محمدابوعبداللہ — جولائی 8، 2016 1:48 شام
سر ِدست میں کوئی ایسی مثال تو پیش نہیں کر سکتی لیکن اس کے استمعال میں کچھ مضائقہ بھی نہیں .
کلیات سے ذہن شعری مجموعہ کی طرف مبذول ہوتا ہے جبکہ ایسا ہے نہیں۔
کاشف اسرار احمد — جولائی 8، 2016 7:08 شام
ماشا اللہ۔
بہت عمدہ نعت ہے۔
تفسیرِکلّیات ِقران مصطفؐیٰ ہیں
مخلوق پر خدا کا احسان مصطفؐیٰ ہیں
خیرالوریٰ ، خطیبِ دیں، حاملِ رسالت
فوق البشر ، نبوت کی شان مصطفؐیٰ ہیں
درگاہ ِعلم و حکمت ہے آپ ہی سے قائم
اسباقِ رمزِ حق کا عنوان مصطفؐیٰ ہیں
حاشر ، مبین ، طیب،صادق ،امین ،کامل
احمد ،نبی ٰ ، محمد، فرقان مصطفؐیٰ ہیں
روزِ جزا میسر ہو آبِ حوضِ کوثر
اندوہِ روح و جاں کا درمان مصطفؐیٰ ہیں
تقلید ِمجتبیٰ ہے فردوس کی ضمانت
نورِ حدیث، کنزالایمان مصطفؐیٰ ہیں
الف عین — جولائی 9، 2016 1:49 صبح
ترمیم شدہ نعت بہتر تو ہے، لیکن پہلی بات تو یہ کہ ’کلیات‘ کہنا کچھ عجیب سا ہے، چاہے غلط نہ ہو۔ اس لئے اس سے احتراز بہتر ہے۔ اس کے علاوہ ’کلیاتے‘ کی تقطیع بھی اچھی نہیں۔
دوسری بات۔ جو ویسے درست ہے لیکن پسندیدہ نہیں۔ وہ یہ کہ یہ بحر دو حصوں میں ہے۔ مفعول فاعلاتن، مفعول فاعلاتن۔ اس میں یہ بہتر سمجھا جاتا ہے کہ ایک ہی حصے میں بات مکمل ہو، لیکن یہاں کم از کم مصرع ثانی ہر جگہ نا مکمل بات پر مبنی ہے۔
La Alma — جولائی 9، 2016 6:31 شام
ترمیم شدہ نعت بہتر تو ہے، لیکن پہلی بات تو یہ کہ ’کلیات‘ کہنا کچھ عجیب سا ہے، چاہے غلط نہ ہو۔ اس لئے اس سے احتراز بہتر ہے۔ اس کے علاوہ ’کلیاتے‘ کی تقطیع بھی اچھی نہیں۔
دوسری بات۔ جو ویسے درست ہے لیکن پسندیدہ نہیں۔ وہ یہ کہ یہ بحر دو حصوں میں ہے۔ مفعول فاعلاتن، مفعول فاعلاتن۔ اس میں یہ بہتر سمجھا جاتا ہے کہ ایک ہی حصے میں بات مکمل ہو، لیکن یہاں کم از کم مصرع ثانی ہر جگہ نا مکمل بات پر مبنی ہے۔
شکریہ سر .
کلیاتِ یہاں فاعلاتن کے وزن پر ہے
کل لِ یا تے ..
اگر کلیاتِ قران کی ترکیب غیر مناسب ہے تو پھر مصرع میں ترمیم ہی بہتر ہے .