ایک (نثری قسم کی) نظم لکھنے کی جسارت کی تھی۔۔۔ اساتذہ رہنمائی فرمائیں، اگر یہ کسی بحر میں فٹ ہو سکتی ہے تو۔۔۔ اور وزن کو بھی ناپ تول کر بتا دیں کہ کہاں کہاں اغلاط ہیں؟ تم مجھ سے بات کرو،
جب مجھ سے چاہو بات کرو،
کوئی خواب بنو، تعبیر چنو،
ہر لمحے کو تصویر کرو،
جو راہیں تم کو تکتی ہیں،
ان راہوں پہ بھی ساتھ چلو،
تم جب تک چاہو ساتھ چلو،
جب بازی ہے ہی مات، چلو، اس دل کی ویراں بستی میں،
امّید کا گھر تعمیر کرو،
شمّع نہ سہی، روشن بھی نہیں،
اور ہمت عالیشان نہیں،
آنکھوں میں مگر ہے جاگ رہی،
خوابوں کی چمک اور دیدہ وری،
جب دل کی گلی خالی ہے پڑی،
تم آؤ اسے آباد کرو،
اے کانچ کی گڑیا، دل کی پری،
تم بیتے دن تو یاد کرو،
آؤ تو سہی، اب ڈرنا نہیں،
تم مجھ سے آ کے بات کرو،
اور جب تک چاہو ساتھ چلو۔۔
ابن سعید — جنوری 20، 2009 5:57 شام
بھئی میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ بلوا لیجئے کانچ کی گڑیا کو۔ کہیں چبھے گی تو چیختے پھریئے گا۔ زبردست امین بھائی۔
محمد امین — جنوری 20، 2009 6:15 شام
کانچ کی گڑیا چبھے گی تو تب نا کہ جب وہ ٹوٹ جائے گی۔۔۔تو اسے ٹوٹنے کون دیگا؟؟؟ ;-) اور بھائی یہ یہاں تعریف کروانے کے لیے نہیں پوسٹ کی تھی۔۔۔
محمد امین — جنوری 20، 2009 6:18 شام
وارث بھائی ناراض ہیں کیا؟؟
مغزل — جنوری 21، 2009 7:02 صبح
امین بھیا کہیں کہیں آزاد نظم کی پابندی سے انحراف کیا ہے آپ نے ۔
ویسے نظم آزاد ہے اس میں ردھم ہے بحر ہے ۔ ہاں مگر کئی مصرعے وزن سے خارج ہیں۔
اس طرف توجہ دیں ۔ والسلام
الف عین — جنوری 21، 2009 4:04 شام
محمود۔۔ کئی مصرعے؟؟ مجھے تو صرف ایک ہی مصرع لگ رہا ہے اور وہ بھی شمع کے مشہورِ عام غلط تلفظ کے باعث۔ یہ ’شمّا‘ کی طرح تقطیع ہوا ہے۔ اصل میں ع پر جزم ہے۔ فعلن نہیں، فعل ہے اصل میں۔ یا اعدادی نظام میں۔ 21، جب کہ 22 نظم کیا گیا ہے۔
باقی کچھ مصرعوں میں الفاظ کی نشست اچھی نہیں لگ رہی۔ ان کا سوچیں۔
آنکھوں میں مگر ہے جاگ رہی،
اور
جب دل کی گلی خالی ہے پڑی،
دوست — جنوری 21، 2009 4:33 شام
بڑے بھائی بھی آپ کی طرح مبتدی ہوں۔ اور مبتدیانہ مشورہ یہ ہے کہ پہلے تقطیع کرنا سیکھیں، بحروں کی موٹی موٹی باتیں سیکھ لیں۔ اس کے بعد اپنی شاعری کو خود جامے میں لانے کی کوشش کریں۔ تبھی آپ کو آئے گا۔ اور آئندہ کے لیے بھی ردھم میں شعر کہیں گے۔ ویسے میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ کہنے کے بعد خود اس کی کانٹ چھانٹ کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، اسی خیال کو الفاظ بدل کر بیان کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے میرے لیے تو۔ اور اساتذہ تو تصحیحکردیںگے لیکن اس کا مجھے کیا فائدہ ہوگا یہ چیز مجھے مجبور کرتی ہے کہ پہلے خود اسے سیکھوںاور پھر ردھم میں نظم یا غزل کہوں۔
