معذرت کے ساتھ
مجھے شق ہے اس غزل میںپہلے سے زیادہ غلطیاں ہو گی لیکن پُر امید ہوں بہت شکریہ
میں زندہ مگر زندگی اب نہیں ہے
مری آنکھ میںروشنی اب نہیں ہے
مجھے دشمنی میں سکوں ہی سکوں ہے
میں کیسے کہوں عاشقی اب نہیں ہے
میں تنہا ہی خوش ہوں رہوں گا بھی تنہا
مجھے خواہشِ دوستی اب نہیں ہے
ترے جانے سے وہ بھی چپ ہو گئے ہیں
ہیں دشمن مگر دشمنی اب نہیں ہے
یہ غزلیں یہ نظمیں ترے دم سے تھیں بس
میں کیسے لکھوں شاعری اب نہیں ہے
مرا دل مری جاں ترا ہی ہے سب کچھ
مری زندگی بھی مری اب نہیں ہے
شکریہ
میں سب سے پہلے اساتذہ کرام سے نہایت معذرت خواہ ہوں کہ میں وہ کام کرنے لگا ہوں جس کے میں قطعی قابل نہیں ہوں، اور خرم بھائی سے معذرت چاہتا ہوں کہ میں نے انکی مندرجہ بالا خوبصورت غزل میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں کی ہیں لیکن انکے خیال کو ویسا ہی رکھا ہے، میں ایک بار پھر گذارش کردوں کے میں قطعی طور پر اس کام کے قابل نہیں ہوں، مگر جانے کیوں کر گذرا ہوں۔
خرم بھائی یہ میرا اپنا ایک خیال ہے ضروری نہیں کے آپ ان تبدیلیوں سے متفق ہوں۔ مگر اساتذہ کرام اور خرم بھائی سے گزارش ہیکہ اس پر اپنی قیمتی آراء ضرور دیں۔ شکریہ۔
ہوں زندہ مگر زندگی اب نہیں ہے
رہی آنکھ میںروشنی اب نہیں ہے
سکوں ہی سکوں ہے مجھے دشمنی میں
مجھے خواہشِ دوستی اب نہیں ہے
میں تنہا ہی خوش ہوں، رہوں گا بھی تنہا
کسی سے مری عاشقی اب نہیں ہے
ترے جانے سے وہ بھی چپ ہو گئے ہیں
ہیں دشمن مگر دشمنی اب نہیں ہے
ترے دم ہی سے تھیں وہ نظمیں وہ غزلیں
لکھوں کیا کہ وہ شاعری اب نہیں ہے
مرا دل، مری جاں، یہ سب کچھ ترا ہے
مری سانس بھی تو مری اب نہیں ہے
سرخ کیئے گئے اشعار اور مصرع میں مینے تبدیلی کی ہے ذرا ملاحظہ فرمائیے، اور اپنی رائے دیجیئے۔ شکریہ۔