برائے کرم اصلاح کیجئے۔۔!

محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 10، 2018 4:36 صبح
آہم، اور جو ہم ایسے مبتدی بھی نہیں، وہ بھی آجائیں اصلاح دینے؟:):p
دیدہ و دل فرشِ راہ
محمد تابش صدیقی — اپریل 10، 2018 4:41 صبح
آہم، اور جو ہم ایسے مبتدی بھی نہیں، وہ بھی آجائیں اصلاح دینے؟:):p
اگر ہماری طرح ڈھیٹ ہوں تو۔ :)
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 10، 2018 4:43 صبح
اگر ہماری طرح ڈھیٹ ہوں تو۔ :)
ماشاءاللہ ،
سبحان اللہ جی سبحان اللہ ،
مولا خوش رکھے ۔
راشد ماہیؔ — اپریل 10، 2018 4:55 صبح
اگر ہماری طرح ڈھیٹ ہوں تو
استاد جی شرمندہ نہ کیجیے
آپ کا تو بہت اہم کردار ہے اس محفل میں
آپ پہ تو جاں نچھاور۔۔۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 10، 2018 4:58 صبح
استاد جی شرمندہ نہ کیجیے
شرمندہ تو آپ نے استاد جی کہہ کر مجھے کر دیا۔
اور اساتذہ کو رنجیدہ۔ :)
آپ کا تو بہت اہم کردار ہے اس محفل میں
محفل میں اہم کردار تو ان کا ہے کہ جنھوں نے یہاں علم و حکمت کے خزانے پروئے ہیں۔ ہم تو گپ شپ کے ذریعے محفل کو چالو رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ :)
آپ پہ تو جاں نچھاور۔۔۔
ایک ہی جان ہے۔
شادی ہو چکی ہے؟
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 10، 2018 5:05 صبح
ہم تو گپ شپ کے ذریعے محفل کو چالو رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ :)
بلاشبہ ،الحمدللہ :)
راشد ماہیؔ — اپریل 10، 2018 5:08 صبح
ہم تو گپ شپ کے ذریعے محفل کو چالو رکھنے کا کام کرتے ہیں
ہمارے لیے تو آپکی گپ شپ ہی اصلاح ہے سرکارو۔
اس کا کیا مطلب جی؟؟
محمد تابش صدیقی — اپریل 10، 2018 5:10 صبح
اس کا کیا مطلب جی؟؟
مطلب یہ کہ آپ کی قیمتی جان کی ضرورت اوروں کو بھی ہو سکتی ہے۔ :)
راشد ماہیؔ — اپریل 10، 2018 5:12 صبح
بس آپ سے بڑھ کے کوئی حقدار نظر نہیں آتا۔۔۔۔
عبید انصاری — اپریل 10، 2018 5:14 صبح
بس آپ سے بڑھ کے کوئی حقدار نظر نہیں آتا۔۔۔۔
افسوس!!تابش بھائی کی شادی ہوچکی ہے۔:)
سو اب تو بالکل ممکن نہیں۔
وہسے بھی امکان نہیں تھا۔:p
راشد ماہیؔ — اپریل 10، 2018 5:20 صبح
پہلے مصرعے میں "جانا ہی ہوگا" کا محل ہے لیکن شاعر کی عجز بیانی سے یہ یہاں ممکن نہیں رہا۔ دونوں مصرعوں میں متکلم بھی بدل گیا ہے، پہلے مصرعے میں تو جانے والا سوچ رہا ہے کہ جانا ہی ہوگا سو تلمیح کے مطابق یہ "سوہنی" سوچ رہی ہے کہ "مہینوال" بلائے گا تو جانا ہی ہوگا مگر دوسرے مصرعے میں آنا ہی ہوگا آ گیا مطلب اب "مہینوال" نے سوچنا شروع کر دیا کہ "سوہنی" کو آنا ہی ہوگا حالانکہ ایک ہی بندہ سوچ رہا ہے کہ اگر یار اُس پار بلائے گا تو جانا ہی ہوگا اور اگر گھڑا کچا بھی ہوا تو پھر بھی "جانا" ہی ہوگا۔ "گر گھڑے" کا ٹکڑا عجب ہی تنافر پیدا کر رہا ہے اور پڑھنے میں انتہائی ثقیل ہو گیا ہے۔
اب دیکھیے گا استادِ محترم!
