محمد تابش صدیقی — اپریل 24، 2017 4:07 شام
اس میں بھی میرا خیال ہے کہ "بھی" کا محل ہے کہ دل میں درد جاگا اور ضبط ٹوٹا تو آنکھ بھی بھر آئی۔
میں کاشف بھائی سے متفق ہوں.
ضبط ٹوٹتا ہے تو آنکھ "ہی" بھر آتی ہے. ضبط ٹوٹنا کہتے ہی اسے ہیں.

الف عین — اپریل 24، 2017 5:54 شام
اور مہکتی ہوئی خوشبو سی تری یاد آئی ہے
تو وزن میں ہی نہیں۔ شاید کاشف کچھ اور لکھنا چاہتے تھے!
آنکھ بھی بھر آئی ہے
میں بھی بھرتی کا تو نہیں لگ رہا مجھے، البتہ عیب تنافر ضرور ہو رہا ہے۔
لاکھ مہتابوں کا محاورہ زیادہ درست ہے بجائے لاکھوں مہتابوں کے۔ یہ مشورہ پسند آیا۔
ذکر ان کا ہو تو اشعار میں ہے حسنِ بیان
بھی درست ہے، اور عزیزی کاشف کا مشورہ بھی۔