بالکل صحیح ہے، لا جواب، خوشی اس بات کی ہوئی کہ آپ غور کر رہے ہیں، آپ کا یہ پیغام آپ کے ایڈٹ کرنے سے پہلے میں دیکھ چکا تھا
نہیں گرا سکتے، ماسوائے 'اور' کے جو 2 1 ہے لیکن اسے 'ار' بنا کر 2 بنا لیتے ہیں۔
نوٹ کریں کہ اخفا کا عمل کیوں کرتے ہیں، ظاہر ہے وزن پورا کرنے لیکن یاد رہے کہ حروفِ علت کے گرانے سے صوت اور تلفظ پر کوئی فرق نہیں پڑتا یعنی تیرا کا الف گرا بھی دیں بھی تو تیرَ ہوگا جو تیرا ہی پڑھا جائے گا، عروض میں صوت کا بہت عمل دخل ہے۔ یعنی اخفا میں ایک بڑھے حرفِ علت (الف، و، ی) کو چھوٹے حرفِ علت (زیر، زبر، پیش) سے بدل لیتے ہیں۔ اسی طرح اسکا الٹ عمل اشباع ہے۔ اب کسی حرف صحیح consonant کو گرا کر دیکھیں، مثلاً ساگر کی آخری 'ر' گرا دیں، اسکے بعد جو لفظ باقی رہے گا وہ دریا کو کھیت میں بند کر دے گا
ماشاءاللہ، بہت خوب، مجھے بھی خوشی ہو رہی ہے یہ سب دیکھ کر، بالکل صحیح لکھا آپ نے۔ مشق کیلیئے اب خود ہی اس غزل کے تمام اشعار کی تقطیع کرتے رہیں۔
آپ نے غالب کو حضرت لکھا میرے آنکھوں میں ٹھنڈک اتر آئی۔
اور اب آپ اس قابل بھی ہو گئے ہیں ماشاءاللہ کہ اس بحر میں ایک خوبصورت غزل کہہ سکیں۔