آداب بابا جانی ۔ تم مجھ سے کوئی بات کرو،
ان راہوں پہ (پر ) بھی ساتھ چلو،
شمّع ( شمعا -- نشاندہی آپ کر چکے ہیں ) نہ سہی، روشن بھی نہیں، یقیناً میں غلطی پر ہوں گا ۔ مجھے عروض کا کچھ خاص علم نہیں ۔ مگر لکنت محسوس ہورہی ہے۔
امید ہے آپ میری رہنمائی کیجیے گا۔
والسلام
امین بھیا کہیں کہیں آزاد نظم کی پابندی سے انحراف کیا ہے آپ نے ۔
ویسے نظم آزاد ہے اس میں ردھم ہے بحر ہے ۔ ہاں مگر کئی مصرعے وزن سے خارج ہیں۔
اس طرف توجہ دیں ۔ والسلام
محمود۔۔ کئی مصرعے؟؟ مجھے تو صرف ایک ہی مصرع لگ رہا ہے اور وہ بھی شمع کے مشہورِ عام غلط تلفظ کے باعث۔ یہ ’شمّا‘ کی طرح تقطیع ہوا ہے۔ اصل میں ع پر جزم ہے۔ فعلن نہیں، فعل ہے اصل میں۔ یا اعدادی نظام میں۔ 21، جب کہ 22 نظم کیا گیا ہے۔
شکریہ استاد محترم۔۔۔ شمع کو میں نے شمّا ہی نظم کرنے کی کوشش کی تھی، یہی سوچ رہا تھا کہ غلط نہ ہوجائے، چلیے میں اسکو دیکھوں گا انشاءاللہ۔ باقی اوزان کی نشاندہی بھی میں نے نوٹ کرلی ہے۔۔ ایک مرتبہ پھر شکریہ
بڑے بھائی بھی آپ کی طرح مبتدی ہوں۔ اور مبتدیانہ مشورہ یہ ہے کہ پہلے تقطیع کرنا سیکھیں، بحروں کی موٹی موٹی باتیں سیکھ لیں۔ اس کے بعد اپنی شاعری کو خود جامے میں لانے کی کوشش کریں۔ تبھی آپ کو آئے گا۔ اور آئندہ کے ل۔۔۔۔
آداب بابا جانی ۔ تم مجھ سے کوئی بات کرو،
ان راہوں پہ (پر ) بھی ساتھ چلو،
شمّع ( شمعا -- نشاندہی آپ کر چکے ہیں ) نہ سہی، روشن بھی نہیں، یقیناً میں غلطی پر ہوں گا ۔ مجھے عروض کا کچھ خاص علم نہیں ۔ مگر لکنت محسوس ہورہی ہے۔
امید ہے آپ میری رہنمائی کیجیے گا۔
والسلام
تم مجھ سے کوئی بات کرو، 211222222 ان راہوں پہ بھی ساتھ چلو، 211222222
محمد امین — جنوری 22، 2009 2:17 شام
مغل بھائی مگر پھر بھی جیسا کہ اعجاز انکل نے فرمایا، کئی جگہوں پر الفاظکی نشست ٹھیک نہیں۔۔۔
الف عین — جنوری 22، 2009 5:06 شام
تم مجھ سے کوئی بات کرو
تو درست ہے۔ اس میں کہاں غلطی ہے محمود
’پہ‘ بجائے ’پر‘ کے اکثر لوگ لکھتے ہیں۔اور یہاں ’پہ‘ بھی فع کے طور پر باندھتے ہیں۔ جو فصیح نہیں لیکن درست تو ہے۔ (ویسے میں نے اسے ’پر‘ ہی پڑھا تھا!!)
یہی کہنا چاہ رہا تھا بھیا کہ اولیٰمصرع میں ’’ کوئی ‘‘ میں نے لکھا ہے آپ کی سطر میں نہیں تھا۔
باقی ’’ پر ‘‘ والا معاملہ بھی بابا جانی نے حل کردیا ۔ بہت شکریہ ۔
والسلام
تم مجھ سے کوئی بات کرو
تو درست ہے۔ اس میں کہاں غلطی ہے محمود
’پہ‘ بجائے ’پر‘ کے اکثر لوگ لکھتے ہیں۔اور یہاں ’پہ‘ بھی فع کے طور پر باندھتے ہیں۔ جو فصیح نہیں لیکن درست تو ہے۔ (ویسے میں نے اسے ’پر‘ ہی پڑھا تھا!!)
