محمد رضا سلیم — جنوری 20، 2010 5:15 صبح
ہاں، اب وزن میں تو آ گیا ہے۔ معانی پر غور نہیں کر رہا۔
تو اعجاز صاحب معانی پہ غور کیجئیے اور سمجھائیے نا۔
آپ نہیں سمجھائیںگے تو اور کون سمجھائے گا۔
ليں میں اِسے اصلاحِِ سُخن ميںلے جاتا ہوں۔
محمد رضا سلیم — جنوری 20، 2010 5:17 صبح
تاثیر کچھ نہیں میرے شعر و شرار میں
تاثیر کچھ نہیں میرے شعر و شرار میں
اک لفظ بھی نہیں ہے میرے اختیار میں
نا پختگی ابھی بھی میرےعلم و فن میں ہے
تلوار کی سی کاٹ نہیں میرے وار میں
پہچانتا ہے اب یہ میرا دل ادا شناس
رنگِ جنوں ہے نکہتِ باغ وبہار میں
جتنے بھی خود پسند زمیں پر ہیں دیکھ لو
رہتے ہیں اپنی ذات کے ہی انتظار میں
تابندہ جو ستارہ تھا اپنے نصیب کا
قیدی بنا ہوا ہے عدو کے حصار میں
مانو گے گر نہ بات میری تم تو جان لو
تم بھی نہیں ہو آج سے میرے شمار میں
اندھے بنے ہوئے ہیں رضا سب یہاں پہ لوگ
تو بیچتا ہے آئینہ جن کے بازار میں
محمد اظہر نذیر — جنوری 20، 2010 5:25 صبح
واہ جناب کیا بات ہے جی
محمد وارث — جنوری 20، 2010 5:38 صبح
رضا صاحب، آپ نے دوسرا علیحدہ تھریڈ شروع کر دیا تھا، میں نے دونوں کو یکجا کر دیا ہے اور اسے آپ کے حسبِ منشا اصلاحِ سخن میں رکھ دیا ہے۔
محمد رضا سلیم — جنوری 20، 2010 11:28 صبح
رضا صاحب، آپ نے دوسرا علیحدہ تھریڈ شروع کر دیا تھا، میں نے دونوں کو یکجا کر دیا ہے اور اسے آپ کے حسبِ منشا اصلاحِ سخن میں رکھ دیا ہے۔
وارث صاحب آپ ہی کچھ ارشاد فرما دیجئیے اصلاح کے زمرے میں۔
محمود احمد غزنوی — جنوری 20، 2010 12:02 شام
شرار سے کیا مراد ہے؟۔ ۔ ۔
ویسے اگر یوں کردیا جائے تو کیسا ہے:
تاثیر کچھ نہیں مری طرز و شعار میں
اک لفظ بھی نہیں ہے مرے اختیار میں
الف عین — جنوری 20، 2010 5:36 شام
معاف کرنا میں نے آخری شعر دھیان سے نہیں دیکھا تھا، اس میں ’بازار‘ کا قافیہ بھی غلط ہے، ’بزار‘ بحر میں آتا ہے۔
اس کے علاوہ زیادہ تر ’میرے‘ نہیں ’مرے‘ وزن میں آتا ہے۔
مغزل — جنوری 21، 2010 8:59 صبح
شکریہ بابا جانی ۔
ایم اے راجا — جنوری 21، 2010 9:31 شام
بہت خوب محمد رضا سلیم صاحب خوبصورت نام کی طرح غزل بھی خوب کہی آپ نے داد قبول ہو۔ شکریہ۔
راقم — جنوری 24، 2010 7:28 شام
خوب صورت غزل ہے۔
مجھے تو یہ غزل بہت اچھی لگی۔ وزن اور بحر میں کمی کجی کے بارے میں تو اساتذہ ہی کچھ کہہ سکتے ہیں۔
میں نہیں جانتا کہ یہاں مجھے اپنی رائے دینے کی اجازت بھی ہے کہ نہیں۔ رہنمائی فرمائیے۔
راقم
محمد وارث — جنوری 25، 2010 3:17 شام
اپنی رائے ضرور دیں کہ رائے کیلیے ہی تو موصوف نے یہاں پوسٹ کی ہے
