براے اصلاح

Ali.Alvin — اپریل 24، 2016 7:13 صبح
اسلام و علیکم استاد صاحبان ایک شعر فارسی کا ہے تقطیع کرنے پر صحیع نہیں آتا ہے ہجائے کوتاہ بلند پر جبکہ حساب کرنے پر الفاظ پورے ہے
با ہوا و حال تو من زندگی ہا کرده ام
در قمار عاشقی با زندگی ها کرده ام
اسے عروض سایئڈ پر تقطیع کرنے سے حال اور عاشقی پر سرخ نشان آتا ہے اگر اس کی جگہ اور لفظ استعمال کرے صحیح ہوگا یا کہ اس طرح بھی صحیع ہے؟؟؟
محمد ریحان قریشی — اپریل 24، 2016 11:01 صبح
میرے خیال میں وزن درست ہے مگر شعر میں قافیہ ہی نہیں ہے.
محمد یعقوب آسی — اپریل 24، 2016 11:05 صبح
اسلام و علیکم استاد صاحبان ایک شعر فارسی کا ہے تقطیع کرنے پر صحیع نہیں آتا ہے ہجائے کوتاہ بلند پر جبکہ حساب کرنے پر الفاظ پورے ہے
با ہوا و حال تو من زندگی ہا کرده ام
در قمار عاشقی با زندگی ها کرده ام

اسے عروض سایئڈ پر تقطیع کرنے سے حال اور عاشقی پر سرخ نشان آتا ہے اگر اس کی جگہ اور لفظ استعمال کرے صحیح ہوگا یا کہ اس طرح بھی صحیع ہے؟؟؟
میرا اندازہ ہے کہ شعر نقل کرنے میں کچھ گڑبڑ ہو گئی ہے۔ اس کے متن کی توثیق کر لیں۔ اور اگر شاعر کا نام بھی مل جائے تو کیا ہی اچھا ہو!
محمد ریحان قریشی — اپریل 24، 2016 11:18 صبح
اس طرح لکه کر دیکهیں
با ہوا او حال تو من زندگی ہا کردہ ام
در قمارے عاشقی با زندگی ہا کردہ ام
Ali.Alvin — اپریل 24، 2016 12:33 شام
میرا اندازہ ہے کہ شعر نقل کرنے میں کچھ گڑبڑ ہو گئی ہے۔ اس کے متن کی توثیق کر لیں۔ اور اگر شاعر کا نام بھی مل جائے تو کیا ہی اچھا ہو!
شاعر کا نام عنایت ہے نقل نہیں ان کا اپنا شعر ہے میں نے تقطیع کر کے دیکھا ہے پورا اشعار اسی طرح سے سمجھ نہیں آتا کہ کس طریقے لکھا ہے
Ali.Alvin — اپریل 24، 2016 12:36 شام
اس طرح لکه کر دیکهیں
با ہوا او حال تو من زندگی ہا کردہ ام
در قمارے عاشقی با زندگی ہا کردہ ام
حال تو اور عاشقی میں تقطیع کر کے صحیع نہیں آتا اپنا شعر نہیں ہے اس لیے چینچ نہیں کر سکتا عاش قی حال تو اس جملے پر تھوڑا غور فرمائیں مہربانی
Ali.Alvin — اپریل 24، 2016 12:40 شام
اس طرح لکه کر دیکهیں
با ہوا او حال تو من زندگی ہا کردہ ام
در قمارے عاشقی با زندگی ہا کردہ ام
باهوا وحال تو، من زندگی ها کرده ام
در قمارعاشقی ، بازندگی ها کرده ام
آسمان چشم من پر بوده از ابر بهار
بر فراز گونه ام ، بارندگی ها کرده ام
از رقیبان برتنم صد زخم کاری دیده ام
باسماجت مانده ام ، یکدندگی ها کرده ام
مذهب ودین وثوابم جلوۀ رخسار توست
درطواف کوی تو، من بندگی ها کرده ام