بہت شکریہ بابا جانی ۔
مصرع اولی میں ’’ کوئی ‘‘ کی نشاندہی میں نے کی ہے ۔ امین کی سطر میں’’ کوئی ‘‘ نہیں ہے ملاحظہ کیجیے ۔
’’ پر ‘‘ والی بات پر آپ کی کا مطمحِ نظر مجھ پر واضح نہیں ہو سکا اس کی وضاحت کردیں ’’ پر ‘‘ ٹھیک ہے جو میں نے کہا
یا ’’ پہ ‘‘ ٹھیک ہے جو امین نے استعمال کیا ہے ۔؟؟
والسلام
تم مجھ سے بات کرو،
جب مجھ سے چاہو بات کرو،
کوئی خواب بنو، تعبیر چنو،
ہر لمحے کو تصویر کرو،
جو راہیں تم کو تکتی ہیں،
ان راہوں پہ بھی ساتھ چلو،
تم جب تک چاہو ساتھ چلو،
جب بازی ہے ہی مات، چلو، اس دل کی ویراں بستی میں،
امّید کا گھر تعمیر کرو،
شمّع نہ سہی، روشن بھی نہیں،
اور ہمت عالیشان نہیں،
آنکھوں میں مگر ہے جاگ رہی،
خوابوں کی چمک اور دیدہ وری،
جب دل کی گلی خالی ہے پڑی،
تم آؤ اسے آباد کرو،
اے کانچ کی گڑیا، دل کی پری،
تم بیتے دن تو یاد کرو،
آؤ تو سہی، اب ڈرنا نہیں،
تم مجھ سے آ کے بات کرو،
اور جب تک چاہو ساتھ چلو۔۔
’’ پر ‘‘ والی بات پر آپ کی کا مطمحِ نظر مجھ پر واضح نہیں ہو سکا اس کی وضاحت کردیں ’’ پر ‘‘ ٹھیک ہے جو میں نے کہا
یا ’’ پہ ‘‘ ٹھیک ہے جو امین نے استعمال کیا ہے ۔؟؟
والسلام
ارے قبلہ بمشکل تمام تو "نہ" اور "کہ" پر بحث تھمی تھی کہ آپ از سرِ نو "پہ" کا قصہ لے بیٹھے ہیں۔[/QUOTE قبلہ اسے آپ میری جہالت سے تعبیر کیجیے، یہاں سیکھنے کو آتا ہوں ، سوال تو کروں گا ۔
کہیے تو ہم خموش ہو کر گھر بیٹھ جاتے ہیں ۔ نہ یہاں آئیں گے نہ سوال اور بحث ہوگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والسلام
قبلہ اسے آپ میری جہالت سے تعبیر کیجیے، یہاں سیکھنے کو آتا ہوں ، سوال تو کروں گا ۔
کہیے تو ہم خموش ہو کر گھر بیٹھ جاتے ہیں ۔ نہ یہاں آئیں گے نہ سوال اور بحث ہوگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والسلام
حضور! اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ گھر پر خموش ہو کر بیٹھ پائیں گے؟
بندہ پرور! آیندہ مذاق کرتے ہوئے قوسین میں (مذاق) لکھ دیا کروں گا بلکہ مذاق کیا ہی قوسین کے اندر کروں گا۔
اب خدارا اس مراسلے کے پہلے جملے کو بھی قوسین میںہی تصور کیجیے گا۔ہاہاہاہا
حضور! اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ گھر پر خموش ہو کر بیٹھ پائیں گے؟
بندہ پرور! آیندہ مذاق کرتے ہوئے قوسین میں (مذاق) لکھ دیا کروں گا بلکہ مذاق کیا ہی قوسین کے اندر کروں گا۔
اب خدارا اس مراسلے کے پہلے جملے کو بھی قوسین میںہی تصور کیجیے گا۔ہاہاہاہا