اضافت والا حرف مثلا نقشِ کا شے یک رکنی اور دو رکنی دو طرح جائز ہوتا ہے۔ آپ یہ بات کیوں نہیں سمجھ رہیں کہ ء کی اضافت صرف ان الفاظ کے ساتھ لگتی ہے جو الف ، ہ یا ی پر ختم ہوتے ہیں
آپ نے میرے علم میں اضافہ کیا ہے اور اس کو آپ نے پہلے واضح نہیں کیا تھا مگر میں ایک اور مثال دینا چاہوں گی
نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
لیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں
ہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھنا
ترے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں
اِدھر بھی توسنِ اقدس کے دو قدم جلوے
تمہاری راہ میں مُشتِ غبار ہم بھی ہیں
کھلا دو غنچۂ دل صدقہ باد دامن کا
اُمیدوارِ نسیمِ بہار ہم بھی ہیں
تمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
پڑئے ہوئے تو سرِ رہ گزار ہم بھی ہیں
جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضور
تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں
یہ کس شہنشہِ والا کا صدقہ بٹتا ہے
کہ خسروئوں میں پڑی ہے پکار ہم بھی ہیں
ہماری بگڑی بنی اُن کے اختیار میں ہے
سپرد اُنھیں کے ہیں سب کاروبار ہم بھی ہیں
حسنؔ ہے جن کی سخاوت کی دُھوم عالم میں
اُنھیں کے تم بھی ہو اک ریزہ خوار، ہم بھی ہیںیہاں پر ۔۔۔۔۔۔ہ' کو دیکھیں دو رنگ کیے ہیں ۔۔۔سرخ رنگ میں ''ہ '' کے ساتھ کسرہ کا استعال نہیں جبکہ شہنشہ والا میں اور غنچہ دل میں کسرہ کا استعمال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بارے کیا کہیں گے
اس کے افاعیل
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن ۔۔ہیں
کچھ اور مثالیں بھی ہیں میں دیتی ہوں کم از کم مجھے اس گفتگو سے مزہ آرہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