هر کجا بودی به سر افتان وخیزان آمدم
درغل گیسوی تو ، پویندگی ها کرده ام
مرکز شهردلم ویرانه ای بی نور بود
با خیالت در دلم ، سازندگی ها کرده ام
هرکه آمد طعنه ای زد تا که تحقیرم کند
نیش ها خوردم ولی ، پایندگی ها کرده ام
صورتم سرخ است ازسیلی یادت نازنین
زین برازش سالها ، دارندگی ها کرده ام
گرچه در راه وصال تو بسی فرسوده ام
لیک من در این فضا ، بالندگی ها کرده ام
درهماوردی عقل وعشق یک جان برکفم
دررکاب عشق، من، رزمندگی ها کرده ام
میرے خیال میں وزن درست ہے مگر شعر میں قافیہ ہی نہیں ہے
باهوا وحال تو، من زندگی ها کرده ام
در قمارعاشقی ، بازندگی ها کرده ام
آسمان چشم من پر بوده از ابر بهار
بر فراز گونه ام ، بارندگی ها کرده ام
از رقیبان برتنم صد زخم کاری دیده ام
باسماجت مانده ام ، یکدندگی ها کرده ام
مذهب ودین وثوابم جلوۀ رخسار توست
درطواف کوی تو، من بندگی ها کرده ام
هر کجا بودی به سر افتان وخیزان آمدم
درغل گیسوی تو ، پویندگی ها کرده ام
مرکز شهردلم ویرانه ای بی نور بود
با خیالت در دلم ، سازندگی ها کرده ام
هرکه آمد طعنه ای زد تا که تحقیرم کند
نیش ها خوردم ولی ، پایندگی ها کرده ام
صورتم سرخ است ازسیلی یادت نازنین
زین برازش سالها ، دارندگی ها کرده ام
گرچه در راه وصال تو بسی فرسوده ام
لیک من در این فضا ، بالندگی ها کرده ام
درهماوردی عقل وعشق یک جان برکفم
دررکاب عشق، من، رزمندگی ها کرده ام
Ali.Alvin — اپریل 24، 2016 12:41 شام
شاعر کا نام عنایت ہے نقل نہیں ان کا اپنا شعر ہے میں نے تقطیع کر کے دیکھا ہے پورا اشعار اسی طرح سے سمجھ نہیں آتا کہ کس طریقے لکھا ہے
باهوا وحال تو، من زندگی ها کرده ام
در قمارعاشقی ، بازندگی ها کرده ام
آسمان چشم من پر بوده از ابر بهار
بر فراز گونه ام ، بارندگی ها کرده ام
از رقیبان برتنم صد زخم کاری دیده ام
باسماجت مانده ام ، یکدندگی ها کرده ام
مذهب ودین وثوابم جلوۀ رخسار توست
درطواف کوی تو، من بندگی ها کرده ام
هر کجا بودی به سر افتان وخیزان آمدم
درغل گیسوی تو ، پویندگی ها کرده ام
مرکز شهردلم ویرانه ای بی نور بود
با خیالت در دلم ، سازندگی ها کرده ام
هرکه آمد طعنه ای زد تا که تحقیرم کند
نیش ها خوردم ولی ، پایندگی ها کرده ام
صورتم سرخ است ازسیلی یادت نازنین
زین برازش سالها ، دارندگی ها کرده ام
گرچه در راه وصال تو بسی فرسوده ام
لیک من در این فضا ، بالندگی ها کرده ام
درهماوردی عقل وعشق یک جان برکفم
دررکاب عشق، من، رزمندگی ها کرده ام
محمد ریحان قریشی — اپریل 24، 2016 12:51 شام
