لاجواب بخدا دل خوش ہوا گیا ، شکریہ ادا کرنا ممکن نہیں ۔
تپاکِ جاں سے طرزِ ستم گری کے نہ رہنے کا کیا مطلب ہے؟
مجھے تپاکِ جاں کی ترکیب قطعی طور پر حشو معلوم ہوئی ہے یہاں۔
تپاکِ جاں کو ڈیڈیکیشن کے معنوں میں برتا ہے نامعلوم درست یا غلط
رمز اور طرز وغیرہ تو مذکر استعمال ہوتے ہیں۔ نگاہ متفق علیہ طور پر مؤنث ہی ہے۔ اگر کوئی نظیر مذکر کی اساتذہ کے ہاں ہے تو پیش کرو۔
اگر گستاخی پر محمول نہ کریں تو مجھے یہ کہنا ہے کہ یہاں آپ سے تسامح ہوا میں نے نگار کہا ہے جو متفق علیہ طور پر مزکر ہے نظیر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ، اساتذہ کو میں نے نہیں پڑھا جون ایلیا کا مصرع یاد آتا ہے
بزم سے جب نگار اٹھتا ہے
بجز کے بعد کہ اور پھر خارِ مغیلاں ہے اور پھر ہو جراحتِ دل۔ نحوی مار ڈالیں گے تمھیں کسی دن۔
غالبؔ کے دور تک اردو اتنی صاف نہیں ہوئی تھی۔ ان کی جانب سے ایسی باتیں گوارا کی جا سکتی ہیں۔ مگر داغؔ کے بعد اس طرزِ کلام کا کوئی جواز نہیں رہا۔ جو گناہ غالبؔ نے اس لیے کیے کہ وہ داغؔ کے پیشرو تھے، وہ تمھیں معاف نہیں کیے جائیں گے۔
ٹائیپو ہے کہا یوں ہے
بجز کہ خارِ مغیلاں سے ہو جراحتِ دل
نحویوں کی ایسی تیسی "یہ ہماری زبان ہے پیارے"

گستاخی معاف اسے درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں
عباد نے 'غالباً' یہاں
مگر کو
شاید کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔
-
بہت عمدہ شعر۔ بہت اچھا خیال۔ بہت اچھے طور پر کہا ہے
شکریہ
غالبؔ نے ایک جگہ کچھ ایسا بھی کہا تھا کہ جہاں کہیں تقطیع میں الف دبتا ہے تو گویا میرے سینے میں ایک تیر لگتا ہے۔ مرشد کی پوری نہ سہی، کچھ اتباع اس معاملے میں بھی کرو۔ انھوں نے کا اور تھا کے علاوہ شاید ہی کہیں الف گرایا ہو
اس میں ہمدم بھی بھرتی کا ہے یہ شعر نکال دیا!!
بہت خوب صورت۔مگر کلاسیکی رنگ ہے۔ مجھ ایسوں کو تو پسند آئے گا مگر زمانہ رد کر دے گا۔ اب یہ مت کہنا کہ زمانے کی مجھے پروا نہیں۔ میں صرف اپنے لیے شعر کہتا ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔
مجموعی طور پر تمھارا رنگِ سخن نہایت پختہ ہے۔ رشک آتا ہے۔ تمھارے والدین اور علاقے کو تم پر ایک دن فخر ہو گا۔ انشاء اللہ!
---
بہتر
اب بتاؤ، آئندہ بھی مجھے بلاؤ گے؟

اگر زحمت نہ ہو تو میں تو آئندہ ہو تکبندی میں آپ کو ٹیگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں
