لیکن وارث باقی اشعار سے بات واضح ہو جاتی ہے کہ قافئے کا مشترک حصہ ’تیں‘ ہے، ایں نہیں۔۔۔ اس لحاظ سے قافیہ غلط ہے۔ یہ ایطا کے ذیل میں ہی آئے گا۔
اور معانی کی تفہیم کے سلسلے میں بھی کچھ ارشاد ہو۔۔
وارث بھائی اور اعجاز صاحب میں آپ کا بیحد ممنوں ہونکہ آپ مجھ پر اتنی توجہ فرما رہے ہیں، وارث بھائی آپ کی پوسٹ کا انتظار ہے، پھر میں اسکا دوبارہ پوسٹ مارٹم کروں گا۔
محبت میںرکھنا حدیں چاہتا ہے
وہ کیسی عجب الفتیں چاہتا ہے
اعجاز صاحب ذرا اس پر دوبارہ ( معنی پر) غور کرنا فرمائیے گا، اور اس طرح کے قافیئے( مطلع) میں، میں مشہور شعرا کے ہاں دیکھ چکا ہوں، مگر کم علمی کی وجہ سے مزید کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔
استاد صاحبان ذرا دوبارہ اس غزل پر نگاہ ڈالیئے گا۔ کیوں کہ یہ میں نے بے بحر سے بحر میں لانے کی ایک کوشش کی ہے اور میری پسندیدہ غزل بھی ہے۔ شکریہ۔
اور ہاں وارث بھائی جو غزل میں نے آپ کو ارسال کی تھی اسمیں، دے کے درد، تھا جو کہ آپ نے غلط بتایا تھا کہ یہاں دے کی ے نہیں گرتی، سو زخم کیا اور وہ بھی فٹ نہیں دوبارہ لفظ تلاش کرتا ہوں۔

اور اے بستی کے مالک، کیا یہاں بھی اے کی " ے" گرانا درست نہیں ہو گا۔ شکریہ۔