بحر : رمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
با ہوا او : فاعلاتن
حا لتو من : فاعلاتن
زن دگی ہا : فاعلاتن
کردہ ام : فاعلن
در قما رے:فاعلاتن
عاشقی با : فاعلاتن
زن دگی ہا: فاعلاتن
کردہ ام: فاعلن
Ali.Alvin — اپریل 24، 2016 12:59 شام
بحر : رمل مثمن محزوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
با ہوا او : فاعلاتن
حا لتو من : فاعلاتن
زن دگی ہا : فاعلاتن
کردہ ام : فاعلن
در قما رے:فاعلاتن
عاشقی با : فاعلاتن
زن دگی ہا: فاعلاتن
کردہ ام: فاعلن
اچھا صعیح بھیا
بیا تا یک امشب تماشا کنیم
چو فردا شود فکر فردا کنیم
جناب حافظ شیرازی کا ہے ابھی اسے تقطیع کرنا بھیا
محمد یعقوب آسی — اپریل 24، 2016 1:14 شام
شاعر کا نام عنایت ہے نقل نہیں ان کا اپنا شعر ہے میں نے تقطیع کر کے دیکھا ہے پورا اشعار اسی طرح سے سمجھ نہیں آتا کہ کس طریقے لکھا ہے
نقل سے میری مراد یہ نہیں کہ شاعر نے کسی کی نقل ماری ہے۔
نقل سے عام معانی یہ مراد لئے جاتے ہیں کہ میں کسی کا کوئی فن پارہ کہیں پڑھتا ہوں اور اس کو کسی دوسری جگہ کاپی پیسٹ کر دیتا ہوں۔ جب میں نے عرض کیا کہ نقل کرنے میں گڑبڑ ہوئی تو اس کا مفہوم ہے کہ شعر جیسے لکھا ہوا آپ نے پڑھا، آپ یہاں ویسے نہیں لکھ پائے۔ یہی بات آپ بھی کہہ رہے ہیں کہ "سمجھ نہیں آتا کس طریقے لکھا ہے"۔
شکریہ۔
سید عاطف علی — اپریل 24، 2016 1:20 شام
اچھا صعیح بھیا
بیا تا یک امشب تماشا کنیم
چو فردا شود فکر فردا کنیم
جناب حافظ شیرازی کا ہے ابھی اسے تقطیع کرنا بھیا

بیا تا ۔یکم شب۔ تماشا ۔کنیم​
فعولن ۔فعولن ۔فعولن ۔فعول
چو فردا۔ شود فک ۔رفردا۔ کنیم​
فعولن ۔فعولن ۔فعولن ۔فعول
محمد یعقوب آسی — اپریل 24، 2016 1:22 شام
بحر : رمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

بجا ارشاد، یہ غزل اس بحر میں پوری اترتی ہے۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 24، 2016 1:38 شام
اچھا صعیح بھیا
بیا تا یک امشب تماشا کنیم
چو فردا شود فکر فردا کنیم
جناب حافظ شیرازی کا ہے ابھی اسے تقطیع کرنا بھیا

میں نے یہ شعر یوں پڑھا ہے:
ہمان بہ کہ امشب تماشا کنیم
چو فردا شود فکرِ فردا کنیم
اور اس طرح بھی:
چنان بہ کہ امشب تماشا کنیم
چو فردا شود فکرِ فردا کنیم
۔۔ اور یہ غالباً نظامی گنجوی کا ہے۔ حافظ کے کلام میں مجھے نہیں مل سکا۔ دوسرا مصرع ایک ویب سائٹ کے کہنے کے مطابق ضرب المثل ہے۔
بحر اِس کی درست ہے:
فعولن فعولن فعولن فعول
Ali.Alvin — اپریل 24، 2016 1:39 شام
نقل سے میری مراد یہ نہیں کہ شاعر نے کسی کی نقل ماری ہے۔
