مجھے لگ رہا ہے کہ رگ جاں میں شاعر نے کسی جواز کے اصول کو برتا ہے۔
مجھے لگ رہا ہے کہ رگ جاں میں شاعر نے کسی جواز کے اصول کو برتا ہے۔
آپ شاید رگِ مینا کی بات کر رہے ہیں، رگِ جاں کی نہیں۔
بجا ارشاد ۔ غالب نے بھی ایسا کیا ہے اور میر نے بھی، فوری طور پر شعر یاد نہیں آ رہے۔
سراج اورنگ آبادی کا یہ شعر دیکھئے: