فاتح — جنوری 10، 2010 5:52 شام
کیا ستم ہے --فاعلاتن-- کہ تم چلو--مفاعلن-- چالیں--فعلن
جا نتا ہو --فاعلاتن-- کہ بات ہے --مفاعلن-- چھپانی--فعلن
چھپانی بر وزن فعلن نہیں بلکہ بر وزن فعولن ہوتا ہے۔ یعنی
متحرک ۔ متحرک ۔ ساکن ۔ متحرک ۔ ساکن
چُ ۔۔۔۔ پَ ۔۔۔۔ ا ۔۔۔۔ نِ ۔۔۔۔ ی
فَ ۔۔۔۔ عُ ۔۔۔۔ و ۔۔۔۔ لُ ۔۔۔۔ ن
مغزل — جنوری 10، 2010 6:31 شام
برادرِعزیز محمد اظہر نذیر ، ماشا اللہ ، بہت خوب کوشش ، جاری رکھیے ، ماشا اللہ ،
محمد اظہر نذیر — جنوری 10، 2010 8:46 شام
ہم کہاں اور تم کہاں جاناں
ہم عیاں اور تم نہاں جاناں
کیا ستم ہے کہ تم چلو چالیں
چھوڑتے ہی نہیں نشاں جاناں
مانتا ہوں حسابِ جاں ہو گا
کچھ یہاں اور کچھ وہاں جاناں
جانتا ہوں کہ بات ہے اَن کہی
کیسے کر دوں میں اب بیاں جاناں
ڈر رہا تھا بہار سے اظہر
دیکھ پت جھڑ کی اب خزاں جاناں
اَن--فع-- کہہ--لن--
ایسے ٹھیک ہے کیا جنابِ عالی
والسلام
اظہر
ابن سعید — جنوری 10، 2010 9:10 شام
چال چلتے ہو ایسی خوبی سے دوست
سفر کرتے کرتے اس حالت کو پہونچ گیا۔
کیا ستم ہے کہ تم چلو چالیں
جب کہ اگر پہلی شکل میں سے "دوست" خارج کر دیا جاتا تو معنویت بھی خوب ہوتی اور وزن بھی قائم رہتا۔ بہر کیف سیکھنے کا یہ تدریجی عمل بہت ہی خوب ہے۔ اب تک محفل میں ایک ہی شعر اتنے مرحلوں سے گزرا ہو ایسا مجھے نہیں یاد پڑتا۔ ہاں شاید ان دنوں جب برادرم خرم شہزاد خرم اور برادرم ایم اے راجہ صاھبان زانوئے تلمیذ تہہ کیئے ہوئے بیٹھے ہوتے تھے تب ایسا سماں دیکھنے کو ملتا تھا۔
محمد اظہر نذیر — جنوری 11، 2010 3:53 صبح
مکرمی جناب ابن سعید صاحب،
چا--فا
ل--ع
چل--لا
تے--تن
ہ--م
اے--فا
س--ع
خ ب-لن
سے؟؟
یہاں فعلن کیسے آیے گا؟ از راہِ کرم تفصیل سے بتایے گا
والسلام
اظہر
الف عین — جنوری 11، 2010 8:50 صبح
میں بتا دیتا ہوں
چا--فا
ل--ع
چل--لا
تے--تن
ہ--م
اے--فا
س--ع
خو۔۔لن
بی ۔۔فع
سے ۔۔ لن
مسئلہ یہ ہوا کہ خوبی میں مکمل طویل آوازیں ہیں، خو ۔۔۔ بی۔۔ ان میں واؤ تو گرایا ہی نہیں جا سکتا، اور اگر چہ ’ی‘ گرائی جا سکتی ہے، لیکن یہاں گرانے کی کیا ضرورت؟
یہی صورت تبدیل شدہ مصرعے کی ہے۔ جس میں ’ان کہی‘ کر دیا گیا ہے، اور تقطیع میں خود اظہر نے ’ان کہہ‘ بر وزن فعلن بنایا ہے۔ یہاں بھی اس صورت میں ’ی‘ کا گرانا جائز نہیں۔ یہاں میں ایک مدد کر دیتا ہوں، کہ مصرع ’ان کہی بات ہے‘ سے شروع کریں۔ یعنی ’فاعلاتن، مفا‘ سے۔ مصرع مکمل کر لو۔
ابن سعید — جنوری 11، 2010 9:01 صبح
مکرمی جناب ابن سعید صاحب،