نقل سے عام معانی یہ مراد لئے جاتے ہیں کہ میں کسی کا کوئی فن پارہ کہیں پڑھتا ہوں اور اس کو کسی دوسری جگہ کاپی پیسٹ کر دیتا ہوں۔ جب میں نے عرض کیا کہ نقل کرنے میں گڑبڑ ہوئی تو اس کا مفہوم ہے کہ شعر جیسے لکھا ہوا آپ نے پڑھا، آپ یہاں ویسے نہیں لکھ پائے۔ یہی بات آپ بھی کہہ رہے ہیں کہ "سمجھ نہیں آتا کس طریقے لکھا ہے"۔
شکریہ۔
تو تقطیع کرنے پر کیوں غلط شو کرتا ہے
محمد یعقوب آسی — اپریل 24، 2016 1:41 شام
عروض ڈاٹ کام کی بات کر رہے ہیں؟
دراصل فارسی خط اور اردو خط میں تھوڑا سا فرق ہے، اور یہی فرق کمپیوٹر کی غلطی کی وجہ بنتا ہے۔
دوسری بات: عروض ڈاٹ کام بنیادی طور پر اردو کے لئے ہے۔ اس میں فارسی کے وہی الفاظ شامل ہیں جو اردو میں بہت مستعمل ہیں۔
Ali.Alvin — اپریل 24، 2016 1:43 شام
بجا ارشاد، یہ غزل اس بحر میں پوری اترتی ہے۔
بھیا میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے شعر تو صعیح ہے لفظ بھی پورے پورے آتے لیکن اسے تقطیع کرکے میں نے دیکھا سرخ نشان آتا ہے یہ تو میں چینج نہیں کر سکتا البتہ یہ پھوچھ رہا ہوں کہ جس طرح یہ اشعار لکھے ہیں کیا اس طریقے سے لکھ سکھتا ہوں مثال حال تو علیدہ ہے اور عاشقی یکجال
Ali.Alvin — اپریل 24، 2016 1:43 شام
عروض ڈاٹ کام کی بات کر رہے ہیں؟
دراصل فارسی خط اور اردو خط میں تھوڑا سا فرق ہے، اور یہی فرق کمپیوٹر کی غلطی کی وجہ بنتا ہے۔
اچھا بھیا ٹھیگ ہے شکریہ خوش رہنا
Ali.Alvin — اپریل 24، 2016 1:45 شام
میں نے یہ شعر یوں پڑھا ہے:
ہمان بہ کہ امشب تماشا کنیم
چو فردا شود فکرِ فردا کنیم
اور اس طرح بھی:
چنان بہ کہ امشب تماشا کنیم
چو فردا شود فکرِ فردا کنیم
۔۔ اور یہ غالباً نظامی گنجوی کا ہے۔ حافظ کے کلام میں مجھے نہیں مل سکا۔ دوسرا مصرع ایک ویب سائٹ کے کہنے کے مطابق ضرب المثل ہے۔
بحر اِس کی درست ہے:
فعولن فعولن فعولن فعول
بھیا اردو ترجمے کے ساتھ کتاب ہے ایک مرتبہ دیکھ لینا یہی شعر اسی طرح کا لکھا ہے
محمد یعقوب آسی — اپریل 24، 2016 1:50 شام
چنان بہ کہ امشب تماشا کنیم
چو فردا شود فکرِ فردا کنیم
ابھی میں نے یہ شعر وہاں تقطیع کے لئے لکھا تو جواب آیا کہ:
"کوئی مانوس بحر نہیں مل سکی"
یہ پروگرام کی غلطی نہیں ہے، نہ میری نہ شاعر کی، نہ املاء کی۔ اردو اشعار کی تقطیع کے لئے بنا ہوا پروگرام فارسی کو بھی احاطہ کرے، عام حالات میں ایسا نہیں ہوتا (اتفاق سے کہیں ہو جائے تو ہو جائے)۔ کچھ کام انسانوں کے کرنے کے ہوتے ہیں، مشین کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.89527/