33 صبح
کہاں تو شاعروں سے بھاگ رہے تھے۔
اب استادیاں شروع
محمداحمد بھائی، بھاگتے یہ صرف آپ کی شاعری سے ہیں۔
ہمیں یہ خوف کہ وہ ہم سے خفا نہ ہوں جائیں کہیں۔۔۔
اور آپ اس خوف کو یقین سے بدل دیں۔۔۔
ویسے کیا آج آپ کو دفتر کا کوئی کام کاج نہیں؟؟؟
محمد تابش صدیقی — جولائی 20، 2019 8:38 صبح
ہمیں یہ خوف کہ وہ ہم سے خفا نہ ہوں جائے کہیں۔۔۔
اور آپ اس خوف کو یقین سے بدل دیں۔۔۔
ویسے کیا آج آپ کو دفتر کا کوئی کام کاج نہیں؟؟؟
ویک اینڈ۔ :D
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D9%85%D9%88%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%B3%D8%B1%D8%AD%D8%AF-%D9%BE%DB%81-%D8%A8%DA%A9%DA%BE%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92.107706/