پار وہ یار بلائے گا تو ماہی میرے
گھڑے چاہے کچے بھی ہوئے جانا ہوگا
محمد تابش صدیقی — اپریل 10، 2018 5:24 صبح
راشد بھائی ایک بات ذہن میں رکھیے۔
شاعری میں روانی بہت اہم ہے۔ قاری کو پڑھنے میں مشکل ہو گی تو اس کا دھیان بیان کردہ مضامین کی جانب نہیں جائے گا اور اکتا جائے گا۔
تکنیکی علم ہونا اچھی بات ہے، مگر محض تکنیکی اعتبار سے درست ہونا کافی نہیں ہے۔
اشعار کی تفصیلی اصلاح پر تو اساتذہ کرام ہی بہتر انداز بات کر سکتے ہیں۔
راشد ماہیؔ — اپریل 10، 2018 5:28 صبح
راشد بھائی ایک بات ذہن میں رکھیے۔
شاعری میں روانی بہت اہم ہے

حضور ابھی تو سیکھ رہے ہیں
تکنیک تو بہتر کر لیں
روانی بھی سیکھ جائیں گے
آپ کے سایہِ شفقت میں
آپ ہیں نا۔۔۔۔۔۔!
محمد تابش صدیقی — اپریل 10، 2018 5:33 صبح
اگر ہماری طرح ڈھیٹ ہوں تو۔ :)
راشد ماہیؔ بھائی۔ آپ کا کانٹا، آپ کی مرضی۔
مگر حقیقت یہی ہے۔ :)
جو احباب یہاں مجھ سے پہلے کے ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ میں نے اپنی تک بندیوں سے پہلے یہاں اصلاحِ سخن کے زمرہ میں چھیڑ چھاڑ شروع کی تھی۔ بلکہ بلا مبالغہ یہ کہوں گا کہ اس وقت یہ گمان بھی نہ تھا کہ خود بھی کچھ لکھ پاؤں گا۔ :)
بلاشبہ اس چھیڑ چھاڑ سے بھی سیکھنے میں مدد ملی۔ :)
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 10، 2018 5:47 صبح
اب دیکھیے گا استادِ محترم!
پار وہ یار بلائے گا تو ماہی میرے
گھڑے چاہے کچے بھی ہوئے جانا ہوگا
ہماری صلاح
راشد بھائی محاوروں کے استعمال کے وقت الفاظ کی ترتیب وہی رکھنی ہوگی جو محاورے میں موجود ہے۔ کچے گھڑے آنا ہوگا کی جگہ گھڑے کچے بھی ہوں آنا ہوگا استعمال نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح جیسے سر کے بل چل کر آنا کے بجائے سر کے ذریعے چل کر آنا نہیں کہہ سکتے یا طوطا چشمی کرنا کی جگہ طوطے کی سی آنکھیں دکھانا نہیں کہہ سکتے۔
عبید انصاری — اپریل 10، 2018 6:01 صبح
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم نے اصلاح سخن کے زمرہ میں اپنی غزل برائے اصلاح شامل کی۔ جب تمام توپوں نے اس غزل پر بمباری شروع کردی تو ہم نے اس غزل کو وہیں چھوڑا اور پتلی گلی سے نکل لیے۔
وہ دن اور آج کا دن۔۔۔۔ ہم سے غزل نہ ہوئی۔
اور یوں ہماری "شاعری" اختتام کو پہنچی۔:)
راشد ماہیؔ — اپریل 10، 2018 6:06 صبح
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم نے اصلاح سخن کے زمرہ میں اپنی غزل برائے اصلاح شامل کی۔ جب تمام توپوں نے اس غزل پر بمباری شروع کردی تو ہم نے اس غزل کو وہیں چھوڑا اور پتلی گلی سے نکل لیے۔
وہ دن اور آج کا دن۔۔۔۔ ہم سے غزل نہ ہوئی۔
یوں ہماری "شاعری" اختتام کو پہنچی۔
بھائی جان کوشش نہی چھوڑنی چاہیے۔۔
کامیابی اکثر نا کامیوں کا مجموعہ ہوتی ہے
رب فرماتا ہے:
لیس للانسان الا ما سعی۔
انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کے لئے وہ کوشش کرے
لئیق احمد — اپریل 10، 2018 6:18 صبح
آپ کی شاعری پڑھ کر فورا یہی ذہن میں آیا تھا تو بے اختیار لکھ دیا، مقصد آپ کی دل آزاری نہیں تھا۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 10، 2018 6:24 صبح
کوشش کریں کہ ایک غزل کو ایک ہی رنگ میں لکھیں۔ :)
راشد ماہیؔ — اپریل 10، 2018 6:29 صبح
کوشش کریں کہ ایک غزل کو ایک ہی رنگ میں لکھیں
جی آئندہ انشااللہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DA%A9%D8%B1%D9%85-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92%DB%94%DB%94.100832/page-2