چا--فا
ل--ع
چل--لا
تے--تن
ہ--م
اے--فا
س--ع
خ ب-لن
سے؟؟
یہاں فعلن کیسے آیے گا؟ از راہِ کرم تفصیل سے بتایے گا
والسلام
اظہر
محترم بھائی مجھے یہ افعال تفعیل کی جانکاری تو نہیں ہے بس گنگنا کے دیکھتا ہوں اگر ادھر ادھر نہیں ہوتا تو ٹھیک ورنہ کچھ گڑبڑ سمجھتا ہوں۔
مغزل — جنوری 11، 2010 9:16 صبح
شکریہ بابا جانی ۔
محمد اظہر نذیر — جنوری 11، 2010 10:01 صبح
ہم کہاں اور تم کہاں جاناں
ہم عیاں اور تم نہاں جاناں
چال چلتے ہو ایسی خوبی سے
چھوڑتے ہی نہیں نشاں جاناں
مانتا ہوں حسابِ جاں ہو گا
کچھ یہاں اور کچھ وہاں جاناں
اَن کہی بات ہے ذرا بولو
کیسے کر دوں میں اب بیاں جاناں
ڈر رہا تھا بہار سے اظہر
دیکھ پت جھڑ کی اب خزاں جاناں
الفاظ ایسے نہیں کہ اس علم کا احاطہ کر سکیں جو یہاں سیکھنے کو مل رہا ہے، اور تحمل اور برداشت اساتزہ کرام کی لاءقِ صد تحسین ہے
امید واثق ہے کے میری کمزوریوں کے باوجود اصلاح جاری رہے گی
والسلام
اظہر
الف عین — جنوری 11، 2010 5:34 شام
اب کم از کم اوزان خطا نہیں ہو رہے ہیں۔ مبارک ہو۔
محمد اظہر نذیر — جنوری 11، 2010 5:46 شام
آستادِِ محترم،
یہ سب آپ کی توجہ اور اصلاح کی وجہ سے ہے
مشکور و ممنون
والسلام
اظہر
مغزل — جنوری 11، 2010 7:04 شام
اب کم از کم اوزان خطا نہیں ہو رہے ہیں۔ مبارک ہو۔
بھئی واہ کیا اچھا ہے ، بہت خوب ، نیا محاورہ مل گیا ، بابا جانی۔ واہ
محمد اظہر نذیر — جنوری 12، 2010 12:47 شام
آستادِ گرامی،
اگر کچھ وضاحت اس امر کی ہو جائے کہ کہان کسی لفظ کو گرانا ہے اور کہاں نہیں تو بارِ احسان میں کچھ اضافہ تو ہو جاتا لیکن اس کے ساتھ ہمارے علم میں کچھ اضافہ ہو جاتا
والسلام
اظہر
الف عین — جنوری 12، 2010 5:26 شام
محمود۔۔۔ یہ در اصل شارق مستقیم کا جملہ ہے یہاں محفل میں کہیں استعمال کیا تھا۔ کاپی رائٹ نہیں تھا اس لئے میں نے کاپی کر لیا۔ اوسان کی طرح اوزان خطا ہونے کی بات اچھی لگی تھی!!
اظہر۔۔ عروض کے معاملے میں وارث سے سبق سیکھو، مجھے تو عروض آتی نہیں۔ من آنم کہ من دانم۔ بس عملی طور پر کہیں کہیں لگتا ہے کہ یہاں یہ حرف غلط گر رہا ہے۔ تھیورٹکلی اس کے کیا رہنما اصول ہیں، اس کے لئے وارث پر میں بھی منحصر رہتا ہوں۔
محمد اظہر نذیر — جنوری 12، 2010 5:53 شام
جناب وارث صاحب
رہنمائی کی درخواست ہے، آپ کے کچھ مضامیں پڑھے ہیں لیکن آن میں تفصیل اس احوال کی نہ ملی
مغزل — جنوری 12، 2010 7:41 شام
شکریہ بابا جانی ۔، اب تو ہم دھڑلے سے یہ محاوہ باندھیں گے ۔